ملاح اور گڈریا

یہ تحریر 88 مرتبہ دیکھی گئی

وہ ایک ایسا وجود تھا جسے ایک بار دیکھیں تو گمان گزرتا تھا کہ وہ صدیوں پرانا ہے۔ گزرتے وقت کی ساری حکمت و صداقت اپنے اندر سموئے ہے، جب کہ دوسری نظر میں اس پر ایسے جوان رعنا کا گمان ہوتا جو ابھی ابھی زندگی میں پہلی بار وصل کے لمس سے فیض یاب ہوا ہے۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کب کہاں سے آیا، یا یہیں پیدا ہوا تھا۔ اسے یہاں بیٹھے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ جیسے وہ اسی حالت میں آسمان سے ٹپکا تھا کہ زمین سے اگ آیا تھا۔ اسے اپنی جگہ سے حرکت کرتے شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔ بات کا جواب وہ بڑا مختصر دیتا۔ بڑی سیدھی اور صاف بات، مگر بعض اوقات مہینوں بعد اس کا پورا مفہوم سمجھ میں آتا۔ اسے کسی بات کی پرواہ تھی نہ جستجو، وہ کسی سے کچھ مانگتا تھا نہ کسی کو کچھ دیتا تھا۔ دیکھنے والوں کو اکثر اس کا وجود بے کار اور بے معنی لگتا۔ خود اسے بھی اپنے بارے میں کوئی زیادہ خوش فہمی نہیں تھی۔
ہاں ایک بات تھی جس سے اسے بے پناہ دلچسپی اور محبت تھی، یہ تھی کہانیاں سنانا۔ اس کے پاس طرح طرح کی نہایت دلچسپ اور مزے دار کہانیاں تھیں۔ ایسے ایسے عجیب و غریب واقعات کی کہانیاں کہ سننے والے دنگ رہ جاتے اور اس کی سنائی ہوئی کہانیوں کو خرافات قرار دیتے مگر پھر اس کی طرف کھنچے چلے آتے۔ اس سے کہانی سنانے کی فرمائش کرتے۔ اس کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آجاتی اور چند لمحوں کے لیے سوچتا پھر ایک ایسی کہانی شروع کرتا جو نہ تو پہلے کسی نے سنی ہوتی نہ پڑی ہوتی۔ اس شہر میں کوئی ایسا نہیں تھا جو یہ دعویٰ کرسکے کہ کبھی اس نے اپنی سنائی ہوئی کہانی کو دہرایا ہو۔
آج بھی کہانی کے شیدائی اس کے گرد حلقہ کئے بیٹھے تھے۔ وہ ان لمحوں کے انہماک میں کھویا تھا جو کہانی آغاز کرنے سے پہلے اس پر طاری ہوتے تھے۔ تب اس نے نہایت دھیمی اور صاف آواز میں کہانی کا آغاز کیا۔ اس کی ٹھہری ہوئی آواز اور مستحکم لہجہ سامعین کو اپنی گرفت میں لے رہا تھا۔ اس نے ایک ایسی کہانی کا آغاز کیا جو ایک ملاح کے بارے میں تھی۔ ایسے ملاح کے بارے میں جو آخر آخر میں گڈریا بن گیا تھا۔
اسی شہر کے ساتھ کبھی ایک بڑا خوب صورت دریا بہتا تھا، آپ یہ کہہ لو کہ یہ شہر اس دریا کے کنارے آباد تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب دریا پر بند باندھا گیا تھا اور نہ پل تعمیر ہوا تھا۔ لوگ دریا کے آر پار کشتیوں میں آتے جاتے تھے۔ پانی کم ہوتا تو لوگ پیدل بھی دریا پار کرلیتے مگر اس دور میں دریا میں کم پانی سردیوں کے دو چار مہینوں کے لیے ہوتا تھا۔ باقی سارا سال تو دریا ایسی جولانی سے بہتا کہ دیکھنے والے تھرا جاتے اور اچھے اچھے بہادر آدمی کا دل پانی میں پاؤں ڈالتے ہوئے دھل جاتا۔
تب وہ جوان رعنا ملاح یوسف اس پتن پر کشتی ڈالتا تھا۔ اس کے چہرے اور وجود پر جوانی ٹھاٹھیں مارتی تھی۔ بازؤں کی مضبوط مچھلیاں کشتی رانی اور تیراکی نے بنائی تھی۔ اس کے خوب صورت نقش و نگار اور خمار آلود آنکھیں دیکھنے والے کو اپنے اندر جذب کرلیتی تھیں، مگر وہ تو خود اپنے اندر اتنا ڈوبا تھا کہ اس کی آنکھیں باہر کی دنیا کو کم ہی دیکھتی تھیں اور دیکھتی بھی تھیں تو بڑے سرسری انداز میں، وہ جس سے آنکھ ملا کر بھی بات کر رہا ہوتا، اسے گمان گزرتا کہ وہ اس سے مخاطب تو ضرور ہے، لیکن خود وہ کہیں دور موجود ہے۔ جیسے وہ کوئی ایک وجود نہیں، بلکہ دو وجود ہیں۔
