وفات نامہ

یہ تحریر 667 مرتبہ دیکھی گئی

جارج سٹائنر:ایک متبحر عالم جو ہولو کاسٹ اور تہذیب کے مابین ربط کی دریافت اور خواندگی بطور ذاتی مطالعے کے تصور کیساتھ جڑے رہے

                جارج سٹائنر جو نوّے برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں، مخصوص نکتہء نظر رکھنے والے ایک غیر معمولی یوروپی دانشور تھے۔شکاگو یونیورسٹی سے لے کر ہاورڈ، آکسفرڈ، پرنسٹن، کیمرج اور جینیوا میں گزرنے والے تعلیمی و تدریسی برسوں میں سٹائنر نے المیہ، مطالعہ، زوالِ خواندگی، ترجمہ کے امکانات، سائنس اور شطرنج جیسے موضوعات پر سیر حاصل بحثیں کی۔انھوں نے لسانیات پر نوم چومسکی کے ساتھ بھی مناظرہ کیا اور جرمن فلسفی مارٹن ہائیڈیگر پر فونتانا ماڈرن ماسٹرکی ایک جلد تصنیف کی۔

                نصف صدی تک جارج سٹائنر ایک دبنگ مبصراور موہ لینے والے زیرک لیکچر ارکے طور پر چھاے رہے۔ ان کی کتابوں نے نئے علمی میدانوں کو رواج دیا،ایجنڈوں کا تعین کیااور علم و ادب کے بلند ترین معیارات قایم کیے۔ معاصر برطانوی دانشوروں میں کوئی اور ان کے ہم رتبہ نہیں۔سٹائنر کے علمی کام کو خوب سراہا گیا اور انھیں ممتاز یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور ادبی حلقوں کی جانب سے اعزازات سے نوازا گیا۔ان کی نسل کے بہت تھوڑے دانشور ایسے ہوں گے جنھیں اتنامقام و مرتبہ نصیب ہوا ہوگا۔اس کے باوجود، سٹائنر مطمئن نہ تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ کیمرج یونیورسٹی نے بطور لیکچرار ان کی تقرری نہ کرکے ان کے ساتھ بد سلوکی کی۔سٹائنر کا یہ بھی خیال تھا کہ جن لوگوں نے ان کے خیالات پر خاموشی تانے رکھی یاان کی کتابوں پر مضحکہ خیز تبصرے لکھے،وہی ان کے مرکزی تصورات کوہتھیاتے تھے۔ وہ بھی کسی اظہار ِ تشکر یا اعتراف کے بغیر۔ان کے مطابق، چند ایک کے سوا باقی جامعات،جوان کی تکریم میں ایک دوسرے کو مات دیتی پھرتی تھیں، عوام الناس کے مطلوبہ تعلیمی معیارات کو گرانے اورخواندگی کو گھٹانے جیسی سازشوں میں شریک تھیں۔جب ایک متمدن خواندگی کی سطح گراوٹ کا شکار ہوئی توسٹائنر ان نام نہاد اشرافی اداروں میں ”نظریے“ کے پرستاروں (ایک اصطلاح جسے سٹائنر خاص حقارت سے استعمال کرتے) سے ملے۔ انھوں نے مضحک اندا ز سے غور کیا کہ ان اداروں میں دانتے کے مطالعے کی بہ نسبت مقبولِ عام کلچر کے مطالعے کے زیادہ روشن امکانات تھے۔

                سٹائنر محسوس کرتے کہ اشرافی ثقا فت کے عوامی سطح پر آجانے نے حقیقی خواندگی میں ایک رخنہ پیدا کردیا تھا۔وہ  باریک بینی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت پر یقین رکھتے تاکہ متن میں محسوس کردہ معنوی وجود کے ساتھ منسلک ہوا جاسکے۔وہ  ایسے فن کے بارے میں مضطرب تھے کہ جو غیر منظم اور تصفیہ پذیر تھااور محض اداکاری بن کر رہ گیا تھا۔ان کے مطابق صرف انسان دوست اشرافیہ ہی ثقافت کے تسلسل کی ذمہ دار ی لے سکتی ہے۔ وہ کہتے کہ ”ہماری تہذیبی صورت ِحال میں خلقی جانچ، حسن اور وجدان کی تشکیل میں ننانوے فیصد انسانیت توکوئی کردار ہی ادا نہیں کرتی۔“

