مظہر محمود شیرانی کی آخری تصنیف ْ ْمجموعہ گُل ہائے تاریخ ٗ ٗ

یہ تحریر 2200 مرتبہ دیکھی گئی

اُردو میں تاریخ گوئی اب معدوم ہوتی جارہی ہے۔ جہاں اُنّیسویں صدی میں اس کے بغیر اَدب یا غیر اَدب میں نوالہ نہیں توڑا جاتا تھا، اب اُتنی ہی اس کی ضرورت کسی کومحسوس نہیں ہوتی۔ جی ہاں، یہ بالکل درست ہے کہ اُنّیسویں صدی عیسوی تک مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتابوں، رسالوں، اخبارات، وغیرہ میں قطعاتِ تاریخ کا ہونا ضروری خیال کیا جاتا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس صدی میں شائع ہونے والی نوّے فی صد سے زائد مطبوعات میں قطعاتِ تاریخ شامل ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ضرور ہو سکتی ہے کہ اُس دور تک ہمارے ہاں  اَدبی اور شعری ذوق عام تھا، اسی لیے چپّے چپّے پر مشاعرے منعقد ہوتے تھے اور اُن کی روداد یں بھی بڑے اہتمام کے ساتھ گُلدستوں میں شائع کی جاتی تھیں؛ لیکن عام طور پرتاریخی قطعات کہے جانے کی بڑی وجہ وہ علمی و اَدبی روایت تھی جو واقعات، شخصیات، کتابوں اور دیگر اہم چیزوں اور اوامر کی تاریخیں محفوظ رکھنے کے لیے ہمارے ہاں صدیوں سے رائج تھی۔

            بیسویں صدی عیسوی کے نصف اوّل تک ہمارے ہاں تاریخ نویسی کی یہ روایت کسی نہ کسی طور زندہ رہی، پھر اسے محض ایک تکلّف جان کر اس سے صرفِ نظر کیا جانے لگا، چناں چہ اکّیسویں صدی عیسوی کے آغاز پر تو یہ حال ہو گیا کہ تاریخ گوئی صرف نصابی ضرورت کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی، اگرچہ عملاً چند  کُہنہ مشق پُرانے بزرگوں نے تاریخ گوئی کی روایت کو زندہ رکھنے کی کوششیں ضرور کیں۔  مجھے یہاں شمیم صبا متھراوی کا نام یاد آرہا ہے جو ماہ نامہْ  ْقومی زبان ٗ   ٗ ٗ، کراچی میں ایک عرصے تک   ْ  گذشتہ سال ہم سے جدا ہو گئے یہ لوگٗ کے عنوان سے مرحومین کے حالات اور اُن کی وفات کے قطعاتِ تاریخ شائع کرتے رہے۔ اس صنفِ اَدب کواس صدی میں زندہ رکھنے والوں میں مظہر محمود شیرانی کا  نام بھی شامل ہے۔

            مظہر محمود شیرانی مرحوم کے قطعاتِ تاریخ کا مجموعہ اُن کی حیات ہی میں  ْ  ْمجموعہ گُل ہاے تاریخ  ٗ   ٗ ٗ (1441ھ) کے عنوان سے شائع ہوگیا تھا۔ کتابی صورت میں یہ قطعاتِ تاریخ شیرانی صاحب کے مرحوم دوست اور رفیقِ کار سیّد خورشید حسین بخاری کے فرزند سیّد فخر حسین بخاری نے ترتیب دیے ہیں۔کتاب میں کُل 108 قطعاتِ تاریخ شامل ہیں۔ ان میں کثیر تعداد  وفات کے قطعاتِ تاریخ کی ہے جن کی تعدادچورانوے (94)ہے، تین قطعات پیدائش کےہیں، بقیہ میں سے سات قطعات کتابوں کے انطباع اوردو تعمیرات پر کہے گئے، جب کہ ایک ایک قطعہ سبک دوشی اور حصولِ سَنَد پر لکھا گیا۔ کتاب کا حرفِ اوّل مرتّب سیّد فخر حسین بخاری نے لکھا ہے۔ اس میں اُنھوں نے مظہر محمودشیرانی کے فنِ تاریخ گوئی اور اُن کے قطعاتِ تاریخ کی نوعیّت مثالیں دے کر واضح کی ہے۔ اُنھوں نے مزید اِس مجموعہ قطعات کی کتابی شکل میں صورت پذیری کی رُوداد بھی بیان کی ہے۔

