وہ جو آپ اپنی مثال تھا

یہ تحریر 322 مرتبہ دیکھی گئی

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاعروں، ادیبوں اور عالموں کی پوری ایک نسل، جو ہمارے لیے باعثِ افتخار تھی، یکے بعد دیگرے رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ مظہر محمود شیرانی بھی چل بسے۔ وہ ہمارے درمیان موجود تھے تو یہ اطمینان رہتا تھا کہ اگر کسی قلمی یا مطبوعہ کتاب میں کوئی لفظ سمجھ میں نہ آئے تو اپنے شیرانی صاحب تو ہیں ہی۔ وہ فوراً مشکل حل کر دیں گے۔ اب سوچتا ہوں کہ اگر کوئی دشواری پیش آئے تو کس سے رجوع کیا جائے؟ یقیناً معدودے چند حضرات آج بھی پاکستان میں ایسے ہوں گے جن کے علم و فضل سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ سب، خورشید رضوی صاحب کے سوا، میرے ریڈار سے باہر ہیں۔

شیرانی خاندان کا تعلق افغانستان کے اس علاقے سے ہے جو کوہِ سلیمان کے آس پاس واقع ہے۔ مظہر محمود شیرانی کے جدِ امجد، حاجی چاند خاں، سید احمدؒ  شہید کے مریدوں میں سے تھے اور انھوں نے بالاکوٹ کے معرکے میں حصہ لیا تھا۔ بعد میں ان کا خاندان ٹانک  میں آباد ہو گیا۔ دادا، حافظ محمود شیرانی، عظیم محقق تھے اور والد اختر شیرانی، نامور شاعر۔ مے نوش تھے۔ یہ بات محمود شیرانی کو ناگوار تھی۔ انھوں نے اختر شیرانی سے قطع تعلق کر لیا۔ تاہم ملحوظ رہے کہ اختر شیرانی محض شاعر نہ تھے۔ خاصے عالم فاضل تھے اور محمود شیرانی، اپنی ناراضگی کے باوجود، کبھی کبھار کسی نکتے کی وضاحت کے لیے ان سے مدد لیتے تھے۔ مظہر محمود شیرانی نے اپنے دادا کی پیروی کرنی پسند کی۔ بطور محقق اپنا لوہا منوایا۔ اردو اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔ شعر بھی خوب کہہ سکتے تھے لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے صرف مرنے والوں کے مادہ ہائے تاریخ نکالتے اور نظم کرتے تھے۔ مسلسل تین نسلوں میں علم و ادب کی یہ فراوانی شاذ ہے۔ خورشید رضوی صاحب نے صحیح لکھا ہے کہ “شخصیت کی ایسی گوناگونی، دل کی ایسی فراخی، اس درجے کا علم و فضل اور ایسی انسان دوستی اب کہاں ملے گی۔”

مظہر محمود شیرانی ایک مدت گورنمنٹ کالج، شیخوپورہ، سے وابستہ رہے۔ اسی وابستگی کے پیشِ نظر کالج نے اپنے رسالے “مرغزار” کا ایک خصوصی نمبر مظہرمحمود شیرانی کی یاد میں شائع کیا ہے۔ زیادہ مضامین اردو میں ہیں لیکن پنجابی، فارسی اور انگریزی میں بھی ان کی شخصیت اور علم و فضل کو سراہا گیا ہے۔ انھیں یاد کرنے والوں کے تاثرات تو شامل ہی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ خصوصی نمبر متعدد رنگین تصاویر سے آراستہ ہے۔ یہ ایسی کاوش ہے جس کے لیے کالج کے پرنسپل، حافظ ثنا اللہ اور وائس پرنسپل، امان اللہ بھٹی ،داد کے مستحق ہیں۔

ان کے تدوینی، تنقیدی اور تحقیقی کارناموں کا جائزہ لینا یہاں مقصود نہیں۔ مقالاتِ حافظ محمود شیرانی کی دس جلدیں اور “حافظ محمود شیرانی اور ان کی علمی و ادبی خدمات” کی دو جلدیں ان کی بے مثال لیاقت کی گواہ ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد مضامین ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر وہ چاہتے تو فکشن بھی بہت اچھا لکھ سکتے تھے۔ ان کے خاکوں پر فکشن کا لیبل تو چسپاں نہیں کیا جا سکتا لیکن فکشن کے جو لوازمات ہیں یعنی مشاہدے کی باریکی، بیانیے میں موجود ہم آہنگی، دل کا گداز اور انسان دوستی، جو مساوات کی طرف جھکاؤ سے مزین تھی، سب کے سب ان خاکوں میں بکھرے نظر آتے ہیں۔ اگر وہ طنز و مزاح کی طرف توجہ دیتے تو ان کا شمار مشتاق احمد یوسفی، ابن انشا اور کرنل محمد خاں جیسے مشاہیر میں ہو سکتا تھا۔ جو خاکے انھوں نے قلم بند کیے ان میں سے بعض کا شمار اردو کے چنیدہ خاکوں میں کیا جانا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ وہ قاضی عبدالودود یا رشید حسن خاں کی طرح روکھے نہ تھے۔ زندگی بسر کرنے کے ان کے انداز میں جو بے ساختہ شگفتگی نظر آتی ہے وہ دل کو بھاتی ہے۔ ان کے کئی لطائف اور خوش مزاجی کی کئی مثالیں “مرغزار” میں شامل مضامین میں موجود ہیں۔ ایک پر یہاں اکتفا کرتا ہوں۔

“شیخوپورہ کالج میں ان کے ایک کولیگ زد و کوب کو زود کوب کہتے تھے۔ شیرانی صاحب نے انھیں کبھی نہ ٹوکا۔ ایک مرتبہ کلاس میں کسی طالب علم نے انھیں کہہ دیا کہ یہ زد و کوب ہوتا ہے۔ انھوں نے شیرانی صاحب سے پوچھا کہ یہ زد و کوب ہوتا ہے یا زود کوب؟ شیرانی صاحب سمجھ گئے کہ گرفت ہو چکی ہے۔ پوچھا: معاملہ کیا ہے؟ تفصیل سن کر بڑے اطمینان سے کہا کہ اگر تو تسلی سے پٹائی ہوئی ہے تو زد و کوب ہے اور اگر ایک دو تھپڑ لگا کر بھاگ گیا تو پھر زود کوب ہے۔”

یادوں کا ایک جہان تھا جس سے ہم محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے اکیاون تحقیقی مقالات ہیں۔ کسی عقیدت مند کو یہ سب مقالات یکجا کر کے کتابی صورت میں شائع کر دینے چاہییں۔ ان کی یکجائی سنجیدہ قارئین کے نعمت سے کم نہ ہوگی۔

مرغزار: ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی نمبر

ناشر: گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج، شیخوپورہ

صفحات: 394