ولادی میر پراپ اور داستان کی شعریات

یہ تحریر 167 مرتبہ دیکھی گئی

(17اپریل1895۔ 22 اگست1970)

ولادی میر پراپ (Vladimir Propp) ۱۷ اپریل ۱۸۹۵کو روس کے شہر سینٹ پیٹرس برگ میں پیدا ہوا۔ روسی ادب میں پراپ کی شہرت ایک دانشور اور ادبی نقاد کے طور پر ہے۔ ہیئت اور لوک کہانیاں پراپ کی دلچسپی کے خاص دائرے ہیں۔پراپ نے سینٹ پیٹرس برگ یونیورسٹی میں زبان اور فلسفے میں خاص دلچسپی ظاہر کی اور جرمن اور روسی زبان کے ساتھ فلسفہ بھی اختیاری مضمون کے ساتھ پڑھا۔

پراپ کی مشہور کتاب Morphology of the Folktale جب چھپی تو اس کتاب نے ہیئت اور لوک داستانوں کی تنقید میں انقلاب برپا کر دیاجس سے لیوی سٹراس اور رولاں بارتھ جیسے ہیئت کے پارکھ بہت متاثر ہوئے۔مغرب میں ۱۹۵۰تک اس کتاب کا کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔ جب سنِ مذکور میں اس کا ترجمہ انگریزی زبان میں سامنے آیا تو لوگوں کو اس کتاب سے شناسائی حاصل ہوئی اورپھر اس کتاب کے چرچے ہونے لگے۔ اس کتاب کی مدد سے میڈیا یعنی فلم اور ٹی وی کے کرداروں کو اطلاقی تنقید کی روشنی میں پرکھا گیا۔ یعنی جو اُصول پراپ نے وضع کیے تھے ایک کہانی کی بنت میں انھیں عملی سطح پر استعمال کیا گیا۔۱۹۳۲میں پراپ لینن گرڈ یونیورسٹی(سابق سینٹ پیٹرس برگ)میں استاد بن گیا۔۱۹۳۸کے بعد پراپ نے اپنی تحقیق کا رخ لسانیات سے لوک داستانوں کی طرف موڑدیا۔ پراپ نے لوک داستانی ادب کو نصاب کا حصہ بنوایا اور ۲۲اگست ۱۹۷۰یعنی اپنی وفات تک پراپ داستانی ادب کے شعبے کا صدر رہا۔

پراپ نے روسی زبان میں ہیئت کی اہمیت پر بہت غور و فکر کیا جس کے نتیجہ میں خا ص طور پر پراپ بیانیے کی ہیئت کو متعین کرنے میں جتا رہا۔پراپ نے جملے کو توڑ کر اسے اجزا میں تقسیم کیا اور پھر ان اجزا کی ہیئت کو جاننے کی کوشش کی۔ اس نے اس علم کا اطلاق پریوں کی کہانیوں پر کیا جس سے اسے خاطر خواہ نتائج ملے۔ داستانوں پر کثرت سے ان اصولوں کے استعمال نے پراپ کو اس منزل پر پہنچایا کہ اس نے اتنے بڑے علم کے سمندر کو ایک برتن یعنی ۳۱ مراحل میں تقسیم کر دیا۔ داستان کی بنت میں یہ عوامل غیر متبدل محسوس ہوتے ہیں۔

۱۔            گھر کا ایک فرد گھر چھوڑ دیتا ہے۔(ہیرو کا تعارف)

                یہ بات تمام داستانوں میں بعض استثنائی صورتوں کو نکال کر مشترک نظر آتی ہے۔  یعنی کہانی کی طوالت اور حیرت عطا کرنے کی غرض سے کردار در بدری اختیار کرلیتا ہے۔ یہ در بدری مسائل اور مشکلات سے پُر ہوتی ہے جو ہیرو کی باطنی کائنات کی تہذیب کے کام آتی ہے چونکہ وہ بادشاہ کا بیٹا ہوتا ہے اس لیے اس کی تلاش میں لشکر کے لشکر نکل آتے ہیں جس سے داستان نویس، داستان کا پیٹ بھرتا ہے۔

