نصرت کا سفر نامہ

یہ تحریر 54 مرتبہ دیکھی گئی

” چلو تمہیں پان گلی دکھادوں انارکلی میں ہے ”
بہادر صاحب نے ناشتہ کرتے کرتے اچانک آفر کی ۔ یقینأ کرسی کے نیچے موجود ان کی ٹانگ خودبخود حاتم طائ کی قبر پر جا لگی ہوگی ۔
نصرت بی کی بھاگم بھاگ تیاری میں ناشتہ کا وقت نہ رہا ۔ ویسے تو کرونا کے بعد سے ان کی زندگی میں اتنا سکون ہوگیا ہے بس صاف استری شدہ کپڑے پہن کر منہ پر ماسک لگاو اور چلو جی جہاں مرضی چلے پھرو ۔ نہ کوئ تیاری کا جھنجھٹ رہا نہ اچھا برا یا نامناسب لگنےکاخوف ۔ ڈیڑھ سال سے کیمیکل فری زندگی گزار رہی ہیں ۔ نہ بیوٹی پارلر نہ درزی بزاز کا کھڑاک ۔ کیسی مزے کی زندگی ہے ۔ لیکن اس پان گلی کے نام نے سوئے ارمان جگادیئے ۔ سنا تھا ایسی ایسی بنارسی ساڑھی ملتی ہے کہ جو ہیما مالنی اور ریکھا پہنتی ہیں ۔
لو جی نکل پڑیں انارکلی کی شان دیکھنے ۔ لکشمی چوک والے اورنج ٹرین اسٹیشن پر اتریں ۔ وہاں سے رکشہ لیا ۔سیوک رام بلڈنگ والی سڑک پر دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے سامنے سےگزرتی اردو بازار کے سامنے سے ذرا آگے ایک پٹھورے والےکے سامنے جابریک لگائ ۔ خالی معدہ پٹھورے چنے اور اچار دیکھ کر ہمکنے لگا ۔ چار پانچ پٹھورے اور لسی کا کلاس پی کر کچھ طبیعت بہلی ۔
پان گلی میں وہ تھیں پان چھالیہ قوام اور ہر طرح کے تمباکو کی خوشبوئیں تھیں ۔ اور ساڑھیاں تھیں اور جیسے پاررررری ہورہی تھی ۔ خوب دل بھر کے ساڑھیاں دیکھیں ۔ ایک ہرے پلو والی سرخ بنارسی ساڑھی خریدلی اور مزید کے لیے دوبارہ آنے کا قصد کیا سوچا چار ایک سیانے ساتھ لاونگی یونہی تھوڑی چھپ چھپا کے خریداری ہوتی ہے مشورہ اور مو ل تول کیے بغیر ۔
واپسی میں کافی دیر سڑک پر کھڑے کھڑے خالی رکشہ نہ ملا ۔ دیر ہورہی تھی بالاآخر دس روپیہ فی سواری چنگ چی والا داتا صاحب داتا صاحب کی آواز لگا رہا تھا ۔ اسی کے پیچھے سوار ہوگئیں بہادر صاحب پیچھے والی سیٹ پر ٹک گئے ۔ موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل سواری اور قسطوں میں خودکشی کا دس روپیہ میں مزہ لے کر آخر منزل پر پہنچ کر حواس باختہ کو پندرہ سالہ ڈرائیور نے بازو سے پکڑ اتارا اور چنگ چی ایک جھٹکے سے یہ جا وہ جا ۔
کچھ دیر اپنے زندہ بچ جانے کا یقین کرنے میں لگی ۔ باقی سواریاں بھی کپڑے جھاڑتی شاپر سنبھالتی اور ڈولتے سروں کو واپس شانے پر مقررہ جگہ جمانے کی کوشش میں تھیں ۔ بہادر صاحب نظر نہ آئے ۔ گھور گھور کر دیکھا انکھیں مل کر چندھی کرکے اور پھاڑ پھاڑ کے بھی دیکھ لیا نہ دکھے۔ دل میں ہول سے اٹھنے لگے موبائل فون نکال کر نمبر ملایا تو فون بھی نہ اٹینڈ ہوا ۔ نصرت بی پریشان کھڑی سوچ رہی تھیں ارے کیا ہوئے بہادر صاحب ۔ میرا سہاگ میرے ہمسفر ہائے کیسے مزے سے پٹھورے کھارہے تھے ۔ پھر خیال آیا مجھے یہاں دھوکے سے تو نہیں چھوڑ گئے ۔ چڑنے بھی تو بہت لگے ہیں بات بات پر ۔ہائے اب گھر کیسے پہنچوں گی اچھا نکلی میں پان بازار کی سیر کو ۔ اچانک ایک سائیکل والا پاس آکر رکا ۔ بہادر صاحب نئ نویلی دلہن کی طرح اس کی کمر سے ہاتھ لپیٹے کاندھے پہ سر رکھے بیٹھے تھے ۔ بمشکل اترے ۔ ماتھے پہ گومڑ اور کہنیاں چھلی چھلائ سر میں خاک دھول ۔ پتہ چلا سپیڈ بریکر پر اچھل کر چنگ چی سے سڑک پر جاپڑے تھے ۔ سائیکل والا پیچھے پیچھے ارہا تھا اس نے بتایا گرے گرے بہت چلائے
” ذرا دیکھنا میری بیگم کو لیے جائے
رکشے والالیے جائے ذرا دیکھنا “
باقی آ ئندہ