منٹو فاروقی کی نظر میں

یہ تحریر 256 مرتبہ دیکھی گئی

جب منٹو جیسے نابغے کی افسانہ نویسی پر شمس الرحمٰن فاروقی تبصرہ کریں، جو خود ایک غیرمعمولی شخصیت تھے، تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ بہت سی خیال افروز باتیں پڑھنے کو ملیں گی اور کہیں کہیں بے تکاپن بھی نظر آئے گا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ جہاں آدمی نوے باتیں کام کی کہے وہیں دس باتیں ایسی بھی لکھ ڈالے جن سے اتفاق کرنا دشوار ہو۔

فاروقی صاحب نے کتاب کے آخر میں لکھا ہے کہ “ہمارے ادب میں منٹو پہلا آدمی ہے جسے کسی نقاد کی ضرورت نہیں۔” یہ قول بالکل درست ہے۔ البتہ اردو افسانہ نگاری پر جو نقاد بھی اظہارِ خیال کرنا چاہے گا وہ منٹو سے کترا کے نہیں نکل سکتا۔ وہ زمانے گئے جب منٹو کو فحش نگار، جنس زدہ، یا سنسنی پھیلانے والا افسانہ نگار کہہ کر ناپسندیدہ یا قابلِ مواخذہ سمجھا جاتا تھا۔ اب جو کچھ پڑھنے یا دیکھنے کے لیے ہر طرف دستیاب ہے اس کے پیشِ نظر منٹو پر چسپاں کیے گئے یہ لیبل بے معنی ہو چکے ہیں۔ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ منٹو عظیم افسانہ نگار ہے اور اس کے فن کو پرکھنے کے لیے نئے زاویے اپنانے پڑیں گے۔

فاروقی صاحب نے لکھا ہے: “ہمارے قدیم ادب میں نظریہ ساز نقاد، خواہ وہ عرب ہوں یا ہندو، انھوں نے فحش اور غیرفحش کی تعریف نہیں کی ہے۔ یہ باتیں ہماری قدیم ادبی روایت میں نہیں ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ یہ باتیں اس طرح متعین نہیں ہو سکتیں کہ ان پر کثیر تعداد میں لوگوں کا اتفاق ہو جائے۔” دراصل یہ سب انگریزی راج کی کارستانیاں ہیں۔ 1857ء میں اپنے خلاف مزاحمت کو کچلنے کے بعد انگریزی حکومت نے پریس، کتابوں اور رسالوں پر گرفت رکھنے کے لیے قوانین وضع کیے تاکہ حکومت کے خلاف کوئی چیز نہ چھپے اور اگر چھپ جائے تو لکھنے اور چھاپنے والے کو سزا دی جائے۔ فحاشی کو قابل گرفت قرار دینا بھی اسی طرزِ عمل کا حصہ تھا۔ وکٹورین دور تھا اور جنسی معاملات کے اظہار کو اخلاق سوز تصور کیا جاتا تھا۔ اس تصور کو اردو ادب میں اپنا کر فرض کر لیا گیا کہ شاعری اور فکشن جیسی سنجیدہ اصناف میں اوباشانہ فضولیات کی گنجائش نہیں۔

یہ سب قصہء پارینہ ہو چکا۔ جن افسانوں کو آج سے ستر ایسی سال پہلے فحش قرار دیا گیا تھا وہ، تیزی سے بدلتی دنیا میں، ذرا بھی فحش معلوم نہیں ہوتے۔ منٹو کے افسانوں پر نئے سرے سے نظر ڈالنے پر فاروقی صاحب کو اشعر نجمی نے اکسایا۔ پہلے تو فاروقی صاحب نے اشعر نجمی کے اس خیال کی تردید کی کہ منٹو خودپسند بہت تھے، توجہ کا مرکز بنے رہنا چاہتے تھے۔ اسی جذبے کے تحت وہ آخری دم تک سیاسی مضامین اور خاکے لکھتے رہے۔ ان کی باتوں میں فکر کی گہرائی نہیں ہے۔ فاروقی صاحب نے پہلی بات تو یہ کہی کہ “یہ خیال کہ کسی کی تحریریں پڑھ کر ہم اس کی شخصیت کو جان سکتے ہیں قطعاً غیرمنطقی ہے۔” علاوہ ازیں منٹو نے اپنے ان مضامین میں جس ژرف نگاہی کا ثبوت دیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل، اپنی تمام خرابیوں اور مخمصوں سمیت، ان پر آئینہ تھا۔ یہ ایسا کمال ہے جس کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔

فاروقی صاحب کی رائے میں منٹو کے بعض افسانے اگر کم زور ہیں یا قائل نہیں کرتے تو اس کی وجہ سے ان کی زود نویسی تھی۔ جب وہ جوان تھے تو صبر اور تحمل سے عاری تھے۔ بعد کے دنوں میں انھیں فرصت نہ تھی یا یوں کہہ لیجیے کہ افسانہ نویسی ہی ان کا ذریعہء معاش تھی۔ اپنے اخراجات کی خاطر انھیں، روز نہ سہی، ہفتے میں دو تین افسانے تو لکھنے ہی پڑتے تھے۔ انھوں نے کبھی اپنے لکھے پر نظرثانی کا اہتمام نہ کیا۔ نظرثانی کجا، وہ اپنا لکھا پڑھتے بھی نہ تھے۔ جب حالات کی نوعیت ایسی ہو تو کسی معیار کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حیرت ہے تو یہ کہ اس زودنویسی کے باوجود انھوں نے بیسیوں کمال کے افسانے لکھے۔ دوسری طرف یہ بھی مدِنظر رہے کہ بعض بہت عمدہ خاکے بھی تحریر کیے اور ان کو کسی طرح زود نویسی کا نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

