وہ اک شام جو ٹھہر گئی (طنز و مزاح)

یہ تحریر 184 مرتبہ دیکھی گئی

کہا جاتا ہے کہ زندگی کے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ تمام عمر کے لیے ساکن ہو جاتے ہیں اور کچھ شامیں ٹھہر جاتیں ہیں۔ مگر مجھے یہ جملہ کبھی سمجھ نہ آیا کہ شام ٹھہر جانے کے کیا معنی۔ میں اکثر یہ بڑ ہانکا کرتا تھا کہ “بھئی کوئی سر پھرا فلاسفر ہو گا جس نے یہ گپ اڑائی ہو گی”۔ پھر یوں ہوا کہ ایک شام آئی، آئی کیا ٹھہر گئی اور ریشے ریشے میں ہلکے نیلے سبز رنگ کی مانند سرایت کر گئی۔
یونی ورسٹی میں دوست کم، اور گدا گر زیادہ ہوتے ہیں۔ گدا گر سے آپ کوئی خراب معنی ذہن میں نہ لائیے گا، میری مراد ان لوگوں سے ہے جو ہر وقت نوٹس مانگنے کی سہی میں رہتے ہیں۔ مگر میرے تئیں معاملہ قدرے مختلف ہے۔ میرے دوست صرف دوست نہیں، بلکہ دوست کم اور نیم سر پھرے زیادہ ہیں۔ مگر میں انہیں سر پھرا کہنے سے گبھراتا ہوں۔ خدا معاف کرے وہ کوئی دہشت گرد قسم کے لوگ نہیں، جن سے ڈرا جائے۔ گبھراہٹ صرف اس بات کی ہے کہ کہیں وہ اپنی ایسی صفتی تعریف سن کر نیم پاگل نا ہو جائیں اور مجھے اپنی خوبی کا نشانہ نا بنا بیٹھیں۔ ہائے یہ میں کن باتوں میں الجھ گیا۔ میں تو آپ سے بات کچھ اور کرنے آیا تھا مگر معاملہ دوسری سمت کو چل نکلا۔ اس سے پہلے کہ یہ معاملہ قصہ میں تبدیل ہو، آپ کو، اندرون لاہور کی سیر کروائے دیتے ہیں۔
ایک صبح یونی ورسٹی گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دن بڑا نکھرا ہوا اور سورج بڑا شفاف نکلا ہے۔ اس پر ہلکی ہلکی ہوا، عطر بکھیرتی چار سو مہک رہی ہے۔ سوچا آج کہیں نکلا جائے۔ کوئی سفر کیا جائے تاکہ اتنے حسین دن کو ضائع کرنے اور دھندلا ہونے سے بچایا جا سکے۔
بات کرنے کی دیر تھی کہ چھ سات لونڈے لپاڑی جھٹ تیار ہوئے اور بات، اندرون لاہور دیکھنے کی ٹھہری۔ یہ قصہ موقوف کرتے ہوئے کہ یونی ورسٹی سے دہلی گیٹ تک کا سفر کیسے طے ہوا، آپ کو سیدھا دہلی گیٹ پر لیے چلتے ہیں۔ یہاں یہ عرض کرنا لازم ہے کہ اگر آپ اندرون لاہور کی تاریخ جاننا چاہتے ہیں تو اس تحریر کو یہی چھوڑ دیں اور کوئی ڈھنگ کا کام کریں۔ میں نہ ہی تاریخ دان ہوں اور نہ ہی مورخ۔ میں تو ادھر ادھر کی ہانک کر کہیں کھو جاؤں گا اور آپ کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔
ہاں تو پھر ہم دہلی گیٹ سے شاہی حمام پہنچے اور وہاں سے اس گلی کی نکڑ تک بھاگے بھاگے گئے جس کے متعلق مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا کہ “لاہور کی بعض گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ اگر ایک طرف سے عورت آ رہی ہو اور دوسری طرف سے مرد تو درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش بچتی ہے۔” یعنی ہمارا منشا بھی یہی تھا کہ سامنے سے ایک دوشیزہ آ رہی ہو اور ادھر سے ہم گلی میں پھیلے چل رہے ہوں۔ یہ خواہش پوری تو نہ ہوئی مگر ہوا یہ کہ آگے سے ایک پچاس سال سے کچھ پرے کی آنٹی نے داخل ہو کر مشتاق احمد یوسفی کے جملے کا رمز ہم پر ضرور کھول دیا۔ شاید کچھ اور بھی کھل جاتا مگر اس مقام کے آنے سے پہلے وہ آنٹی ایک گھر میں داخل ہو چکی تھی۔
کچھ لمحے بعد ہم نے خود کو عثمان کی بیٹھک میں پایا۔ بیٹھک کا دروازہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ ہم سینہ تان کر داخل ہوتے، اور نہ ہی اتنا چھوٹا کہ پہلے ٹانگیں اندر لے جانا پڑتیں اور پھر باقی دھڑ اندر جاتا۔ درمیان کی کوئی کیفیت تھی، اس لیے سر جھکانے کو ترجیح دی۔
