نیا عہد نامہ: میں روشن خیالی کے بنیادی اشارے

یہ تحریر 148 مرتبہ دیکھی گئی

حصہ دوم

اس حصہ میں ہم روشن خیالی کے بنیادی اشاروں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ چند ایک الہیاتی پیچیدگیوں کو بھی زیر بحث لاٸیں گے، جیسا کہ متی کی انجیل کے باب نمبر دس کی آیت نمبر بیس میں درج ہے، ” کیوں کہ بولنے والے تم نہیں بلکہ تمہارے باپ کا روح ہے جو تم میں بولتا ہے۔“ باپ یعنی خداوند، جبکہ خدا تو خود حالتِ تجرید میں ہے اور روح کا تعلق بھی مابعدالطبیعات سے ہے مطلب جو انسانی اپروچ میں نہ آٸے، تو پھر کس نے خدا کو یعنی تجرید کو محسوس کر لیا بلکہ اس کے اندر ایک اور تجرید یعنی خداٸی روح کا راز بھی پا لیا، اور پھر اس خداٸی روح کو ایک انسانی وجود یعنی یسوع کے اندر بھی دیکھ لیا، مجھے تو ایسی روح انسانی عقل و فہم سے بالا تر دکھاٸی دیتی ہے۔ بہرحال پھر بھی آپ سب کے سامنے سوال کھڑا کیے دیتا ہوں کہ یہ خداٸی روح کا معمہ کیا ہے?

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر الہیاتی احکام ابدی تھے تو پھر عہد نامہ قدیم یعنی زبور کے کیوں نہ ہوٸے، چونکہ یہ پہلے رقم و ترتیب دیے گٸے باضابطہ احکامات تھے اور بعد از الہیاتی کتب میں پہلے والے اکثر احکامات کی تکرار کیا ثابت کرتی ہے?

مجھے ایک بار یہ بھی کہنا ہے کہ یسوع کی آٸیڈیالوجی انسان دوست ہونے کے ساتھ ساتھ نرم بھی تھی، متی ایک جگہ ان کا ایک بیان رقم کرتا ہے کہ ” یسوع نے کہا یہ کہ خون نہ کر، “ جبکہ مجھے تو اس کے برعکس آخری ماوراٸی مہابیانیہ خون میں لت پت نظر آتا ہے۔ اس درج بالا آیت سے ایک نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ الہیاتی احکامات میں اپنے اس خون والے بیانیے میں تضاد کیوں آ جاتا ہے، مثلا خداوند ، یسوع کو خون نہ کرنے کا کہتا ہے اور جناب محمد کو خون کی ندیاں بہانے کا حکم جاری کر دیتا ہے۔ اگر وہی خداوند یسوع کو اور بات کرتا ہے اور محمد کو اور، تو پھر قرآن میں پہلی کتابوں کی تصدیق و تاٸید والا نعرہ کہاں گیا? اور پھر یہ تضاد آخر کیوں کر آ گیا اور کیسے آ گیا?

یسوع کی انسان دوست اور نرم آٸیڈیالوجی کی ایک اور مثال رقم کرتے ہیں،
”یسوع نے اس سے کہا میاں ! جس کام کو آیا ہے وہ کر لے۔اس پر انہوں نے پاس آ کر یسوع پر ہاتھ ڈالا اور اسے پکڑ لیا اور دیکھو یسوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے ہاتھ بڑھا کر اپنی تلوار کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر پر چلا کر اس کا کان اڑا دیا۔ یسوع نے اس سے کہا اپنی تلوار کو میان میں کر لے کیوں کہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کیے جاٸیں گے۔“
یہاں پر آپ دیکھیں کہ جو بندہ یسوع کو پکڑ لیتا ہے اور یسوع کا ساتھی دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوٸے جب اس کا تلوار سے کان کاٹ دیتا ہے تو یسوع اس موقع پر کس قدر اچھا حکم جاری کرتا ہے کہ جو تلوار سے لوگوں کو مارتے ہیں وہ سبھی تلوار سے مارے جاٸیں گے، مطلب خون سے یسوع کوسوں دور نظر آتے ہیں۔