کشتیاں اور ملاح تو اور بھی تھے، مگر یوسف کی بات دوسری تھی۔ جو ایک بار کشتی میں بیٹھ گیا، بس پھر ہمیشہ کے لیے اس کا ہوگیا۔ چاہے اسے یوسف کی کشتی میں بیٹھنے کے لیے ڈھیر انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ مرد تو یوسف کے کمالات کے قائل تھے ہی عورتیں بھی اس پر دوسری اور تیسری نگاہ ڈالنا ضروری خیال کرتی تھیں۔ یوسف اپنے آپ میں اس حد تک ڈوبا رہتا تھا کہ اسے خیال ہی نہ آتا کہ جن آنکھوں نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا ہے، وہ زنانہ وجود کا حصہ ہیں یا مردانہ وجود کا۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتا۔ اس کا کام میں انہماک دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ وہ یہ کام کسی مجبوری سے نہیں کرتا اپنے شوق سے کرتا ہے اور شوق بھی وہ جو اپنی انتہائی حدوں کو چھوتے چھوتے عشق میں تبدیل ہوچکا ہے۔
بات دراصل یہ تھی کہ یوسف ایک ملاح کا بیٹا تھا جس نے اپنی زندگی اسی پتن پر کشتی کھیتے گار دی تھی۔ یوسف کا باپ بھی اپنے کام کا بڑا پکا تھا مگر ایک دن اس نے پانی میں ایسی کشتی ڈالی کہ پھر دوبارہ اسے کسی نے نہ دیکھا۔ ساتھی ملاح دریا ے اس پار سے کشتی خالی واپس لائے تو اس کی ماں نے اپنا سینہ پیٹ لیا۔ وہ جانتی تھی کہ جب ملاح دوسرے کنارے پر اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو پھر کم ہی لوٹ کر آتے ہیں۔ اس وقت یوسف کی عمر دس بارہ سال تھی۔ وہ دریا میں بڑا اچھا تیرتا تھا۔ کبھی کبھی اپنے باپ کے ساتھ خالی کشتی میں دو چار چپو بھی لگا لیتا، مگر اس قابل نہیں تھا کہ اپنے باپ کی چھوڑی پتوار سنبھال سکتا۔ وہ کھلے ہڈ پیر والا لڑکا تھا اور ماں سے اتنا ہی محبت کرتا تھا جتنی محبت اس عمر میں اکثر بچے اپنی ماں سے کرتے ہیں۔ باپ کے ایک دم چلے جانے سے اسے اپنی زندگی میں ایک کمی کا احساس تو ہوا، مگر ماں کے وجود اور ایک دم پڑنے والے بوجھ نے اسے زیادہ سوچنے کا موقع نہ دیا۔ وہ صبح اپنے گھر سے نکلتا، سارا دن محنت، مشقت سے جو کچھ کماتا لا کر ماں کو دے دیتا۔ وہ بہت تھوڑا ہی کمانے میں کامیاب ہوتا مگر وہ جتنا گھر لاتا، اس کی ماں اسی میں ان دونوں کے لیے اتنا کچھ کرلیتی کہ زندگی کی گاڑی چلتی رہی۔
رات کو وہ جب اپنے تھکے وجود کے ساتھ اپنے کچے گھر کے اکلوتے کمرے میں داخل ہوتا تو اس کی ماں کھانا چارپائی پر لگا دیتی۔ وہ چپ چاپ کھانا کھاتا جاتا اور اپنی ماں کی باتوں کا ہوں ہاں میں جواب دیے جاتا۔ پھر وہ سونے کے لیے لیٹ جاتا۔ اس کی ماں، اس کا سر اپنی آغوش میں رکھ لیتی۔ وہ اس کے بالوں میں آہستہ آہستہ انگلیاں پھیرتی۔ چھوٹے ملاحوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں سناتی۔ ہر کہانی کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ ملاح کا کام مسافروں کو ایک گھاٹ سے دوسرے گھاٹ تک پہنچانا ہے۔ جو ملاح اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، وہ خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں اور جو ملاح سے کچھ زیادہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، مارے جاتے ہیں۔ ایسے میں کبی کبی یوسف کو اپنے ماتھے یا چہرے پر گرم پانی کی موجودگی کا احساس ہوتا جسے جلد ہی اس کی والدہ صاف کردیتی۔