                 ساٹھ کی دہائی میں گردوپیش کے مناظرنے انھیں بے چین اور برافروختہ کردیا۔ویتنام میں امریکی کردار پراپنے شبہات کا انھوں نے عوامی سطح پر اظہار کیا، تاہم امریکی تہذیب کے متعلق ان کے خدشات کی جڑیں زیادہ گہری ہوتی چلی گئیں۔انیس سو اکیاسی کے ایک مضمون بعنوان ”باغ بہشت کا سوابق خانہ“  کی اشاعت پر امریکہ میں خاصے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔مذکورہ مضمون میں سٹائنر نے ساری کی ساری ثقافت پراپنا حاکمانہ فیصلہ صادر کردیا۔انھوں نے برملا کہا کہ امریکی موسیقی”اپنے جوہر میں صوبائی کردار کی حامل (محدود)ہے“ جب کہ امریکی فلسفہ ایک ”لاغر جنس“۔سٹائنر نے دعوی کیا کہ فکری و ثقافتی میدانوں میں عظیم ترین امریکی کارنامے فی الاصل یورپی فن کاروں اور دانش وروں کے رہین منت ہیں۔

                جارج سٹائنر کے والدین، فریڈرک اور ایلسی ملحد یہودی تھے جو ویانا کے موسیقی و مطالعہ والے مہذب ماحول میں رہتے تھے۔سٹائنر کے والد ایک بینکار تھے جو آسٹریا کے مرکزی بینک میں اعلی عہدے پر فائز ہوے مگر جنگ عظیم اول کے بعدکے معاشی عدم استحکام نے آسٹریا کی حالت دگر گوں کردی۔گو و ہ نام کے صہیونی تھے مگر سٹائنر کے والدین کو فلسطین میں بسنے کی کوئی خواہش نہ تھی۔ چناں چہ وہ انیس سو چوبیس میں پیرس آگئے۔ جارج یہیں پیدا ہوا۔

                  یہاں ان کی زندگی آزاد، کثیر لسانی اور بڑے شہر والی تھی۔گھر میں فرانسیسی، جرمن اور انگریزی زبانیں بلا تکلف بولی جاتیں۔”ویانا کا اثر میری ماں پر اتنا تھا کہ“، سٹائنر یاد کیا کرتا، ”وہ جملے کو کسی ایک زبان میں شروع کرتیں تو ختم کسی دوسری میں۔“اپنی آپ بیتی،”غلط نامہ: زندگی جس کا جائزہ لیا گیا“(۱۹۹۷ء) میں سٹائنر ایک ہفت زباں گھرانے میں پرورش پاے جانے کی ”دائمی مسرت“ کو یاد کیا کرتا۔

                جونہی ہٹلر کی فرمانروائی کے ساے یورپ پر منڈلاے، والد فریڈریک نے ایک ”مہیب  الہام“کی مدد سے یہودیوں کے مقدر کی پیش بینی کی۔ بینکار ی سے وابستہ ایک جرمن دوست کا خاموش اشارہ پاتے ہی اسے خاندان سمیت یورپ سے نکلنا پڑا۔انیس سو چالیس میں وہ نیویارک آکر مین ہٹن میں قیام پزیر ہوگئے۔جارج کو ثانوی درجے کے فرانسیسی سکول میں داخل کرایا گیا جہاں سے اسے انیس سو چوالیس میں امریکہ کا باقاعدہ شہری بن جانا تھا۔