۲۔           ہیرو کے لیے کچھ چیزیں ممنوعہ قرار دی جاتی ہیں (یہاں جاؤ، یہ نہ کرو)

                داستان میں کوئی مسیحا ایسا آتا ہے جو ہیرو کو بعض جگہوں پر جانے سے روکتا ہے کہ تم نے یہ پھل کھایا تو تمھاری کایا کلپ ہو جائے گی، تم پتھر کے بن جاؤگے۔ کئی طرح کے ڈراوے جو ہیرو کی بہتری یا تباہی کے لیے ہوتے ہیں۔

۳۔           ممنوعہ چیزوں کی نفی کی جاتی ہے (ولن کہانی میں داخل ہوتا ہے)

                داستان کا دائرہ وسیع کرنے کی غرض سے ہیرو کو جن جگہوں یا کاموں سے روکا جاتا ہے ہیرووہی اعمال سرانجام دیتا ہے۔ اس عمل سے داستان آگے بڑھتی ہے اور کہانی کا دائرہ مکمل ہوتا ہے۔

۴۔           ولن ہیرو کی خفیہ حرکات جاننے کے لیے اپنا جاسوس متعین کرتاہے تاکہ بعد میں حملہ کرے۔ ولن اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہیرو پر کڑی نظر رکھتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ کون سا وقت ہو جب ولن ہیرو کونہتاپاکرحملہ کر کے یا اس کے نہفتہ رازوں سے واقفیت حاصل کرے۔

۵۔    ولن شکار یعنی ہیرو سے متعلق معلومات حاصل کرتاہے۔

۶۔           ولن ہیرو کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی جائیداد حاصل کرے یا اس سے وابستہ چیزیں حاصل کرے۔

                 ولن کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شکار یعنی ہیرو کو ناکام کرے۔ یہ ناکامی مالی بھی ہو سکتی ہے اور جانی بھی۔ داستانوں میں ولن سائے کی طرح ہیرو کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔اس مقصد کی تکمیل کے لیے ولن دھوکہ دینے کی غرض سے بھیس بدلتا ہے تاکہ اس کو ہیرو کا اعتماد مل جائے اور کسی بھی وقت و ہ اپنا مقصد پورا کر لے۔

۷۔           دھوکے کا شکار ہیرو غیر دانش مندی سے اپنے دشمن کی مدد کر تا ہے ہیرو جب دھوکہ کھا جاتا ہے تونادانی میں اپنے ہی دشمن کے کاموں میں مدد دینا شروع کردیتاہے جو کہ اسے مارنے کے در پے ہے۔ اس سے داستان پُراسرار بن جاتی ہے اور قاری کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے کہ کب یہ اس کے شکنجے سے نکلے گا۔

۸۔           ولن ہیرو کے خاندان کے کسی ایک فرد کے لیے نقصان پہنچانے یا زخمی کرنے کا باعث بنتا ہے،اغوا کرکے،ہیرو کی طلسمی طاقت چھین لیتا ہے، بادشاہ کے جانشیں کو خراب کرتا ہے۔ فصلیں خراب کرتا ہے، شکلیں بدل کر لوٹ مار کرتا ہے، غیاب کا باعث بنتا ہے۔ کسی پر جادو کر دیتا ہے کسی کو رہا کر دیتا ہے۔ متبادل بچہ جانشین بنا کر وغیرہ وغیرہ۔قتل کا ارتکاب کرتا ہے۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کسی کو قید کرتا ہے۔ زبردستی کی شادی پر مجبور کرتا ہے، طویل اذیتیں پہنچاتا ہے۔متبادل کے طور پر ہیرو کے خاندان سے متعلق کسی ایک فر د میں کوئی کمی واقع ہو جاتی ہے اور زہر کھانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ ولن کے فریب اور اذیتوں کی فہرست کتنی لمبی ہے جس میں قید، جبر، بربادی غرض کیا شامل نہیں جو وہ اپنے مخالف یعنی ہیرو کی بربادی کے لیے حربے استعمال کر رہا ہے ان کی نوعیت کتنی تلخ ہے۔