“سیاہ حاشیے” میں درج تحریروں کو عسکری صاحب نے لطیفے قرار دیا تھا۔ ممکن ہے کہ یہاں لطیفے سے مراد دوچار سطروں پر مشتمل واقعہ نہیں جسے پڑھ یا سن کر ہنسی آئے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے ماجروں میں لطائف جیسی کفایت برتی گئی ہے۔ ہنسی تو خیر کیا آسکتی ہے، خوف آسکتا ہے۔ فاروقی صاحب کا یہ محاکمہ قوی ہے کہ “سیاہ حاشیے” بہت بڑی کتاب ہے لیکن اگر ایسی دوچار کتابیں میں اور پڑھ لوں تو مجھے زندگی سے نفرت ہو جائے۔

ممتاز شیریں نے کہیں لکھ دیا تھا کہ منٹو کی ہلاکت / شاہینہ قاتل ضرور ہے مگر لیڈی میکبتھ یا کلوتٹی منیترا نہیں۔ اس پر فاروقی صاحب تبصرہ کرتے ہیں کہ ممتاز شیریں علمیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے نام لیتی تھیں لیکن ان کا پس منظر بیان کرنے کی زحمت نہ اٹھاتی تھیں۔ منٹو، بہرحال، شاعر نہ تھے جب کہ شیکسپیئر اور ایسخولوس کے بے مثل شاعر ہونے میں کلام نہیں۔ منٹو کا کردار، کتنا ہی خونی سہی، ان کے مقابلے میں کم تر ہی نظر آئے گا۔ فاروقی صاحب “کھول دو” پر رائے زنی کرتے ہوئے خود “کنگ لیئر” کو زیرِ بحث لے آتے ہیں اور تقاضا کرتے ہیں کہ منٹو نے شیکسپیئر کی طرح کیوں نہ لکھا۔ یہ تقاضا دل کو نہیں لگتا۔

بعض باتیں اور بھی ہیں جن کو پسند نہیں کیا جا سکتا یا صحیح سمجھنے میں تامل ہے۔ ص10 پر وارث علوی کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ فاروقی صاحب کو زیب نہیں دیتا۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ “لیوسا (جسے بعض لوگ قابلیت کے ہیضے میں مبتلا ہو کر یوسا لکھتے ہیں)”۔ اصل میں دونوں تلفظ درست ہیں۔ بعض حروف کا تلفظ اسپین میں اور ہے اور جنوبی اور وسطی امریکہ میں اور، جہاں برازیل کو چھوڑ کر تمام ملکوں کی سرکاری زبان ہسپانوی ہے۔ سپین میں لیوسا یا صدر ال یندے رائج ہے اور امریکہ میں یوسا یا صدر ایندے۔ لفظوں کے تلفظ کا یہ فرق انگریزوں اور امریکیوں کے ہاں بھی موجود ہے۔ انگریز اینٹی ٹینک، سیمی فائنل اور مزائل کہتے ہیں اور امریکی اینٹائی ٹینک، سیمائی فائنل اور مزل۔

منٹو کے ایک مضمون کے بارے میں پتا نہیں چلتا کہ کب لکھ گیا تھا۔ محققین کہتے ہیں کہ یہ 1942 کی تحریر ہے لیکن اقتباس کا پہلا جملہ “سمجھ لیجیے کہ اب امن و امان قائم ہونے میں کوئی دیر نہیں” اس کی نفی کرتا ہے۔ 1942 میں جنگ بڑے شد و مد سے جاری تھی۔ فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ یہ 1937ء یا 1938ء کی تحریر ہے، دلیل یہ پیش کی ہے کہ اس وقت ہٹلر نے جرمنی میں اسلحہ سازی کی بہت بڑی مہم شروع کر رکھی تھی۔ ادھر انگلستان اور فرانس کے دلوں میں خوف اور خلفشار تھا کیوں کہ ان کے یہاں جنگ کی تیاری بالکل نہ تھی۔ یہ صریحاً غلط ہے۔ 1939ء میں فرانس کے پاس جرمنی سے زیادہ طیارے اور ٹینک تھے، توپ خانہ بھی اعلیٰ درجے کا تھا اور نفری کی بھی کمی نہ تھی۔

ویسے کتاب کے سیاق و سیاق میں یہ فروعی باتیں ہیں۔ ان کے ہونے سے فاروقی صاحب کی تحریر کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ کتاب کے مندرجات منٹو کے بعض افسانوں کو نئے رخ سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

ہمارے لیے منٹو صاحب از شمس الرحمٰن فاروقی

ناشر: بک کارنر، جہلم

صفحات: 125؛ چار سو روپیے