                انیس برس کی عمر میں سٹائنر شکاگو یونیورسٹی میں بی۔اے کے لیے مطلوبہ اہلیت کے حامل ہوچکے تھے۔۱۹۴۰ء کی دہائی میں آئیوی لیگ کی جامعات میں تو یہودیوں کے لیے کوٹے مختص تھے مگر شکاگو یونیورسٹی میں ایک بھی نشست نہ رکھی گئی تھی۔بلند پایہ علماء و فضلاء پیدا کرنے میں شہرت رکھنے والی شکاگو یونیورسٹی علم و ہنر میں ممتاز یہودیوں کے ایک پورے قبیلے کو اپنی جانب متوجہ کر چکی تھی۔ ساول بیلو، ایلن بلوم، فلپ روتھ اور سوزن سونتاگ کی علمی اور ادبی آبیاری اسی باکمال تعلیمی ماحول نے کی تھی۔یہ شکاگو یونیورسٹی ہی تھی جہاں سٹائنر ہائیڈیگر کے کام سے پہلی بار متعارف ہوے۔۱۹۸۹ء میں سٹائنر نے لکھا، ”میں اب بھی جوش و مسرت کی وہ ضربیں محسوس کرتا ہوں جو کوئی اوریونیورسٹی میرے اندرنہ پیدا کرسکی۔“

                سٹائنر نے ۱۹۵۰ء میں ہاورڈ سے ماسٹر کی ڈگری لی اور آکسفرڈ کے بیلیول کالج میں داخلے کے لیے روہڈزا سکالرشپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوے۔یہاں انھوں نے آکسفرڈ کے ادبی مجلوں میں لکھا،مضمون نگاری میں انعام جیتا اور ’مادام میگزین‘ میں مضمون کے لیے سلویا پلاتھ کو انٹر ویو دینے کا اعزااز حاصل کیا۔ ۱۹۵۲ء سے لیکر اگلے چار برسوں تک انھوں نے”اکانومسٹ“  کے لیے کام کیا۔ازاں بعد انھیں پرنسٹن یونیورسٹی کے اعلی تعلیمی ادارے میں خدمات کے لیے مدعو کیا گیا۔ ۱۹۵۸ء سے ۱۹۵۹ء تک انسبرگ میں بطور فل برائٹ پروفیسرتعینات رہ کر، وہ ’گاس لیکچرر‘ کے طور پر پرنسٹن یونیورسٹی لوٹ آئے۔ان کی پہلی کتاب، ”ٹالسٹائی یا دوستوئفسکی: قدیم تنقید میں لکھا ایک مضمون“ انیس سو انسٹھ میں شایع ہوئی۔

                دو برس بعد، کیمرج کے چرچل کالج کے بانی رکن کے طور پران کا تقرر ہوا۔اس سال کلاسیکی متون کے کثیر الامکانی اور عالمانہ مطالعات پر ان کی کتاب ”المیے کی موت“ شایع ہوئی۔اس کتاب کے سب سے پر جوش تبصرہ نگاروں میں سے ایک چارلس سنو بھی تھے جو بعد ازاں، ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں کیمرج کے بھول بھلیوں والے ماحول میں سٹائنر کے قابل قدر راہنما اور دوست ثابت ہوے۔