۹۔           بد قسمتی کی تشہیر کر دی جاتی ہے۔ (ہیرو کو قتل کر دیا جاتا ہے)اس کے وارث مدد کے لیے پکارتے ہیں یا جیل کی قید سے آزاد کرنے کے بعد دور بھیج دیا جاتا ہے۔

                رعایا کے حوصلے پست کرنے کے لیے سردار کی موت کی تشہیر کر دی جاتی ہے۔ تاکہ رعایا کمزور ہو جائے اور اپنے فیصلوں میں تیقن سے عاری ہو کر مایوس اور پژمردہ بن جائے تاکہ بعد میں اس حالت میں، ان پر قبضہ کرنا آسان ہو۔

۱۰۔         وارث اس صورت حال پر یا توراضی ہوکر بیٹھ جاتے ہیں یا جوابی حملے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

                وارث ہیرو کے قتل کی افواہ سن کر اگر خود میں کمزوری محسوس کریں تو بیٹھ جاتے ہیں ورنہ حملے کے لیے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔

۱۱۔          ہیرو گھر چھوڑ دیتا ہے۔ہیرو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے۔ اس سے لوگوں کو تسلی ہوتی ہے اور ان کا کھویا ہوا حوصلہ واپس آجاتا ہے۔

۱۲۔         ہیرو کو پرکھا جاتا ہے۔ سوال کیے جاتے ہیں۔ حملہ کیا جاتا ہے۔ یعنی ایسی فضا بنائی جاتی ہے کہ کس طرح ہیرو ا س کا پیر مرد مدد کرتا ہے۔

                دشمن ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ میرے دشمن یعنی ہیرو کی ذہنی استعداد کیا ہے۔ اس کی مدد کون کرتا ہے اور کن طریقوں سے کرتا ہے۔

۱۳۔         ہیرو اپنے دشمن کے خلاف رد عمل ظاہر کرتا ہے جو اس کے مستقبل کے لیے مقابلہ کرتا ہے یا چال کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔ مخالفین سے مصالحت کرتا ہے۔اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ اپنی مخالفانہ طاقت کا استعمال کرتا ہے۔

                یہ اب ہیرو کے کارنامے ہیں کہ اپنے مخالف یعنی ولن کو کیسے زچ کرتا ہے۔ اس کا مقابلہ کرتا ہے یا بن لڑے اس کا حربہ ناکام بنا دیتا ہے یا پھر اپنا غلام بنا دیتا ہے۔

۱۴۔         ہیرو پیرمرد کو استعمال میں لاتے ہوئے براہ راست منتقل ہونا، واقع ہونا، خریدنا، تیار کرنا۔ ایک ہی آن میں ظاہر ہونا۔ کھانا پینا، دوسرے کرداروں سے امداد پیش کرنا، تدبیریں۔ پیر مرد سے مدد حاصل کرنا۔

                ہیرو چونکہ داستان کا مرکزی کردارہوتا ہے اس لیے وہ ضرورت پڑنے پر پیر مرد کو پکارتا ہے جو فی الفور پہنچ کر ہیرو کی حاجت روائی کرتا ہے اور آن ہی آن میں ہیرو کو بلا سے چھٹکارا مل جاتا ہے اور داستان کا اگلا سفر شروع ہوتا ہے۔

۱۵۔         پیر مرد کو منتقل کردیا جاتا ہے اور کھوج کے سراغ اس کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں۔

                ہیرو جب ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر کے پہنچتا ہے یا اسے چشم زدن میں وہاں پہنچا دیا جاتا ہے اور کھوج کے تمام سراغ بتا دئیے جاتے ہیں۔

۱۶۔          ہیرو اور ولن کے د رمیان براہ راست مقابلہ ہوتا ہے۔

۱۷۔         ہیرو امر ہو جاتا ہے۔ نشان بن جاتا ہے، علامت بن جاتا ہے اور انعام کے طور پر اسے زخم کا نشان، انگوٹھی یا سکارف ملتا ہے۔

                ظاہر ہے جب ولن اورہیرو کا مقابلہ ہوگا تو شکست ولن کو ہوگی اور ہیرو کی پہچان یا فتح کے نشان کے طور پر ہیرو کو درج بالا چیزیں عطاہوتی ہیں۔