اپنے پیش لفظ گُفتنی میں مصنف مظہر محمود شیرانی نے تاریخ گوئی سے شناسائی سے لے کر عملاً تاریخ گوئی کرنے تک کے سفر کی رُوداد اپنے روایتی  دل چسپ انداز میں بیان کی ہے۔ مظہر محمود شیرانی کے پردادا، یعنی حافظ محمود خاں شیرانی کے والد اپنی اولادوں کے کئی کئی تاریخی نام نکال کر ایک موٹے سے خاندانی رجسٹر میں لکھ لیتے تھے۔ مظہر صاحب کے والد اختر شیرانی نے اپنے داماد کی ناگہانی موت پر قطعہ تاریخ کہا۔ تاریخ گوئی کے بارے میں یہ مظہر محمود شیرانی کی ابتدائی یادیں تھیں۔ اُنھیں تاریخ گوئی سے صحیح معنوں میں تب شغف ہوا جب اُنھوں نے اپنے دادا کی وفات پر سیّد ہاشمی فرید آبادی کا لکھا ہوا قطعہ تاریخ پڑھا۔ قدیم کتابیں پڑھتے ہوئے وہ ایک عرصے تک تاریخی قطعوں سے لُطف لیتے رہے اور تاریخ گوئی کے اسرار و رُموزپر غور بھی کرتے رہے لیکن شاعر نہ ہونے کی وجہ سے خود تاریخی قطعہ کہنے سے کتراتے رہے۔ آخر سیّد امتیاز علی تاج کے قتل پر اُن سے اپنے نیاز مندانہ تعلّق کی وجہ سے اُن کے دو مختصر قطعاتِ تاریخ ِ وفات کہے جو “صحیفہ” میں شائع ہوئے۔ تب سے قطعاتِ تاریخ لکھنے پر اُن کی طبع موزوں ہو گئی۔

مظہرمحمودشیرانی نے تین طرح کے لوگوں کے لیےقطعاتِ تاریخ لکھے۔ انھوں نے زیادہ تر قطعات اپنے اہلِ خاندان اور کرم فرماؤں یعنی قریبی اور جاننے والوں، کچھ دُنیاے اَدب کے نام وَروں اور کچھ فرمائشی طور پر تحریر کیے۔ اہلِ خاندان میں اُنھوں نے اپنی دادی خدیجہ بیگم حافظ محمود شیرانی، والدہ حرمت بانو بیگم اختر شیرانی، خواہرِ بزرگ پروین اختر شیرانی، برادرِ خُرد تاثیر محمود شیرانی عرف بہبود خاں، بہنوئی خورشید احمد خاں یوسفی اور اُن کے بیٹے اور اپنے بھانجے شاہد نذیر یوسفی کے قطعاتِ تاریخِ وفات لکھے۔ کرم فرماؤں اور جاننے والوں کی وفات پر اُن کے لکھے ہوئے قطعات کی فہرست بہت طویل ہے۔ ان میں بڑے بڑے نام سیّد امتیاز علی تاج، جسٹس ایس اے رحمٰن، پروفیسر حمید احمد خاں، ڈاکٹر غلام مصطفٰے خاں، احمد ندیم قاسمی، پیر حسّام الدّین راشدی، رشید حسن خاں، پروفیسر سیّد وزیر الحسن عابدی، پروفیسر محمد اسلم، پروفیسرصدّیق شبلی،  ڈاکٹر نجم الاسلام،   ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر ظہورالدّین احمد، مختار علی خاں پرتو روہیلہ، سیّد منظورالحسن برکاتی، مسعود احمد برکاتی، مُشفِق خواجہ، رشید ملک، ڈاکٹر ظہیر احمد صدّیقی، ڈاکٹر محمد اقبال ثاقب، محمد عالم مختارِ حق،  وغیرہم کے ہیں۔ اساطینِ اَدب میں ایس ایم اکرام، حکیم محمد سعید، مولانا عبدالستّار نیازی، ڈاکٹر ضیاء الدّین ڈیسائی، ڈاکٹر مختارالدّین احمد، مشتاق احمد یوسفی، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، ڈاکٹر فرید احمد برکاتی، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، وغیرہم کے قطعاتِ تاریخِ وفات بھی کتاب میں شامل ہیں۔

شیرانی صاحب کے قطعاتِ تاریخ میں فنی چابک دستی، بیان میں روانی اور شاعری پر اُن کی گرفت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیرانی صاحب اپنی شاعری کو محض مشق کہ کر کسرِ نفسی سے کام لیتے رہے، ورنہ اُن کا رنگِ سخن کسی ماہر سخن گو سے کم نہیں۔ بعض قطعات کا رنگ اور اُٹھان دیکھ کر تو یہ گمان بھی نہیں گذرتا کہ یہ کسی نو مشق یا غیرِ شاعر کے کہے ہوئے ہیں، بل کہ کسی ماہر تاریخ گو اور کہنہ مشق شاعر کا تصوّر ذہن میں اُبھرتا ہے۔ خاص طور پر اپنے بھائی کا جو قطعہ اُنھوں نے لکھا ہے، وہ لاجواب ہے۔ مرتّب نے اسے جو رنگِ اقبال سے قریب تر کہا ہے تو یہ بے  نہیں ہے۔ آپ بھی اسے نمونے کے طور پر ملاحظہ کیجیے:

            طبع   یہاں  بے  فراغ  ،   قلب   یہاں   نا  صبور

علم  یہاں  بے  فروغ ،   عقل  یہاں  بے  حضور

            بندہ  ہے  زار  و  زبوں ،  خاک ہے  دُنیاے  دوں

اِس  کا مزہ  بے  ثبات  ،  اُس  کا   نشہ  بے  سُرور

            عالمِ  بے   رنگ   میں    دل   نہ  تیرا    لگ   سکا

     تُجھ  کو   لُبھا   لے   گئے    جنّت  و حور   و   قصور

            تیرا      مقدّر          فنا        ،    میرا        مقدّر         فنا 

کیا     ہے    حیاتِ    جہاں  :  ” الّا      متاع   ا لغرور” 

شیرانی صاحب نے صرف اپنے کرم فرماؤں، جاننے والوں اور نام وَروں ہی کے تاریخی قطعاتِ وفات نہیں لکھے، بل کہ اپنے چاہنے والوں کے متعلّقین کے لیے بھی تاریخی قطعے لکھے ہیں۔ اس کی ایک مثال راقم الحروف کی والدہ کا قطعہ تاریخِ وفات ہے۔ میری والدہ کا انتقال یکم رمضان المبارک کی رات اور 6 مئی 2019ء کو ہوا۔  شیرانی صاحب مرحوم نے 25 مئی 2019ء کو میری والدہ کا قطعہ تاریخِ وفات کہا جو کتاب میں بھی شامل ہے اور شیرانی صاحب کا تحریر میں میرے پاس بھی محفوظ ہے۔

مرحوم مظہر محمود شیرانی کی یہ منفرد کتاب اظہار سنز، اُردو بازار، لاہور سے سیّد محمد علی انجم رضوی نے شائع کی ہے۔ آخری زمانے میں شیرانی صاحب کا محمد علی انجم اور اظہار سنز لاہور سے ایک طرح کا رشتہ اُس وقت اُستوار ہوا جب انجم صاحب نے ڈاکٹر فرید احمد برکاتی کی کتاب “فرہنگِ کُلّیاتِ میؔر” شائع کرنے کا ڈول ڈالا اور اس مقصد کے لیے شیرانی صاحب سے رابطہ کیا۔ شیرانی صاھب نےفرید احمد برکاتی مرحوم  کے لواحقین سے ٹونک (راجستھان) میں رابطہ کرکے کتاب کا نظرِِ ثانی شدہ مسوّدہ منگایا اور خود بھی کتاب کو تصحیح کے نُقطہ نظر سے دیکھا۔ بعد میں انجم صاحب کی فرمائش پر ہی شمس الرّحمٰن فاروقی کی مشہورِ زمانہ اور بے حد مفید کتاب “شعرِ شور انگیز” میں شامل فارسی اشعار کا موازنہ و تصحیح کا کام بھی کرنے لگے۔ یہ کام ابھی جاری تھا کہ اُن کا پیغامِ اَجل آگیا۔ “مجموعہ گُل ہائے تاریخ” کی اظہار سنز سے اشاعت بھی اسی تعلّق کو طاہر کرتی ہے۔  

کتاب پر سنہِ اشاعت 2019ء درج ہے۔ شیرانی صاحب نے مجھے اپنے دستِ خط کے ساتھ جو نُسخہ مرحمت کیا تھا، اُس پر اُنھوں نے21۔ اکتوبر 2019ء کی تاریخ لکھی تھی۔ میری اُن کے ساتھ اُس وقت جی سی یونیورسٹی لاہور میں ہفتے میں ایک دو بار ضرور ملاقات ہوتی تھی اور وہ مجھے بہت عزیز بھی رکھتے تھے، اس لیے اُنھوں نے اشاعت کے فوراً بعد مجھے کتاب کا اعزازی نُسخہ عنایت کیاتھا، اس بُنیاد پرمیں یہ اندازہ لگاتا ہوں کہ شیرانی صاحب کے قطعاتِ تاریخ کا یہ مجموعہ اکتوبر 2019ء میں، یعنی اُن کی وفات سے کم و بیش آٹھ ماہ قبل منظرِ عام پر آیا۔ یہ کتاب شیرانی صاحب کی زندگی میں شائع ہونے والی اُن کی آخری تصنیف ہے اور کیا اِتّفاق ہے کہ اُن کی پہلی شعری تصنیف بھی ہے۔ اس حوالے سے مرتّب کی یہ بات بھی اہم ٹھہرتی ہے کہ اس کتاب کا نام خود شیرانی صاحب کا تجویز کردہ ہے اور تاریخی بھی ہے جس سے ترتیبِ کتاب کا ہجری سنہ 1441 برآمد ہوتا ہے۔