نئ دنیا کا مسافر(حرف حیرت کے آئینے میں)

یہ تحریر 323 مرتبہ دیکھی گئی

” حرف حیرت “ سلیم سہیل کے ان مضامین کا مجموعہ ہےجووقتاًفوقتا تحریر کیے گئے ہیں اور انکےترجیحی مطالعے کا نتیجہ ہیں ۔ یہ مضامین ان کی نثری صلاحیتیوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ مختلف موضوعات پر مشتمل یہ مضامین ان کے ادبی ذوق اور ان کے مزاج اور نظریات کو تراشتے ہیں ۔ ان مضامین سے سلیم سہیل کی ادبی شخصیت ایک نئی وضعداری کے ساتھ ہم سے روبرو ہوتی ہے کہ اس میں تجزیاتی عناصر ، تبصراتی شعور ، تحقیقی شوق اور تنقیدی زاویے اجاگر ہوئے ہیں ۔ ان مضامین میں شاعری فکشن اور تراجم پر نظری مباحث شامل ہیں ۔ زبان کی روانی جذبات و خیالات کا ساتھ دیتے ہوئے قاری کو بڑی آسانی سے اس کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔


سلیم سہیل کے مضامین معروضی مطالعہ کی عمدہ مثال ہیں ۔ وہ اپنے معروض کی خصوصیات اس کے کلام سے اخذ کرتے ہیں ۔ وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ فن پارے کے صحیح خدوخال نمایاں ہوسکیں اور ہر فنکار کے بارے میں ان کا ایک واضح نقطہ نظر ہےسلیم سہیل کا مطالعہ ان کی روحانی واردات کا ہی دوسرا نام ہے۔ ان کی زبان وجودی تجربے سے روشنی اخذ کرتی ہے۔ اس روشنی میں وہ سب کچھ ظاہر ہوجاتا ہے جو کہا نہیں جاسکتا۔ یہ روشنی ان کی تمام نگارشات کے ساتھ ساتھ رینگتی ہے، مگر یہ اتنی تیز نہیں کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ کبھی کبھی تو یہ صرف ایک چمکیلے غبار یا دھند کی شکل میں ہوتی ہے جس میں اشیا اپنی تمام پوشیدہ جہات کو بھی پرچھائیوں کی شکل میں ظاہر کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس لیے سلیم سہیل کے مطالعے کا مرکز بھی صرف وہ تخلیقات ہی ہوتی ہیں جن سے ان کا کوئی ذہنی رشتہ قائم ہوتا ہے، اس لیے فن پارے سے وہ بے تعلق رہ ہی نہیں سکتے۔ سلیم سہیل کی تنقید میں یہ کرشمہ اس طرح نمودار ہوا ہے کہ فن پارے کے متن میں پوشیدہ وجودی تجربے اور تنقید کی زبان کے درمیان ایک موجودی طرزِاحساس کی ہم آہنگی قائم ہوجاتی ہے۔ اس طرح فن پارہ اپنی خالی جگہوں کو بھرتا ہے۔ تخلیق ایسی تنقید کی محتاج ہوتی ہے جو اسے مکمل کردے۔ سلیم سہیل کی تنقید ایسی ہے جو فن پارے کو مکمل کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اسے مکمل کرنے میں ہی تشریح و تفہیم کا وہ مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے جس کی تکمیل کے لیے تنقید وجود میں آتی ہے۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ سلیم سہیل کی تنقید تخلیق کے مقابلے میں دوم درجے کی شے نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے لیے اسی طور پر کسی ’تخلیق‘ کی محتاج نہیں ہے۔
”حرفِ حیرت“میں میر‘غالب‘اقبال
‘مجید امجد اور احمد مشتاق کی شاعری پر موصوف کے تنقیدی جائزے،معاصر اردو تنقید سمیت ادبی اور تنقیدی تحریکوں پر مضامین ، فکشن پر تنقیدی نکات مشرقی ادب کے ساتھ ساتھ مغربی نقادوں کی تحریروں‘کتب اور فن پاروں پر تجزیاتی شذرات ‘نوبل انعام یافتگان کی تحریروں پر انکی آرا ،قدیم ہسپانوی ناول اور بالخصوص ترجمے کی روایت۔اور مختلف گوشوں پر ان کے بصیرت افروز محاکمے قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں محمد سلیم الرحمن کی تراجم نگاری پر ان کی نگارشات ہمیں ایک سچے فنکار کی بازیافت سے روشناس کرواتی ہیں ۔
سلیم سہیل کے اسلوب میں تیکھا پن نہیں ہے ،شدت نہیں ہے،تندی بھی نہیں ہے،کوئ داو پیچ بھی نہیں،سلامت روی ہے ،ایک دیھما پن ہے،ان کی تحریریں پڑھئیے تو خنکی
اور ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے ایک آہستگی، شائستگی اور تہذیب کا،ان کے اسلوب میں ایک مرنجا کیفیت ہے جیسے کہ خود سلیم سہیل کی شخصیت ہے،انسانی وجود اور واردات کی حقیقت تک پہنچنے کی جیسی گہری طلب ،خیال کی جو دور رسی اور دبازت اور مختلف النوع علمی اور فکری ضابطوں کو اپنی جستجو سے ہم آہنگ کرنے کا سلیقہ اور صلاحیت ہمیں سلیم سہیل کی نگارشات سے ملتی ہیں وہ انھیں ہماری اردو تنقید میں اور ہمارے عہد کی تنقید میں یکساں طور پر ممتاز کرتی ہیں کسی بھی نقاد کی سب کاوشیں ابدی اور دائمی شہرت حاصل نہیں کرتیں مگر ادب کی تفہیم کے جو چراغ انھوں نے جلائے ہیں ان کی روشنی دیر تک اور دور تک دائرے بناتی چلی جائے گی اور عین ممکن ہے کہ ان کی نئ بصیرتیں اور نئ آگاہیاں حاصل ہوں۔۔۔۔

حسن رضا اقبالی کی دیگر تحریریں