                ۱۹۶۹ء میں یونیورسٹی کی لیکچررشپ کے لیے سٹائنر کے انٹر ویو کو ناکام بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ موریل بریڈبروک نے انٹر ویو کے دوران سٹائنر سے سوال کیا کہ آیا سٹائنر نے کہیں یہ لکھا تھا کہ ”ہیگل کے جدلیاتی فلسفے سے اتفاق نہ کرنے والے شخص کو گولی مارنا انسانی روح کو عزت بخشنے کے مترادف ہے۔“ سٹائنر نے تسلیم کیا کہ اس نے مذکورہ جملہ لکھا تھا۔کیمرج میں ان کے اس بیان پر خوب لے دے ہوئی۔اس غلط فہمی کے سبب ہم شعبہ رساتھیوں کے ساتھ ان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے۔یونیورسٹی میں اس شبہے کو ہوا دی گئی کہ سٹائنر، اپنے بلند پایہ علمی کارناموں کے باوجود، محض ایک دغاباز ہے۔”کیمرج کے انگلستانیوں“ کی ناگوار اندرونی زندگی کو جس قدر سٹائنر کے ساتھ (عوام الناس اور نجی زندگی میں) روا رکھی جانے والی اس بد سلوکی نے آشکار کیا، شاید ہی کسی اور چیز نے کیا ہو۔سٹائنر کو انگریزی شعبے کے تصنع پسند ہم کاروں کی بہ نسبت دیگر شعبوں کے احباب کی سنگت زیادہ راس آئی۔لیکچر شپ میں قطعی ناکامی کے بعدانھیں چرچل کالج کے ایک غیر معمولی تعلیمی ضابطے میں منتخب کرلیا گیا۔

                ۱۹۶۷ء میں ”لسان و سکوت“ کی اشاعت کے ساتھ ہی سٹائنر خود کو خوش اسلوب اور زود نویس انشائیہ پرداز کے طور پر متعارف کراچکے تھے۔یونیورسٹی میں دیے گئے خطبات،”بلوبیرڈ کے محل میں“ کے عنوان سے ۱۹۷۱ء میں شایع ہوے۔”ماوراے وطن“ (۱۹۷۲ء) میں اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ سٹائنر کتنی شدت سے ان تیکنیکی کاموں کو پرکشش پاتے تھے جن کا تعلق لسانیات، سائنس اور فلسفے سے تھا۔عظیم ماوراے وطن مصنفین جو معاشرتی خلفشار اور جنگ کی وجہ سے ایک زبان سے دوسری زبان کا رخ کرنے پر مجبور تھے،اپنے عہد کے یکتا ترجمان تھے۔

                سٹائنر نے ”دشواری کے بارے میں“ میں ستر کی دہائی کا ابتدائی مواد جمع کیاجس میں انھوں نے دوعالیشان موضوعات کا احاطہ کیا:اول،نجی زندگی کا زوال اور اس کے ساتھ نت نئے سماجی اظہاریوں اور نمائشوں کی تباہ کن توقعات کا ظہور۔دوم، عمل قرات کی بدلتی صورت حال۔انھوں نے محسوس کیا کہ ”تنہائی میں باقی تمام باتوں سے الگ تھلگ ہوکر پڑھنے“ کی عادت کم سے کم ہوتی جارہی تھی۔ اور یہ بات نہ صرف ناقابل تردید ہے بل کہ ناگزیر بھی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ”ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ افراد جو اپنی تربیت کے لیے مطالعے کو اہم مانتے ہیں، انھیں تنقید کی کشادگی اور اس سے وابستہ مسابقت کے غلغلے سے تحفظ ملے تاکہ وہ اپنے شوق کی آبیاری سہولت و سکون سے کر پائیں۔”

پینگوئن نے انیس سو چوارسی میں ’جارج سٹائنر:مجموعہء مضامین‘ شایع کی مگر یہ اس کے پچھلی دو دہائیوں میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ، ”جذبہ کام نہ آیا“ تھا جس نے سٹائنر کی دلچسپیوں کے دائرہ کارکی بھرپور نمایندگی کی۔ستر کی دہائی میں سٹائنر کی بی بی سی کی گفتگووں اور سنڈے ٹائمز اور ٹی ایل ایس میں چھپنے والے کتابی تبصروں نے انگلستان کی علمی و ادبی حدود کو وسعت دی۔ انھوں نے ژاں ستاغوبنسکی، پال رکووے، ارنسٹ بلوخ،تھیودور ادورنو، ٹامس برنہارڈ(جسے وہ مابعد عالمی جنگ کا اہم ترین جرمن ناول نگار گردانتے تھے) پال کیلان اور والٹر بنجامن کے کاموں کو انگلستانی و امریکی دنیاووں میں متعارف کرایا۔۱۹۶۷ء سے ۱۹۹۷ء کے درمیان نیو یارکر میں انھوں نے  ۱۳۰ سے زاید وقیع تبصرے شایع کراے۔”نیو یارکر میں جارج سٹائنر(۲۰۰۹ء)“شاید ان تبصروں کے محض تیسرے حصے پر مشتمل ہے۔

