نہیں کھلتی تماشے کی حقیقت

یہ تحریر 398 مرتبہ دیکھی گئی

امجد اسلام امجد کی شعر فہمی کا قائل ہوں۔ اس نے “نئے پرانے” کے عنوان سے اردو غزل کا جو انتخاب کیا ہے اس پر نظر ڈالنا ہی کافی ہوگا۔ 448 صفحوں میں سترہ شاعروں کے چیدہ چیدہ اشعار یکجا کر دینا بڑی متوجہ خواندگی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ شاعروں کے فنی کمال کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے جو قطعی طور پر پروفیسرانہ نہیں بلکہ شگفتہ پیرائے میں کام کی باتیں کہی ہیں۔

“ایک گرہ کھل جانے سے” امجد اسلام امجد کا سترھواں شعری مجموعہ ہے۔ مجھے اس پر رائے زنی کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ باقی سولہ مجموعوں میں سے ایک دو ہی، کبھی بہت پہلے، نظر سے گزرے ہیں۔ اس لحاظ سے میں جو کچھ بھی لکھوں گا وہ کچھ معقول نہیں ہو سکتا اور عین ممکن ہے منصفانہ بھی نہ ہو۔

بات “نئے پرانے” ہی سے شروع کرنی پڑے گی۔ یہ انتخاب، جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، بیشتر غزلیہ اشعار پر مشتمل ہے۔ امجد نے تعارف میں لکھا ہے: “تخلیقی ذہن ایک پُراسرار چیز ہے اور میرا شروع سے یہ ایمان رہا ہے کہ تنقیدی ذہن تجزیوں اور علمی طریق ہائے کار سے جتنے چاہے دام بچھا لے پُراسراریت اس کے قابو میں نہیں آتی۔” غزل نظم سے زیادہ پُراسرار معلوم ہوتی ہے اور یہی طرفگی اسے آج تک زندہ رکھے ہوئے ہے۔ صرف دو مصرعوں میں مضمون اور ردیف اور قافیے تینوں سے نباہ کرنا آسان نہیں۔

غزل فہمی کی اسی استعداد کے باعث امجد کے نئے مجموعے میں غزلوں کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ ممکن ہے باقی مجموعوں  میں بھی یہی کیفیت ہو۔ اس بات سے یہ نتیجہ ہرگز اخذ نہ کیا جائے کہ امجد کی نظموں میں تہ داری یا کشادگی نہیں ہے۔ جسے زبان کی باریکیوں اور تخلیقی عمل کی اعجوبگی کا علم ہو وہ کسی بھی صورت میں پچھڑا ہوا دکھائی نہ دے گا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ غزل امجد کے مزاج سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔

پہلے تھوڑا سا جائزہ ان نظموں کا لیا جائے جو غزلوں کے ہم پایہ معلوم ہوتی ہیں۔ غالباً سب سے اثر انگیز “بلیک ہول” ہے۔ کبھی اس سے مراد نہایت تنگ کال کوٹھری تھا لیکن جدید فلکیات میں یہ ترکیب سیاہ روزن کی نشان دہی کرتی ہے۔ یہ ایسا قعر ہے جو ہر شے کو، حتیٰ کہ روشنی کو بھی، جو اس کے قریب آئے، نگل جاتا ہے اور اس کے بعد اس شے پر کیا گزرتی ہے، یہ کسی کو نہیں معلوم۔ سیکڑوں ہزاروں سال بعد شاید سیاہ روزنوں کے تار و پود سے پردہ اٹھ جائے۔ اور یہ سیاہ روزن کائنات میں چند نہیں ہزاروں ہیں بلکہ شاید لاکھوں ہوں۔ امجد نے اس کا رشتہ دلِ آدم سے جوڑا ہے اور مشرق کی سرّی تعلیمات میں، دماغ نہیں، دل ہی مرکزِ ذات بلکہ مرکزِ کائنات ہے۔ اگر بقول خواجہ میر درد دل ہی میں ارض و سما (دوسرے لفظوں میں کون و مکاں) کی وسعت تو کیا خود الوہیت سما سکتی ہے تو پھر اس میں کیا کچھ پوشیدہ نہ ہوگا۔ انوار بھی ہوں گے اور سیاہ روزن بھی۔