۱۸۔         ولن کو شکست ہو جاتی ہے،مقابلے میں مارا جاتا ہے، مقابلے میں شکست ہو جاتی ہے یا پھر سوتے میں مارا یا غائب کر دیا جاتا ہے۔ ولن کا انجام کرب ناک دکھانا ہوتا ہے کیوں کہ داستان میں ہیرو پر جو مصیبتیں ٹوٹتی ہیں تو قاری ان سے ایک جذباتی یا حسی قربت محسوس کرتا ہے، بعد میں جب ان اذیتوں کو پہنچانے والے کی باری آتی ہے تو جذبہئ انتقام زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔

۱۹۔          ابتدائی بد سلیقگی کا معاملہ حل ہو جاتا ہے،تلا ش کے مقاصد تقسیم ہو جاتے ہیں، جادو کا اثر ٹوٹ جاتا ہے، واجب القتل بحال کر دیا جاتا ہے۔ اسیر رہا کر دئیے جاتے ہیں۔

                جب معاملات سنورنا شروع ہوتے ہیں تو جو لوگ مخالفین کو مارنے نکلے ہوتے ہیں ان کی توجہ بٹ جاتی ہے اور وہ دوسری مہمات پر لگ جاتے ہیں۔ قیدی چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

۲۰۔        ہیرو واپس لوٹ آتا ہے۔

۲۱۔         ہیرو کا پیچھا کیا جاتا ہے۔ پیچھا کرنے والا مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ نگل لیتا ہے۔ ہیرو کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔

                ہیرو جب گھر واپس آتا ہے تب بھی اس کے دشمنوں کو چین نہیں ملتا اور وہ اسے مارنے کے لیے چڑھ دوڑتے ہیں اور ہیرو کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

۲۲۔        ہیرو کو تعاقب کرنے والوں سے بچا لیا جاتا ہے۔ رکاوٹیں، پیچھا کرنے والوں کی جستجو کو التوا میں ڈ ال دیتی ہیں۔ ہیرو چھپ جاتا ہے یا چھپا لیا جاتا ہے۔ ہیرو کو نا قابل فہم طریقے سے تبدیل کر دیا جاتا ہے، ہیرو کو موت سے بچا لیا جاتا ہے۔

۲۳۔        ہیرو جب گھر پہنچتا ہے یا دوسرے ملک میں، تو پہچانا نہیں جاتا۔

                اوڈیسی میں اودسیوس جب بیس سال بعداتھاکاپہنچتا ہے تو اسے کوئی نہیں پہچانتا۔

۲۴۔        جھوٹا ہیرو اصل ہیرو بننے کے بے بنیاد دعوے کرتا ہے۔

                اوڈیسی میں کئی کردار اودسیوس ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اودسیوس کی بیوی سے شادی رچانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

۲۵۔        ہیرو کو مشکل مہم پر لگا دیا جاتا ہے۔ سخت آزمائش، رکاوٹوں، برداشت اور طرح طرح کے طریقوں سے ہیرو کی طاقت کو آزمایا جاتا ہے۔

۲۶۔         ہدف سر کر لیا جاتا ہے۔

                یعنی ہیرو کو پکڑ لیا جاتا ہے۔

۲۷۔        ہیرو کو پہچان لیا جاتا ہے(کسی نشانی یا چیز سے جو اسے دی جاتی ہے)۔

۲۸۔        جھوٹا ہیرو بے نقاب ہو جاتا ہے۔

۲۹۔         ہیرو کو نئی شبیہہ دے دی جاتی ہے۔

۳۰۔        ولن کو سزا دی جاتی ہے۔

۳۱۔         ہیرو شادی کر لیتا ہے۔ اسے انعام دیا جاتا ہے۔

                یہ تمام مراحل مشترکہ ہیں جن کا اطلاق کسی بھی داستان پر کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ولادی میر پراپ کی معروضی سوچ کا مطیع ہونا پڑتا ہے۔ داستانی تنقید کا یہ رخ پراپ کو داستانی تنقید میں بقا عطا کرتا نظر آتا ہے۔