الہیاتی تعلیم، دراصل صاحب اختیار کی پوزیشن لیے ہوٸے تھی، یسوع بھی اسی پوزیشن کو اختیار کرتے ہوٸے لوگوں کو تعلیم دیا کرتا تھا، مثلا مرقس کی انجیل کے پہلے باب میں رقم ہے، ”اور لوگ اس کی تعلیم سے حیران ہوٸے کیوں کہ وہ ان کو فقیہوں کی طرح نہیں بلکہ صاحب اختیار کی طرح تعلیم دیتا تھا۔“ یہاں ایک مغالطہ کی وضاحت بھی کرنا چاہوں گا جو کہ الہیاتی کتب میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ ہر آنے والی کتاب اپنے سے پہلے والی کتاب کی تصدیق کرتی ہے اور ان الہیاتی کتب میں باتوں کی تکرار بھی دیکھنے کو ملتی ہے تو پھر ہر نبی کی اپنی اور اصل بات کیا ہے? انسانی ضروریات اپنے معاصر تقاضوں کے مطابق چلتی ہیں اور تمام انبیا اپنے دور کے لیے تھے، اور انہوں نے اپنی معاصرت کو یقیناً پیش نظر رکھا اور اسی کے مطابق ہی اپنے لوگوں کو تعلیم دی، جو کہ اصل بات تھی، اسی حوالہ سے مرقس کی انجیل سے ایک آیت ملاحظہ ہو، ”اور سب لوگ حیران ہوٸے اور آپس میں یہ کہہ کر بحث کرنے لگے کہ یہ کیا ہے? یہ تو نٸی تعلیم دیتا ہے!“
اس مذکورہ آیت سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ یسوع اپنے معاصر تقاضوں کے مطابق انسانیت ساز تعلیم سے لوگوں کو روشناس کرتا تھا۔ ہاں یہ الگ بحث ہے کہ پھر الہیاتی باتوں کی تکرار کیا ہے? اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ الہیات کی بقا، تکرار میں ہی مضمر تھی۔ وگرنہ تو لوگ کہتے کہ یہ پھر کس خدا کی بات کر رہا ہے، مطلب خداٸی اکاٸی کو قاٸم رکھنا بھی تو باقی تھا، یسوع کی بلکہ سبھی انبیا کی یہ مجبوری تھا، الہیاتی اکاٸی کو قاٸم رکھنا۔ بہرحال یسوع کی آٸیڈیالوجی اپنی ایک نٸی شکل کے ساتھ سامنے آٸی، جو دوسرے نبیوں کی نسبت نہایت لچکدار تھی۔

جیسا کہ آغاز میں ہم نے کہا تھا کہ یسوع ، خدا کو مابعد الطبیعاتی کاٸنات سے نکال کر مادی دنیا میں لے آتا ہے، اسی حوالہ سے ہم یہاں ایک مقدمہ درج کرتے ہیں اور پھر اس کی وضاحت کریں گے، مقدمہ کے الفاظ ”نیا عہد نامہ“ سے پیش کریں گے لیکن اس سے پہلے ایک گنجلک بات کی صراحت کرنا چاہوں گا، مثلا قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ” خدا بے مثل ہے“ جبکہ نیا عہد نامہ میں خداٸی ہستی کو مادی مثالوں سے سمجھایا گیا ہے، کتاب محمد میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ یہ کتاب یعنی فرقان حمید دوسرے انبیا کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، جبکہ دیگر الہیاتی کتب کے کٸی احکامات ایک دوسرے سے نہیں ملتے، تو پھر یہ تضادات کا معمہ کیا ہے? ابھی ہم اسی حوالہ سے یسوع کی کتاب سے کچھ آیات پیش کرتے ہیں۔

”اور اس نے کہا خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوٸی آدمی زمین میں بیج ڈالے۔
اور رات کو سوٸے اور دن کو جاگے اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔
زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی۔ پھر بالیں۔ پھر بالوں میں تیار دانے۔
پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آ پہنچا۔
پھر اس نے کہا کہ ہم خدا کی بادشاہی کو کس سے تشبیہ دیں اور کس تمثیل میں اسے بیان کریں?۔
وہ راٸی کے دانے کی مانند ہے کہ جب زمین میں بویا جاتا ہے تو زمین کے سب بیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔
مگر جب بو دیا گیا تو اگ کر سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور ایسی بڑی ڈالیاں نکالتا ہے کہ ہوا کے پرندے اس کے سایہ میں بسیرا کر سکتے ہیں۔
اور وہ ان کو اس قسم کی بہت سے تمثیلیں دے دے کر ان کی سمجھ کے مطابق کلام سناتا تھا۔
اور بے تمثیل ان سے کچھ نہ کہتا تھا لیکن خلوت میں اپنے خاص شاگردوں سے سب باتوں کے معنی بیان کرتا تھا۔“

