نظم

یہ تحریر 198 مرتبہ دیکھی گئی

نیند کا جو بھی دَر کھُلا دیکھا
اَوٹ میں خواب ہی چُھپا دیکھا

شور سُنتے تھے کوچہِ دل کا
بارے وہ بھی اُجاڑ جا دیکھا

یاد آئی کوئی پرانی بھوک
پھر سے ہنستا ہوا توا دیکھا

اپنا مشتاق کب زمانہ تھا
کر لیا حال تُو نے کیا، دیکھا
۲۰۱۶ء