ایسا نہیں کہ یوسف کی ماں اسے صرف ملاحوں کی ہی کہانیاں سناتی، وہ اسے جنوں، پریوں، شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانیاں بھی سناتی تھی۔ ان کی کہانیاں جو بہانے بہانوں سے دور دیسوں کے سفر پر نکلتے۔ خود بھی خجل خراب ہوتے۔ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی تکلیفیں دیتے۔ ایسے جانے والے کبھی تو واپس ہی نہ آتے اور جو آتے وہ بھی اسے حالوں میں کہ پہچانے نہ جاتے۔ تب وہ بڑے تاسف سے سمجھانے کے انداز میں بتاتی کہ مرد اگر اپنی مٹی پر قدم جمائے رکھے تو سب اچھا رہتا ہے۔
یوں دن گزرتے گئے۔ دن مہینوں، مہینے سال میں تبدیل ہوتے رہے۔ یوسف نو عمری سے نوجوانی میں داخل ہوا۔ کمزور وجود مضبوط جثے میں ڈھل گیا۔ مردانہ خدوخال نے وجاہت اختیار کی۔ مشقت نے پٹھوں کو مضبوطی دی اور ماں کی محبت اور توجہ کے سائے نے یوسف کو ادھر ادھر دیکھنے سے باز رکھا۔ ایسا نہیں کہ یوسف سارا وقت اپین والدہ ہی کے ساتھ بتاتا تھا، وہ اپنے ہم جولیوں کے ساتھ بھی کھیلتا۔ اپنے ہم پیشہ ملاحوں سے گپ شپ لگاتا۔ کبھی کبھی شہر کا چکر بھی لگا لیتا جہاں کے سجے بازار اور آراستہ لوگ اسے کچھ اجنبی سے محسوس ہوتا۔ وہ جلد ہی واپس اپنے گھر کی جانب چل پڑتا، مگر یہ سب کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں اس کی ماں کا چہرہ رہتا، اور اس کے کانوں میں ماں کی باتیں گونجتی رہتیں۔
مگر زندگی یا انسان ہمیشہ سیدھے راستے پہ کب رہتے ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہوتا ہے کہ زندگی یک لغت ایسی کروٹ لیتی ہے کہ سب کچھ تہ و بالا ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ اس دن بھی ہوا تھا۔ وہ برسات کا ا یک سہانا دن تھا۔ آسمان پر بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی۔ وہ اپنی باری پر کشتی گھاٹ سے لگائے سواریوں کا انتظار کر رہا تھا۔ سواری ایک ایک، دو دو کرکے کشتی میں بیٹھ رہی تھیں کہ یکایک پانچ چھ مرد اور عورتیں گھاٹ پر آئیں۔ وہ سیدھی کشتی میں ایک ایک کرکے سوار ہونے لگیں۔ وہ آخر تک فیصلہ نہ کرسکا کہ وہ شباب سے بھرپور لڑکی اس گروہ کا حصہ تھی یا ان سے الگ۔ وہ سب سے آخر میں سوار ہوئی اور ان مردوں اور عورتوں کے قریب، لیکن چند انچ کی دوری پر بیٹھ گئی۔
اب اس دن ملاح یوسف نے کیا دیکھا تھا۔ یہ تو اسے زیادہ یاد نہیں، یا پھر عام وارفتگی میں وہ کچھ زیادہ دیکھ ہی نہیں سکا تھا۔ بس ایک جھلک تھی جس نے اس کی دنیا بدل ڈالی تھی۔ ایک گھاٹ سے دوسرے گھاٹ تک کا فاصلہ وہ نجانے کتنی بار طے کرچکا تھا مگر اس کے دل میں احساس جاگا جیسے وہ آج پہلی بار اس طرف نکلا ہو۔ دریا کے دھارے کے ساتھ ساتھ کشتی کھیتے ہوئے اس کے ہاتھ چپوؤ ں سے پھسل پھسل جاتے تھے۔ آنکھیں اس پر لگی تھیں اور سیاہ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس خود کو پھول دار سیاہ چادر میں لپیٹے یوں بیٹھی تھی کہ دنیا اور اپنے اردگرد سے پوری طرح بے نیاز دکھائی دیتی تھی۔ یوسف کو معلوم نہیں کہ راستہ کیسے کٹا، کب وہ دوسرے گھاٹ پر پہنچا، کب اس نے کشتی کا لنگر باندھا۔ کب مسافروں سے کرایہ وصول کیا۔ بس ایک فیصلہ اس کے اندر خود بہ خود ہوگیا تھا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اپنی کشتی کو چھوڑا اور اس عورت کے پیچھے پیچھے چل پڑا، جس سے اس کی کوئی جان پہچان بھی نہیں تھی۔