                 ۱۹۷۱ء میں سٹائنر کوگجن ہائم کی رکنیت ملی۔۱۹۷۲ء میں وہ جنیوا یونیورسٹی میں تقابلی ادب کی کرسی پر تعینات ہوگئے۔ یہاں ایک جانب ردِ تشکیل اورژاک دریدا کا اثریورپی اور امریکی تعلیمی اداروں میں بسر عت پھیل رہا تھا تو دوسری جانب سٹائنرتقابلی ادب و شعریات پر ڈاکٹریٹ سطح کے شاندارسمینار منعقد کرارہے تھے۔

                سٹائنرنے ترجمہ نگاری اور مغربی تہذیب کی کلاسیکی اسطورات کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ کی۔ ترجمہ نگاری کی نوعیت او ر امکانات کا احاطہ کرنے والی کتاب”بابل کے بعد“(۱۹۷۱) نے، کیمرج کی اصطلاح میں ”عملی تنقید“ کے اندر سٹائنر کی اعلی مہارتوں کی مثالیں پیش کیں۔”ترجمہ نگاری کے نظریات“ کے مخالف کے طور پر سٹائنرنے انگریزی زبان میں ترجمے کی نشو نما کی،ٹیڈ ہیوز، شے مس ہینی اور ڈیرک والکوٹ سے بھی پہلے،راہ ہموار کی۔ سٹائنر کی اس اہم کتا ب کے سبب ترجمے کے درجنوں مراکز قایم ہوے۔

                سٹائنر کے دماغ میں بچن میں ہٹلر کی ریڈیو پر سننے والی تقاریر کی یادیں محفوظ تھیں، جنھیں وہ کینٹ یونیورسٹی میں دیے گئے لیکچروں میں ان الفاظ میں بیان کرچکے تھے، ”میرے کام کا بیشتر حصہ، بالواسطہ یا بلا واسطہ، ہولو کاسٹ کے منطقی اور ٹیکنولوجیائی پہلووں کی تفہیم و توضیح کرنے کی ایک کوشش ہے“۔ ہولوکاسٹ کے حوالے سے تفصیلی مباحث چھیڑنے سے قبل انھوں نے زبان و ادب پر اثر انداز ہونے والے ان واقعات کے نتا ئج پر خور وخوض کیاجو یورپی تہذیب اور جرمن زبان میں مضمر حقیقت کو پوری طرح منکشف کرتے دکھائی دیتے تھے۔

                اپنے ناولوں، بالخصوص The Portage to San Cristobal of AH(1979) میں ہولو کاسٹ کے حوالے سے صہیونی ذمہ داری کے متعلق سٹائنر نے کمال جرات سے ہٹلر کے کردار کو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا۔انھوں نے اس ناول کو عبرانی یا جرمن زبان میں ترجمہ کرنے کی اجازت نہ دی۔”ا۔ح“ (ایڈولف ہٹلر) کے ان  دلائل کا ناول میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

                انیس سو بیاسی میں کرسٹوفر ہیمپٹن کی جانب سے اس ناول کو سٹیج کیا گیا اور لندن میں بطور ڈرامہ پیش کیا گیا۔ڈرامے میں ایلک میک کوون نے اداکاری کی۔ڈرامے کو کڑی تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم، تھئیٹر میں میک کوون کی اختتامی تقریر کو خوب خوب سراہا گیا۔اس پر سٹائنر نے بیان دیا:”نہیں، نہیں، نہیں۔یہ تحسین ہٹلر کے لیے نہیں ڈرامے میں میک کوون کی عمدہ کارکردگی کے لیے ہے!“ تاہم کچھ ایسے سامعین تھے جنھیں اس بات پہ یقین نہ آیا۔

