وقت کے تراشے

یہ تحریر 644 مرتبہ دیکھی گئی

اردو ادب کے علم برداروں کی طرف سے دوسری پاکستانی زبانوں سے بالعموم جو بے اعتنائی برتی جاتی ہے وہ جتنی حیرت ناک ہے اتنی ہی افسوس ناک بھی۔ پنجابی، سرائیکی اور سندھی ادب کی تو کچھ نہ کچھ خبر ملتی رہتی ہے لیکن یہ ہمارے علم میں کم کم ہی آتا ہے کہ پشتو یا بلوچی میں کیا لکھا جا رہا ہے۔ شاعری ہے تو کس حد تک نئی، بیسویں اور اکیسویں صدی کے ادبی یا غیرادبی تقاضوں سے کس طرح نمٹتی ہے۔ افسانوں اور ناولوں میں کتنی جان ہے۔ وہ حقیقت پسندانہ ہیں یا علامتی یا تجرباتی۔ ٹھیک طرح کچھ معلوم نہیں۔
نظموں کے ایک مجموعے کی وساطت سے، جو بلوچی سے ترجمہ کی گئی ہیں، ہمیں ایک نئی آواز سے روشناس ہونے کا موقع ملا ہے۔ شاعر ہیں منیر مومن، جو 1966ء میں ضلع کیچ کے ایک گانؤ میں پیدا ہوئے۔ آج کل کواوپریٹو سوسائیٹیز (بلوچستان) میں اسسٹنٹ رجسٹرار ہیں۔ ان کی نو کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی نظموں کا ترجمہ احسان اصغر نے کیا ہے جن کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ آب و دانہ کی کشش نے انھیں کوئٹہ پہنچا دیا۔ وہان انھیں بلوچی زبان سے لگاؤ پیدا ہوا۔ اپنے شوق سے بلوچی سیکھی اور اس زبان دانی کا پہلا ثمرہ “گم شدہ سمندر کی آواز” کے عنوان سے میرے سامنے ہے۔
نئی شاعری میں، وہ دنیا میں کہیں بھی اور کسی زبان میں بھی لکھی جا رہی ہو، مماثلت کے کئی پہلو نظر آتے ہیں۔ عموماً اس میں جو تسلسل پایا جاتا ہے وہ ظاہری سطح پر کوئی خاص واضح نہیں ہوتا۔ شاعر کی باطنی کیفیات میں رچ کر قدرے ابہام، بے ترتیبی اور امیجری کی غرابت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ منیرمومن کی نظموں میں یہ سب قرینے موجود ہیں اور انھیں دورِ حاضر کا نمائندہ بناتے ہیں۔ چند ایک چھینٹے رومانیت کے بھی ہیں لیکن اس کا کوئی واسطہ اخترشیرانی یا ان کے قبیل کے دوسرے شاعروں سے نہیں۔
منیر مومن “زندگی سے بھرپور تنہائی” کا ذکر کرتے ہیں۔ سچ بھی یہی ہے کہ اس بھرپور تنہائی کے بغیر نہ شاعری پروان چڑھ سکتی ہے نہ شاعر کو اس ہجوم سے دوچار ہونے کا موقع مل سکتا ہے جہاں سے وہ اپنی نظموں اور غزلوں کے لیے پیرائے اور چہرے اور امیجری چُرا سکتا ہے۔ چوری اور تنہائی کا بھی ایک طرح کا ساتھ ہے۔ لیکن شاعر کی چوری سے دنیا میں کسی کے پاس سے کچھ چھنتا نہیں ہے بلکہ معاشرے اور زبان کی ثروت مندی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
چراغ اور رات کے درمیان عنوان سے مجموعے میں تین نظمیں ہیں۔ چراغ کا رات سے رشتہ بدیہی ہے۔ منیر مومن نے یہ بھی کہا ہے کہ عشق خدا کے گھر سے چرایا ہوا چراغ ہے۔ چناں چہ چراغ صرف رات میں گرد و پیش کو دیکھنے کاسہارا ہی نہیں بلکہ وہ روشنی ہے جو عشق سے پھیلتی ہے اور اندھیرے پر، جو نامعلوم اور خواب اور خوابیدگی کی علامت ہو سکتا ہے، وار کرتی رہتی ہے۔ درمیان میں ہونے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ایک طرف سے اندھیرے کی یلغار ہے تو دوسری طرف سے روشنی کی بوچھار۔ ایسے درمیان میں ہو کر دور تک سفر کیا جا سکتا ہے۔
منیر مومن کی ساختہ تصویروں میں، جو ان نظموں میں بکھری ہوئی ہیں، دل ربائی پائی جاتی ہے جیسے “بادلوں سے بُنی ہوئی شام کا دل” یا “صبح کی روشنی کی پارسائی” یا “قفس بنی آدم کی خواہشات سے دلکش ہیں” یا “انسان جب پیدا ہوتا ہے / بس ایک ہی کام کرتا ہے / ایک قینچی لے کر وقت کے تراشے جمع کرتا رہتا ہے۔” مجموعے میں سب سےعمدہ نظم “زمین” ہے۔
امید ہے کہ منیرمومن کو پڑھا جائے گا اور ان کی اور دوسرے بلوچی شاعروں اور ادیبوں کی کاوشیں اردو میں منتقل ہو کر ہم تک پہنچیں گی۔ ہم احسان اصغر کے ممنون ہیں۔ نہ جانے کیوں انھوں نے منیرمومن کی غزلوں کا ترجمہ نہیں کیا۔ چند غزلیں بھی کتاب میں شامل ہوتیں تو پتا چلتا کہ بلوچی غزل میں کیا ہے جو نیا ہے۔ احسان اصغر نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جو نظمیں ترجمہ کی گئی ہیں وہ مقفٰی ہیں یا معریٰ۔ انھوں نے منیر مومن کی مہربانیوں کا ذکر کیا ہے۔ کیا اچھا ہوتا اگر شاعری کے بارے میں منیرمومن کا کوئی انٹرویو بھی کتاب میں پڑھنے کو مل جاتا۔
گم شدہ سمندر کی آواز از منیر مومن
ترجمہ: احسان اصغر
ناشر: عکس پبلی کیشنز، لاہور
صفحات: 112؛ پانچ سو روپیے