وہ اک نظر تھی جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔ یوسف کی آنکھوں میں نہ اب ماں کی تصویر تھی نہ کانوں میں اس کی باتیں۔ اس پر ایک مدہوشی طاری تھی اور وہ اس گروہ کے پیچھے چل پڑا تھا جس کا وہ حصہ تھا بھی اور نہیں بھی۔ اس عورت نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا کہ کوئی ہے جو اس کے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے، مگر یوسف کو اس بات کا احساس تھا کہ وہ سب جانتی ہے کہ اس کی ایک جھلک نے کسی کو مٹا دیا ہے۔ کسی کی دنیا بدل دی ہے اور یوسف اس یقین سے چلا جاتا تھا کہ جس کے لیے اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہے وہ اس کے حال سے باخبر ہے اور وقت آنے پر اس عورت کو یوسف کی ہو کر رہنا ہے۔
اس دن یوسف ایک ایسے سفر پر نکل پڑا تھا جس کی منزل سے اسے کچھ آگاہی نہیں تھی۔ چلتے چلتے وہ ایک قریبی بستی میں پہنچ گئے تھے۔ کچے گھروں سے لوگوں اور بچوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ سورج اپنی مسافت کے آخر پر تھا۔ وہ لوگ چلتے چلتے ایک کھلے دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔ وہ عورت جو ساری مسافت میں سب سے آخر میں رہی تھی، اس نے دروازے پر پلٹ کر ایک با ر یوسف کی طرف دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جس کے کئی معنی ہوسکتے تھے۔
یوسف اپنی رفتار سے چلتے چلتے گلی کے آخر تک پہنچا اور پھر بستی کے دوسرے سرے پر کھیتوں کے درمیان ایک گھنے درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا۔ اس درخت سے اپنی کمر لگائی۔ سر کو تھوڑا آگے گرا دیا اور آنکھیں موند کر کسی ایسی کیفیت میں ڈوب گیا جس سے وہ شناسا نہیں تھا۔ اسے وہاں بیٹھے دن پہ دن گزرتے گئے۔ پہلے تو بستی والوں نے اسے شک بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کیں اور پھر اس کے وجود کو ایسے قبول کرلیا جیسے وہ اس سارے منظر کا حصہ ہو۔
بستی کے بچے، اب اس کے اردگرد بے فکر کھیلتے رہتے بلکہ انھیں اس کی موجودگی سے تحفظ کا احساس ہوتا۔ گاؤں کی عورتیں اس سے کشف و کرامات منسوب کرتیں۔ کہا جاتا کہ وہ جب سے اس بستی میں آیا ہے، بھینس زیادہ دودھ دینے لگیں اور زیادہ مادہ جننے لگی ہیں۔ مرغیوں کے انڈے یادہ بڑے اور طاقت ور ہوگئے ہیں۔ فصلیں پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہیں اور درختوں پر زیادہ بور آنے لگا ہے۔ اس کے باوجود جب نو خیز عمر کی لڑکیاں اس اجنبی کے بارے میں اپنے تجسس کا اظہار کرتیں تو بڑی عمر کی عورتیں انھیں جھڑک دیتیں۔ مرد اس پر محتاط نگاہ ڈالتے۔ آتے جاتے اس سے ایک آدھ بات کرلیتے۔ کبھی کبھی کوئی بیمار اور دکھا ہوا بھی اس کے پاس چلا آتا۔ اس سے اپنا حال کہنے اور اپنے غم کا علاج پوچھنے کے لیے۔ وہ سب کچھ ایک گہری خاموشی سے سنتا۔ گہرے انہماک کے ساتھ آہستہ آہستہ کبھی دائیں بائیں اور کبھی اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے مگر جواب میں ہمیشہ خاموش رہتا۔ اس سے باتیں کرنے والے خود ہی اس کی خاموشی سے معنی اخذ کرتے۔ کبھی اپنی خواہشات کے مطابق اور کبھی اپنی خواہشات کے الٹ، مگر یہ عجیب بات تھی کہ تقریباً ہمیشہ لوگ جو معنی متعین کرتے، نتائج اس کے مطابق ہی آتے۔