پہلی چار آیات میں یسوع نے خدا کو انسانی محنت سے جوڑا ہے، مثلا جو بیج انسان اپنے ہاتھوں سے بوٸے گا اور نتیجے میں جو اناج پاٸے گا وہی محنت کا اناج ”خدا“ ہے۔
ان سے اگلی ایک آیت میں یسوع ، خدا کو طرح طرح کی تشبیہوں اور تمثیلوں سے سمجھانے کا اشارہ کیے دیتا ہے، یہاں وہ دو آیات میں راٸی کے دانے کی مثال پیش کرتا ہے، کہ جب اس ننھے سے بیج کو زمین میں بویا جاتا ہے تو وہ بڑا ہو کر جہاں انسانوں کو فاٸدہ دیتا ہے وہیں وہ پرندوں کے لیے بھی سایہ فراہم کرتا ہے اور ان کے لیے باعث راحت بنتا ہے۔ انسانی کام، اغیار جنس کے لیے جب مفید ٹھہرتے ہیں تو تب خدا اپنے آپ کو یہاں پر یونیورسل پوزیشن میں ظاہر کرتا ہے۔
آخری دو آیات میں ایک کنایتاً اشارہ کیا گیا ہے کہ یسوع جہاں خداٸی ہستی کو تمثیلوں سے لوگوں پر ظاہر کرتا تھا وہیں وہ خلوت میں اپنے خاص شاگردوں پر سب باتوں کی حقیقت بھی عیاں کر دیا کرتا تھا۔
ان آیات کے تجزیے سے جو نتیجہ سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ یسوع کا خدا انسان دوست ہے اور اس خدا کا وجود انسانی محنت اور انسان کی دوسری زمینی مخلوق کے لیے مثبت سوچ کے معنوں میں نظر آتا ہے۔
یہاں دو چار مزید تمثیلیں یسوع کی خدا کے بارے میں پیش کرتے ہیں، متی کی انجیل کے باب نمبر باٸیس میں درج ہے کہ ” اور یسوع پھر ان سے تمثیلوں میں کہنے لگا کہ آسمان کی بادشاہی اس بادشاہ کی مانند ہے جس نے اپنے بیٹے کی شادی کی۔“ اب بیٹے کی شادی سے کیا مراد ہے? میرے خیال میں یسوع کی مراد خود ان کی اپنی تعلیم ہی خداٸی درجے کو ظاہر کر رہی ہے، جس میں خوشی ہے، خیر ہے اور آسمان کی بادشاہت سے مراد اسی خوشی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ پھر آگے انجیل میں ایک جگہ پر کچھ یوں درج ہے کہ ”وہ تو مردوں کا خدا نہیں بلکہ زندوں کا ہے، لوگ یہ سن کر ان کی تعلیم سے حیران ہوٸے۔“ یسوع یہاں صریحاً کہہ اٹھتا ہے کہ خدا صرف زندوں کا ہے نہ کہ مردوں کا۔ تو مردوں کا خدا نہ ہونے سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع خدا کو مادی سطح پر لے آتا ہے اور اسے تغیر پذیر پوزیشن سے واضح کرتا ہے نہ کہ پھر اسے تجرید کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ زندوں کا خدا کا ایک حقیقی مطلب یہ ہے کہ جیتے جاگتے انسان خود اپنا خدا خود رکھتے ہیں، اپنی عقل کا آزادانہ استعمال کرتے ہوٸے، یعنی انسانی عقل ہی خدا ہے۔

خدا کے روپ کی ایک اور بہت عمدہ مثال یسوع دیتے ہیں جو نہایت لطیف ہے، ملاحظہ کریں;
”اس وقت آسمان کی بادشاہی ان دس کنواریوں کی مانند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دلہا کے استقبال کو نکلیں، ان میں پانچ بیوقوف اور پانچ عقل مند تھیں۔ جو بیوقوف تھیں انہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔ مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کپیوں میں تیل بھی لے لیا۔ اور جب دلہا نے دیر لگاٸی تو سب اونگھنے لگیں اور سو گٸیں۔ آدھی رات کو دھوم مچی کہ دیکھو دلہا آ گیا! اس کے استقبال کو نکلو۔ اس وقت وہ سب کنواریاں اٹھ کر اپنی اپنی مشعل درست کرنے لگیں۔اور بیوقوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو کیوں کہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔ عقلمندوں نے جواب دیا کہ شاید ہمارے تمہارے دونوں کے لیے کافی نہ ہو۔ بہتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔ جب وہ مول لینے جا رہی تھیں تو دلہا آ پہنچا اور جو تیار تھیں وہ اس کے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گٸیں اور دروازہ بند ہو گیا۔ پھر وہ باقی کنواریاں بھی آٸیں اور کہنے لگیں اے خداوند ! اے خداوند ! ہمارے لیے دروازہ کھول دے۔ اس نے جواب میں کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں تم کو نہیں جانتا۔ پس جاگتے رہو کیوں کہ تم نہ اس دن کو جانتے ہو نہ اس گھڑی کو۔“
یہاں پر خدا کا روپ انسانی ذمہ داریوں سے جڑا نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کوٸی بھی کام کرو تو اسے پوری توجہ اور ذمہ داری سے سر انجام دو، جو لاپرواہی کرتے ہیں، خوشیاں ان کا مقدر نہیں بنتی بلکہ ان پر ان کے دروازے تک مقفل کر دیے جاتے ہیں۔ یہاں پر یسوع، خدا کے جلوہ کو ایک ذمہ دار انسان کے روپ میں ظاہر کرتا ہے اور یسوع انہی ذمہ دار لوگوں کے حصے میں ہی خوشیوں کے جشن کی نوید دیتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