ایک اور نظم “وہ اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے” ایک ایسے لمحے کے گرد بنی گئی ہے جو روح میں جذب ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے دل فگار لمحے زندگی میں کم ہی آتے ہیں اور بعض لوگوں کی زندگی میں آتے ہی نہیں۔  یہ مسلسل یاد آتے بھی نہیں لیکن جب کبھی، کوندے کی طرح، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھر کر جلوہ فرما ہوتے ہیں اور ایسے بے نام حزن سے دوچار کر جاتے ہیں جسے شاعری میں بھی صرف چھوا ہی جا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کچھ اختصار سے نظم اور سنور سکتی تھی لیکن مجھے اپنے خیال پر اصرار نہیں۔

دوسری قابلِ ذکر نظموں میں “ڈسٹ بن”  “کچھ ٹھیک سے پتا نہیں چلتا” “زندگی بس ریاضی کا پرچہ نہیں”  “کون پوچھے یہ مالکِ کُل سے” اور “تین شعر” شامل ہیں۔ بعض نظموں پر منظوم خطابت کا گمان ہوتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کرتارپور یا کورونا پر کچھ لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ بھی نہیں کہ امجد اس میدان میں اکیلا ہو۔ ہمارے بڑے بڑے شاعر قصیدے، سہرے اور نہ جانے کیا کیا اپنے سرپرستوں کی فرمائش پر لکھ چکے ہیں۔ ان کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے۔ امجد کو کسی ایسے جبر کا سامنا نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اب وہ ملی یا دنیوی سطح پر ایک ترجمان کی امیج کا حامل ہے اور اسے امیج کی پاس داری کرنی ہی پڑتی ہے۔

بطور شاعر اس کی شستگی کے جوہر دیکھنے مقصود ہوں تو غزلیں پڑھنی چاہییں۔ جس نے اردو غزل کی جہات کو، زبان، مضمون، آہنگ اور معنویت کے لحاظ سے، اس توجہ سے دیکھا ہو اور شعری شوق و ذوق میں رچا ہوا ہو، وہ اچھی غزل کیوں نہ کہہ سکے گا۔ اس کی مختصر بحروں کی غزلوں نے خاص طور پر چونکایا۔ جب آپ کے پاس جگہ ہی اتنی ذرا سی ہو تو معنی آفرینی کے تقاضے بہت بڑھ جاتے ہیں۔ مثلاً “سب ہی آزاد ہیں / تا بہ حدِ قفس” یا “پہلے خالی تھی دکاں / اب خریدار نہیں۔” میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ امجد نے اتنی مختصر بحر پہلی مرتبہ برتی ہے۔ سب سے دلچسپ غزل “سب کو درکار ہے صرف دو گز زمیں” ہے۔ یہ گویا تمام کی تمام لیوتولسائی کی شہرہ آفاق کہانی “آدمی کو کتنی زمیں چاہیے” کی شاعرانہ تفسیر ہے اور لطف سے خالی نہیں۔

غالب کا مطالبہ تھا کہ آم بہت سے اور میٹھے ہوں۔ اس مجموعے میں بھی غزلیں بہت سی ہیں لیکن ظاہر ہے میٹھی نہیں۔ دنیا نے رنگ ہی ایسا اختیار کر لیا ہے کہ ہم مٹھاس کے لیے نراس ہو کر رہ گئے ہیں۔ بہرحال، امجد نے کیا کیا عمدہ شعر کہے ہیں اور دل کو بار بار چھوا ہے۔

یہ دنیا ہے یہاں چلتا ہے سب کچھ

کوئی سکہ یہاں کھوٹا نہیں ہے

جہاں ہر چیز ہو اپنی جگہ پر

کسی کے پاس وہ نقشا نہیں ہے

یہی تو المیہ ہے۔

ایک گرہ کھل جانے سے از امجد اسلام امجد

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

صفحات: 232؛ آٹھ سو روپیے