یہ سب تو تھا مگر ایک وہ جس کے لیے یوسف نے اپنی کشتی چھوڑی تھی، کبھی اس کا حال دیکھنے نہ آئی۔ کبھی کبھی یوسف کو گمان گزرتا کہ اس نے کون سا اسے غور سے دیکھا تھا۔ اچٹتی نگاہ میں تو اکثر عورتیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس کا حال دیکھنے آئی ہو اور پھر شادمان یا مایوس واپس لوٹ گئی ہو۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ وہ جانے ان جانے میں بستی کے بہت سے رازوں کا امین بن چکا تھا۔ کتنے جوڑے اس کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کرچکے تھے۔ کتنے بہ ظاہر خفیہ کام اس کی بند آنکھوں کے سامنے انجام پاچکے تھے، مگر جس کا اسے انتظار تھا، کبھی اس کے پاس نہ آئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے وجود سے بے خبر ہوچکی ہے جیسے کوئی اپنی بہت قیمتی چیز کہیں احتیاط سے رکھ دے اور پھر بھول جائے کہ کہاں رکھی ہے۔ وہ کبھی کبھی سوچتا کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جس کے لیے اس نے ایک عمر یہاں بیٹھے کاٹ دی، اسے پتا ہی نہ ہو کہ یہاں کون کس لیے بیٹھا ہے، مگر ایک بات وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ اسے یہاں بیٹھنا ہے اور شاید ایک لا حاصل انتظارمیں یہ عمر گزار دینی ہے۔
تب ایک دن آدھی رات سے کچھ زیادہ وقت گزرا تھا کہ اسے بستی کی جانب سے ایک ایسی چاپ سنائی دی جو سیدھی اس کے دل کے تاروں سے جڑی تھی۔ وہ آ رہی تھی۔ سیاہ لبادے میں ملبوس، آدھا چہرہ چھپائے۔ وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس سے اپنے دل کا حال کہہ رہی تھی۔ اس کی شادی کو دس سال گزر چکے تھے۔ وہ بے اولاد تھی اور اب اس کا شوہر اس سے مایوس ہو کر دوسری شادی کا سوچ رہا تھا۔ وہ بس خاموش بیٹھا اس کے وجود کو تکے جا رہا تھا۔ عورت اس سے دل کا حال کہتی رہی اور پھر اس کا پورا وجود خوشی سے کھل اٹھا۔ عورت نے محسوس کیا کہ اسے اپنے دل کی مراد مل گئی ہے۔
اگلی صبح بستی کے لوگوں نے دیکھا کہ درخت کے نیچے کچھ بھی نہیں تھا۔ یکایک وہ غائب ہوگیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے وہ ظاہر ہوا تھا۔ چند دن لوگوں میں چہ مگوئیاں ہوتی رہیں پھر ہر کوئی اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ کبھی کبھی کسی کے ذہن میں اس وجود کی یاد خوشی یا تاسف کا احساس لیے آتی۔ بس وہ بستی کی واحد عورت تھی جس نے اس کے اچانک غائب ہونے کے بعد ساہ لبادہ اتار دیا تھا اور اب کھلتے رنگوں کے کپڑے پہننے لگی تھی۔ کسی نے عورت میں آنے والی تبدیلی کو محسوس بھی کیا تھا تو اس اجنبی وجود کے گم ہونے کے ساتھ اس کا تعلق نہ ملاسکا تھا۔
یوسف نے رات کے پچھلے پہر، اس عورت کے جانے کے بعد آنکھیں کھول کر اپنے اردگرد دیکھا تھا۔ بستی پر ایک نگاہ ڈالی تھی۔ وہ اٹھا تھا اور آہستہ آہستہ قدموں سے چل پڑا تھا۔ اس کے اندر سرخوشی اور شادمانی کی ایک ایسی کیفیت تھی جو اس کے لیے انوکھی تھی۔ وہ چلتا رہا تھا۔ آگے کی جانب یا واپسی کے واستے پر، اسے معلوم نہیں کہ وہ کتنا چلا تھا۔ کبھی رکا بھی تھا کہ بس چلتا جا رہا تھا۔
یہاں پہنچ کر اس کہانی گو کی آواز میں نجانے کیا تھا کہ اس کے سننے والے چونک اٹھے تھے۔ انھوں نے دیکھا اور محسوس کیا کہ داستان گو کا لہجہ ہی نہیں بدلا، اس کی بڑی بڑی خوب صورت آنکھیں ہلکے گلابی رنگ میں رنگی گئی تھی اور ان میں تیرتی ہلکی سی غمی کسی ایسے جذبے کا پتا دے رہی تھی جسے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