” م و ت ہے مَوت “

یہ تحریر 118 مرتبہ دیکھی گئی

دیر ہو گئی ہے کیا؟
سوجھتا نہیں کچھ بھی
سامنے خلا سا ہے
پشت پر ہجوم ایسا
مڑ کے دیکھنا مشکل
ڈوبنے لگا ہے دل

دیر ہو گئی ہے کیا؟
زرد جھنڈیاں کیا ہیں
کون لوگ ہیں یہ سب
کون کہتا جاتا ہے
ہاتھ کاٹ دو ان کے
ہاتھ ان کے مت کاٹو
یہ بھی کوئی کہتا ہے
کوئی سن رہا بھی ہے
اس غبار کے اندر
کوئی راستہ بھی ہے؟

دیر ہو گئی ہے کیا؟
ہاتھ اور اتنے ہاتھ
ان کا کیا کریں گے ہم؟
ہر طرف ہیں سر ہی سر
جسم اور اتنے جسم
ان کو گن سکیں گے ہم؟
م و ت ہے مَوت
موت سے لڑیں گے ہم؟

دیر ہو گئی ہے کیا؟
ایک سرد کمرے میں
ایک زرد رو عورت
اپنے زرد ہاتھوں کو
اس طرح ہلاتی ہے
جیسے کوئی آیا ہو
جیسے دیکھتی ہو کچھ
کس کو یہ بلاتی ہے
کس کو یاد آتی ہے؟

دیر ہو گئی ہے کیا؟
نظم کی عبارت کا
زرد ہو گیا ہے رنگ
گرد پڑ گئی اس پر
آؤ اس کو پھر لکھو
پھر لکھو اسے آؤ
کیا لکھوں بتاؤ بھی
م و ت ہے مَوت
لو یہ لکھ دیا میں نے
اب اسے مٹاؤ تم
دائرہ بنے گا اب
دائرہ بناؤ تم

م و ت ہے مَوت
لو یہ لکھ دیا میں نے

یاسمین حمید
( ١١جون ٢٠٢٠)