داستانی ادب کے کرداری خصائص:

۱۔            ولن: ہیرو کے خلاف جدو جہد کرنے والا۔

                آپ کوئی بھی داستان اٹھا کر دیکھ لیں جہاں آپ کو ہیرو نظر آئے گا اس کے ساتھ ولن سائے کی طرح اپنے مکروہ عزائم لیے مصروف عمل نظر آئے گا۔

۲۔           حاتم:ہیرو کو طلسماتی اہداف سر کرواتا ہے یا ان تک پہنچنے کی سبیل کرتا ہے۔

                داستانی ادب میں حاتم کا موجود ہونا بھی لازم و ملزوم ہے۔ہیرو جہاں خود کو بے بس محسوس کرے گا حاتم آگے بڑھ کر ہیرو کی منزلیں آسان کر دے گا۔ اور ہیرو کے لیے خضر راہ ثابت ہوگا۔

۳۔           پیر مرد:ہیرو کی تلاش کے مراحل میں مدد کرتا ہے۔ ہیرو پر کوئی افتاد آن پڑے یا قسمت میں پیچ پڑ جائے تو پیر مرد ہیرو کا معاون بنتا ہے اور ہیرو کا سراغ لگانے کے بعد اسے جادوئی کرب سے چھٹکارا دلاتا ہے۔

۴۔           ملکہ اور اس کا باپ: ہیرو کے لیے ہدف کا تعین کرتے ہیں۔ ہیرو کے کرداری خصائص میں جھوٹ کی پہچان کرتے ہیں۔ ہیرو ئن ہیرو سے شادی کرتی ہے مگر یہ سارا عمل بیانیے کے درمیان میں سے سمجھنا ہوتا ہے۔ ہیروئن اور اس کے باپ کا عمل بہت واضح نہیں ہوتا۔

                داستان میں تمام اعمال کا انحصار ہیرو پر ہوتا ہے کہ وہ کیسے خود کو ہیروئن کے قابل ثابت کرواتا ہے۔ہیروئن اور اس کے باپ کا کردار ہیرو کے مقابلے میں زیاد ہ متحرک نہیں ہوتا۔

۵۔           قاصد:نامعلوم کو معلوم کرکے ہیرو تک پہنچاتا ہے۔

                قاصد کا کردار بھی داستان میں لازم حیثیت رکھتا ہے۔ قاصد اپنے عمل سے ہیرو کے سفر کو آسان کرتا ہے۔ اس سے ہیرو کی بہت زیادہ توانائی صرف ہونے سے بچ جاتی ہے۔

۶۔           ہیرو:شکار یعنی ہیرو کا متلاشی، ہیرو جیسی عادات اپنانے والا، سائڈ ہیرو۔

۷۔           جھوٹا ہیرو:ہیرو کے خصائص کو اپنے نام کرکے بتاتا ہے اور شہ زادی سے شادی کرتا ہے۔ یہ کرداری اشتراکات پراپ نے کم و بیش سوکے قریب کہانیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اخذ کیے۔ پراپ کو ایک اعتبار سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ پراپ کی تنقید تحریری متن پر زیادہ ہے جب کہ داستانی کرداروں کا ایک مزاج ہوتا ہے۔ سنانے کا لہجہ ہوتا ہے یعنی داستان سر تا سر سنانے کی چیز ہے۔پراپ کا سب سے بڑا نقاد روسی ہیئت ساز لیوی سٹراس کا مؤقف ہے کہ پراپ کے نظریات داستان کی ساخت کو نیچا دکھانے اور ہیئت کا علم بلند کرنے کے لیے ہیں۔پراپ کے حامیوں کا یہ خیال ہے کہ پراپ پریوں کی کہانیوں سے مطالب و معانی کھینچ کھانچ کر نہیں نکالتا جیسے ساختیاتی یا نفسیاتی تجزیات میں ہوتا ہے پراپ تو بس داستان کی بنت کے عملی مظاہر کو دیکھتا ہے۔ وہ کوئی عمل دوہرانے کا قائل نہیں۔

سلیم سہیل
http://auragesabz.gamecraftpro.com/%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84/