ہم عثمان کو مغل دربار کا وزیر خاص سمجھ رہے تھے کہ اس کی بڑی قدر و منزلت رہی ہو گی، دروازے پر ہاتھی جھولتے ہوں گے جو اس کی بیٹھک اتنی مشہور ہے۔ مگر جب معلوم ہوا کہ عثمان زندہ ہے بلکہ اچھا خاصہ زندہ ہے تو ہاسا پڑ گیا۔
وہاں سے نکلے تو شاہی قلعہ جا دھمکے۔ ہوا ہمارے ساتھ تھی اور دن کی دوشیزگی پہلے سے کہیں زیادہ نکھر گئی تھی۔ شاہی قلعہ کیا ہے، اس کا جواب مجھ سے بہتر گوگل پر سے مل جائے گا۔ باقی وہاں کچھ زیرِ زمین سرنگیں ہیں ہمارا ایک دوست جو پٹھان ہے بلکہ اب تو اسے پنجابی کہنا چائیے۔ اس کا ثبوت وہ پنجابی گالیاں بلکہ غلیظ مہذب گالیاں ہیں جو اسے سمجھ آ جاتی ہیں۔ بہرحال وہ دوست ان سرنگوں میں گھس گیا اور ہمیں للکارا۔ ہم اپنا ہوش بھول، اس طرف کو دوڑے جہاں سے آواز برآمد ہوئی تھی۔ آگر آپ یہ سمجھے ہیں کہ خود کو بھول کر آواز کی سمت بھاگنے کے پیچھے یہ رمز ہے کہ کہیں دوست مصیبت میں نا ہو، تو آپ غلط سمجھے ہیں۔ ہم تو اس وجہ سے بھاگے تھے کہ کہیں ایسا نا ہو کہ اسے کسی حسینہ کی روح نے دبوچ لیا ہو اور ہم اس لذت سے محروم رہ جائیں۔ خیر وہاں سے جیسے تیسے نکلے وہ یا تو خدا جانتا ہے یا وہ لوگ جو شریف نہیں ہوتے۔
اصل دو رنگی تو شاہی مسجد میں دیکھی۔ ایک تو رب کا گھر، اوپر سےاس کی پاکیزگی کی چمک، تیسرا ہم زمانے سے اکتائے ہوئے، اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی نوادرات کی زیارت کرنے کے لیے بلا رہا ہے بلکہ چلّا رہا ہے کہ “تھوڑا وقت باقی ہے بس پھر آپ اس لمحہ سے محروم ہو جائیں گے”
ہم دوڑے دوڑے سڑھیاں چڑھنے لگے تاکہ نوادرات کی زیارت سے کہیں محروم نہ ہو جائیں۔ جب تمام نوادرات کی زیارت کر چکے تو آخری زیارت اس گلک کی کروائی گئی جس پر لکھا تھا” پیسہ ہاتھ کی میل ہے، یہاں میل اتار کر ہاتھ صاف کریں۔ ” تھوڑے بہت ہاتھ صاف کرنے کے بعد جب ہم دوبارہ صحن میں آئے تو ایک بورڈ پر نظر پڑی، لکھا تھا “زیارت کے اوقات صبح آٹھ سے اذانِ مغرب تک”۔ ہم چونک اٹھے، سمجھ آیا کہ لمحہ سے محرومی کا اصل مطلب وائلٹ میں موجود پیسہ سے محرومی تھی تو ہم دنیا بھول کر رب سے کہنے لگے یا خدا “انہیں اٹھا”۔
شام ڈھلنے لگی، چاند ابھرنے لگا اور ہوا میں قدرے سختی اتر آئی تو ہم حویلی سے کھانا کھانے پہنچے۔ وہاں کا کھانا کیا ہی لزیز تھا کا ثبوت وہ بل ہے جو آپ سے شئیر نہیں کیا جاسکتا۔ مگر وہاں موجود ایک گلوکار نے ہماری فرمائش پر غلام علی خاں کی گائی ہوئی غزل
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
صرف ایک بار ملاقات کا موقع دے دے
ایسی گائی کہ ہوا ٹھہر گئی، تارے جھک گئے اور چاند حویلی پر اتر آیا۔
شاید آپ جانتے ہوں مگر پھر بھی آپ سے شئیر کیے دیتا ہوں کہ اگر آپ نے کسی کے ذوق کا اندازہ لگانا ہو تو یہ دیکھو کہ کیا وہ چائے پیتا ہے۔ اگر جواب ہاں میں آئے تو شاید وہ بندہ باذوق ہو سکتا ہے۔ ہم بھی اسی کیٹیگری والے لوگ ہیں، اور چائے کا ذوق رکھتے ہیں۔ لہٰذا کھانے کے بعد کسی دوسرے ہوٹل سے چائے پینے کی ٹھانی۔ وہاں پہنچے اور برجمان ہوتے ہی شعر و شاعری کی محفل جما بیٹھے۔ چائے نوش کیے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ شعروں کا لطف لیے جاتے تھے۔ ایک دوست نے کسی شاعر کا یہ شعر پڑھا
کیا کیا منظر دیکھے میں نے کیسی جگہوں میں گھوما
کن لوگوں میں بیٹھا یہ منظر بھی یاد آئے گا
سب دوست پھڑک اٹھے کہ کیا ہی شام کی مناسبت سے شعر ہے، مگر اس چہک اور ہنسی کے پیچھے آنسو جھلملا رہے تھے کہ آج کی شام ڈھل نہ جائے کہیں۔ وقت گزر گیا اور ایک نیا دن نئی روشنی لے آیا مگر وہ شام ہمارے اندر کہیں ٹھہر گئی۔