میں زندگی کے کسی لمحے پر شرمندہ نہیں ہوں

یہ تحریر 290 مرتبہ دیکھی گئی

میں زندگی کے کسی لمحے پر شرمندہ نہیں ہوں: بلراج مین را

بلراج مین را 15 جنوری 2017 کو رخصت ہوئے تھے۔ آج 15 جنوری 2022 کی تاریخ ہے۔ یہ پانچ سال کا عرصہ تیز تر بھی گزرا اور کبھی یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔ میں اس وقت ان دونوں کیفیات کو منطقی اعتبار سے بیان نہیں کر سکتا اور یوں بھی وقت کے بارے میں کوئی منطقی انداز نظر وقت کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ مجھے 15 جنوری 2017 کی وہ سرد شام نہ صرف یاد ہے بلکہ اس کی اس سرد شام کی کپکپی میرے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ شمیم حنفی صاحب نے کہا تھا کہ سرور تم بلراج مین را کی آخری رسومات میں جا رہے ہو اور پھر ان کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔ ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ کسی طرح ثاقب فریدی کے ساتھ نگم بودھ گھاٹ پہنچ گیا جس کی تفصیلات میں بلراج مین را پر اپنے ایک مضمون میں لکھ چکا ہوں۔ آج کی شام بھی بہت سرد ہے۔ عجیب بات ہے کہ جنوری کی ان تاریخوں میں دلی کا موسم ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔ بلراج مین را کے رخصت ہونے کے بعد کی دلی کیسی لگتی ہے اس کو بتانے سے زیادہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اب تو دلی میں شمیم حنفی اور زبیر رضوی بھی نہیں ہیں۔ جن کے وجود سے بلراج مین را کے رخصت ہو جانے کا دکھ اور سناٹا کم ہو جاتا تھا۔ آج شمیم حنفی ہوتے تو مجھے فون کرتے اور مین را کی کوئی بات دوہراتے کہانی کا کوئی جملہ سناتے۔ آج مجھے اردو کے کسی ادیب نے فون کیا اور نہ میں نے۔ بس اپنے چند عزیزوں سے بات ہوئی۔ یہی کیا کم ہے کہ یہ چند نوجوان اردو زبان و ادب کا مستقبل ہیں اور ان جیسے دوسرے طالب علموں کے ساتھ بلراج مین را کا شعور بھی سفر کرتا رہے گا۔ اور بلراج مین را کی کہانی بھی گردش میں رہے گی۔ وقت کے ساتھ میرا یقین پختہ ہوتا جاتا ہے کہ بلراج مین را نے جن شرطوں کے ساتھ ادبی زندگی گزاری اس کی مثال مشرق ہی میں نہیں بلکہ مغرب میں بھی کم ملے گی۔ کیا اب کوئی ادبی معاشرے میں واقعتا پورے یقین کے ساتھ کہنے والا ہے کہ میں اپنی زندگی کے کسی لمحے پر شرمندہ نہیں ہوں۔ اور یہ کہ آپ مجھے استعمال نہیں کر سکتے۔ اشتراکیت اور وجودیت جب مل جاتی ہے تو وجود انکار کی صورت میں انگارہ بن جاتا ہے۔ 15 جنوری 2017 کو وہ وجود جو اندر سے انگارہ تھا وہ بظاہر کچھ دیر میں دیکھتے دیکھتے وجود سے اٹھنے والی آگ کی ظاہری لپٹوں کے ساتھ خاموش ہو گیا مگر خاموش بھی کہاں ہوا۔ بلراج مین را کو اور ان کی کہانیوں کو پڑھنے اور یاد کرنے والے نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جنوری کی 15 تاریخ قریب آ رہی تھی اور دریاگنج بک بازار کی طرف میرا رخ ہو گیا۔ اب وہ بک بازار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ریڈیمیڈ کپڑوں کی خرید وفروخت کا بازار گرم ہے۔ سستی داموں وہاں سے کپڑے خریدے جا سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے بلراج مین را نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ اب یہاں سے کتابیں غائب ہوتی جا رہی ہیں اور کپڑے زیادہ آرہے ہیں۔ سستے کپڑوں کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ ایک طرح کی سہولت بھی ہے۔ انھیں فٹ پاتھ پر فروخت ہونے والی کسی شے کو خریدنے یا دیکھنے میں کوئی تکلف نہیں ہوتا تھا۔ کئ مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ رک گئے اور قیمت پوچھی۔ انھوں نے کبھی کسی کتاب کو خریدتے ہوئے قیمت کو کم کرانے کی کوشش نہیں کی۔ دوکاندار سمجھ جاتا تھا کہ وہ قیمت زیادہ مانگ رہا ہے۔ خود ہی کہتا کہ آپ بس اتنا دے دیجیے۔ چند دکانیں ہی تھیں جہاں وہ رکتے تھے اور انھیں کچھ نہ کچھ مل جاتا تھا۔ کتابوں کو تھیلے میں رکھنے کے بعد وہ پھر انھیں گھر پر ہی دیکھتے تھے۔ میں پوچھتا کہ آپ گھر پہنچ گئے تو جواب ملتا کہ بس پہنچا ہوں اور کتابیں دیکھ رہا ہوں۔ گزشتہ دسمبر کے دو اتوار دریا گنج کی طرف جانا ہوا۔ یوں تو لا حاصلی کا سفر تھا لیکن ان کے گزرنے اور ٹھہرنے کے جو مقامات تھے وہ میرے لیے کسی نئے تجربے سے کم نہیں تھے۔ یہ یادداشت ہی نہیں بلکہ ایک معنی میں افسردہ کر دینے والے تجربے بھی ہیں۔ آج کی شام بھی اپنی ٹھٹھرن کے ساتھ بھیگتی جا رہی ہے لیکن دور کہیں اٹھتے ہوئے شعلوں کا
احساس بھی ہو رہا ہے۔