                سٹائنر تصوارت پر مبنی فکشن تخلیق کرتے رہے۔آغاز میں انھوں نے تین مختصر ناول (Anno Domini) لکھے جو ۱۹۶۴ء میں شایع ہوے۔Proof and Three Parables  اس کے بعد ۱۹۹۲ء میں شایع ہوا جو میک ملن فکشن انعام کا حقدار قرار پایا۔ان کے افسانوں اور افسانچوں کا مجموعہ The Deeps of the Seas ۱۹۹۶ء میں منظرِ عام پر آیا۔

                اپنی کتاب ”لسان و سکوت“ کے ایک بہت ہی نجی قسم کے مضمون،”بچ جانے والا“  میں سٹائنر نے خود کو ایک ایسے شخص کے طوربیان کیا ہے جو،محض ایک تاریخی چُوک کے سبب،ان لاکھوں میں سے ایک ہوتا جنھیں نازی جرمنی کے ہولوکاسٹ کیمپ میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔وہ عملاََ غیر فعال مگر اصولاََمتحرک صہیونی رہے۔چناں چہ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے محفوظ اورمذہباََ آزاد معاشروں میں بسنے والے یہودیوں کو بھی اسرائیل کی ضرورت ہے۔ لیکن خدا کا سوال اورخدا کے بغیر کسی ثقافت کے امکان کا تصور ان کے ذہن کو مسلسل پکڑے رہا۔سٹائنر کی بعد کی تصنیفات بشمول ”وجود ہاے حقیقی“(۱۹۸۹ء) اور ”تخلیق کے قواعد“ (۲۰۰۱ء) سٹائنر کی ”مذہب کی جانب“ واپسی کی عکاس ہیں۔

                ایک بے وقت، غیر متوقع اور متنازع کامیابی ”میری اَن لکھی کتابیں“ (۲۰۰۸ء) کی اشاعت کی صورت میں ملی۔ سٹائنر کااس کتاب میں سات مضامین لکھنے کا منصوبہ تھا جنھیں مکمل کرنے کی انھیں بہت امید تھی، مگر بوجوہ وہ اَن لکھے رہ گئے۔ایک اور دلچسپ منصوبہ، فن کاروں اور مفکروں کے درمیان بلند تر رشک کا مطالعہ تھا۔انھوں نے یہودی پن پر کتاب لکھنے کا بھی سوچا، مگر پھر اس خیال کو اس لیے ترک کردیا کہ عبرانی زبان کی جانکاری کے بغیر اس موضوع پر لکھنا ناممکن تھا۔ مگر ’شہوت اور زبان کا آپسی کھیل‘ ایک ایسی تصنیف تھی جس کی طرف تمام تبصرہ نگار متوجہ ہوے۔بہت سی زبانوں میں مختلف الفاظ و تراکیب ہیں جوجفتی، جنسی ترغیب اور دوسرے شہوانی معاملات کے لیے رائج تھیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ اس کتاب کا ایک باب بعنوان، ”شہوت کی زبانیں“ محض ہنسی مذاق اور کھینچا تانی کے لیے تھا۔شاید نہیں۔لیکن سٹائنر کی تخلیقات کے مداح__ اور وہ بکثرت ہیں __اس بات کو شاید اس طرح بیان کرتے:معمولی سی عورت بازی کا کھیل رچانے والا ایک ضعیف العمر مگر توانا شخص!

سن دو ہزار میں جارج سٹائنر کے ذاتی مقالات کیمرج کے چرچل کالج کو عطیہ کردیے گئے۔ ۱۹۵۵ء میں

انھوں نے زارا شکو سے شادی کی جو ایک ممتاز سیاسی مورخ بنی۔سٹائنر کے پس ماندگان میں ان کی بیوی زارا، دو بچے؛ڈیوڈ اور ڈیبوراہ اور دو نواسے شامل ہیں۔