وفاداری بشرطِ استواری

یہ تحریر 263 مرتبہ دیکھی گئی

اس ناول میں برصغیر کی ثقافت کے دو ایسے مظاہر سے واسطہ رکھا گیا ہے جو زمانے کی الٹ پھیر کی وجہ سے اپنی پرانی حیثیت اور کشش سے محروم ہو چکے ہیں یعنی پہلوانوں کا اکھاڑا اور طوائفوں کا کوٹھا۔ کوٹھے سے مراد صرف جسم فروشی نہ تھی، گو اگر چاہنے والا امیر کبیر ہوتا تو اس سے بھی انکار نہ تھا۔ طوائفوں کو موسیقی اور رقص کی تعلیم دی جاتی، شاعروں سے روشناس کرایا جاتا، آدابِ محفل سکھائے جاتے۔ یہ سب خوبیاں انھیں اعلیٰ درجے کی فنکار بنا دیتی تھیں۔ رسوا کے ناول “امراؤ جان ادا” کو پڑھ کر اس طوائفانہ ماحول سے خاصی آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کوٹھا محض تفریح گاہ نہ تھا، ثقافتی درس گاہ بھی تھا۔ یہ تمام باتیں قصہء پارینہ ہو چکیں۔ جب شاعری، گائیکی، موسیقی اور ناچ کی نزاکتوں کو سمجھنے والے ہی خال خال رہ گئے ہوں تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ ان فنون میں مہارت تامہ حاصل کرے۔
اکھاڑوں اور کشتی کے فن کی سرپرستی نواب اور مہاراجے کرتے تھے۔ انھیں کی مدد سے پہلوانی کے فن کو خاص مقام حاصل تھا۔ جب ریاستیں ختم ہو گئیں تو پہلوانی پر بھی زوال آیا تاہم اتنا نہیں کہ وہ ناپید ہو جاتا۔ عالمی سطح پر آج بھی کشتیوں کو شوق سے دیکھا جاتا ہے مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ انھیں اصلی سمجھنا چاہیے یا نمائشی یا پہلے سے طے شدہ۔
ناول میں مرکزی حیثیت رمزی پہلوان اور اس کے اکھاڑے کو حاصل ہے۔ الحاقی مقام گوہر جان اور اس کے کوٹھے کا ہے۔ گوہر جان نہایت خوش گلو مغنیہ تھی اور اس کا کوٹھا اندرونِ شہر میں سب سے مشہور تھا۔ پہلوان ہو یا طوائف، دونوں کو ایک طرح کی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مرورِ ایام کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی۔ ان کے پھلنے پھولنے کا بس پندرہ بیس سال کا زمانہ ہوتا ہے، پہلوان ادھیڑ ہوا نہیں کہ شہرت میں فرق آ گیا۔ طوائف بھی، کہولت کا آغاز ہوتے ہی، اپنی کشش کھو بیٹھتی ہے۔ یہ فن جسمانی طاقت یا ظاہری حسن و جمال کے محتاج ہیں۔ شاعر، فکشن نگار یا مصور، بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ، اپنی صلاحیت سے محروم نہیں ہوتے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بعض اوقات ضعیفی ان کی بالغ نظری اور فنی کمالات میں اضافہ ہی کرتی ہے۔
ناول کا آغاز 1950ء کے آس پاس کا زمانہ ہے۔ پندرہ سال پہلے، 1935 میں، رمزی پہلوان نے ملک میں کشتی کے سب سے بڑے اعزاز “استادزماں” کا خطاب حاصل کیا تھا۔ اس اعزاز پر اسے فخرتھا اور وہ متعدد بار کامیابی سے اپنے اعزاز کا دفاع کر چکا تھا۔ تاہم تقسیم کے بعد پہلوانی کے شیدائی کم ہو گئے تھے۔ ان نوجوانوں کی تعداد بھی تھوڑی رہ گئی تھی جو شاگرد بن کر پہلوانی کے رموز سے آشنا ہونا چاہتے تھے۔
بدلے ہوئے حالات سے رمزی سمجھوتا کرنے پر راضی نہ تھا۔ وہ اپنے سخت اصولوں پر قائم رہا جن میں ہر بات پہلے سے متعین تھی اور ہر فیصلے، پر عمل کی اہمیت تھی، اسے ضدی قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ لوگ بھی، جو اس سے بہت قریب تھے، اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ زندگی کے بارے میں رمزی کا رویہ خوبی کے بجائے ایک تکلیف دہ امر بن کر رہ گیا تھا۔ وہ اکھاڑے کا انتظام اپنے چھوٹے بھائی تمامی کے سپرد کرنے کو تیار نہ تھا۔ اسے تمامی پر اعتبار بہت کم تھا۔ بہرحال، دف کی عظمت برقرار رکھنا بھی لازمی ٹھیرا۔ تمامی نے مسلسل ورزش اور معقول خوراک کے ذریعے خود کو بڑا طاقت ور بنا لیا اور رمزی کے سب سے بڑے حریف اماما کو کشتی کے دوران ایسی ضرب لگائی کہ وہ اکھاڑے ہی میں دم توڑ گیا۔ یہ قتل بالعمہ تو نہ تھا، اتفاقی حادثہ تھا مگر اس کا تمامی کی شخصیت پر اچھا اثر نہ ہوا۔ گلاب دین نامی ایک سپورٹ پروموٹر اس پر حاوی آ گیا۔ ایسے پروموٹرز فن کو بڑھاوا دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ صرف جعلی مقابلوں کے ذریعے مال کھانا چاہتے ہیں۔ حالات اس نہج پر جا پہنچے کہ رمزی نے تمامی کو عاق کر دیا۔ تمامی نشہ کرنے لگا۔ اس کی صحت کو گھن لگ گیا۔ وہ مر گیا تو رمزی جو پہلے ہی مزاجاً ایک تنہا آدمی تھا خود کو اور بھی الگ تھلگ اور بے سہارا محسوس کرنے لگا۔ اس کا رہن سہن روز بروز بے معنی ہوتا چلا گیا۔
رمزی نے جب گوہر جان کے کوٹھے پر جانا شروع کیا تھا تو لوگ سمجھے تھے کہ وہ گوہر جان پر فریفتہ ہو گیا ہے۔ جلد ہی ان پر انکشاف ہوا کہ وہ صرف موسیقی سننے کی غرض سے گوہر جان کے کوٹھے کا رخ کرتا تھا۔ موسیقی اس بظاہر غیر مطمئن اور بباطن اجڑے ہوئے شخص کے لیے ایسے پیغام کا درجہ رکھنے لگی جو اس کے تنہائی کے حصار کو توڑ کر دل کو چھو لیتا تھا۔
اکھاڑے کی طرح گوہر جان کا کوٹھا بھی اجڑ چکا تھا۔ وہ صرف رمزی کا دل رکھنے کے لیے ساز بجاتی تھی۔ آخر وہ فوت ہو گئی اور جب اسے میونسپلٹی کے قبرستان میں جگہ دینے سے انکار کیا گیا تو رمزی نے خود اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے خاندانی قبرستان میں دفنایا۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ کسی جاروب کش کو بھی قبرستان میں قدم نہ رکھنے دیتا تھا اور خود بھی بے وضو وہاں نہ جاتا تھا۔ قبرستان کی حرمت اسے بہت عزیز تھی۔ اس نے تمامی کو وہاں دفنانے سے انکار کردیا تھا۔ اور اب وہیں اس نے گوہر جان کو دفنایا جو ایک لحاظ سے اسی کی طرح تنہا اور اپنی ذات میں گم تھی۔
رمزی اور گوہر جان اسی طرح تنہا تھے جیسے اپنے فن سے وفا کرنے کی دھن میں لوگ دنیا سے کٹ جایا کرتے ہیں۔ جب ایک دوسرے کی حسرت ان پر عیاں ہوگئی تو ان کا تعلق استوار ہوتا چلا گیا۔ لیکن یہ تعلق ایک دوسرے سے نہ تھا، اس تنہائی سے تھا جس نے، ایک قدرِ مشترک کے طور پر، انھیں، جسمانی سطح پر نہیں، انسانی سطح پر آمنے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔ شدت سے اپنائی تنہائی نے انھیں ایسے لوگوں کے ہجوم سے الگ اور منفرد کر دیا تھا جو خوف کے عالم میں آپس میں چمٹے رہتے ہیں۔ صرف دلیر افراد ہی دنیا کی بے اعتنائی کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں۔
رمزی کے کردار میں رچی تنہائی پر تو کئی طرف سے روشنی پڑتی ہے لیکن گوہر جان کا لاتعلقی کا انداز، جو اس نے اپنی نوچیوں کے ساتھ روا رکھا، ٹھیک طرح سمجھ میں نہیں آتا۔ جو بھی سہی، اس چھوٹے سے ناول میں مشرف علی فاروقی رمزی کی صورت میں ایک جیتا جاگتا کردار تخلیق کرنے میں کامیاب ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ناول اصل میں انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ اس کا اردو میں ترجمہ افضال احمد سید نے کیا ہے جو معروف شاعر ہیں۔ ترجمہ نہایت خواندنی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں جو ماحول ہے اسے اردو میں بہتر طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔
خاک ہو جانے تک از مشرف علی فاروقی
ترجمہ: افضال احمد سید
ناشر: کتاب (پرائیویٹ) لمیٹڈ، کراچی
صفحات: 186؛ پانچ سو روپیے