مشتے نمونہ از خروارے

یہ تحریر 204 مرتبہ دیکھی گئی

سید افسر ساجد صاحب کی نئی کتاب “کچھ خطوط میرے نام” اتنی مختصر ہے کہ گمان ہوا شاید یہ ان خطوں کا انتخاب ہے جو وقتاً فوقتاً انھیں لکھے گئے۔ پہلے خط کا تعلق، جو اتفاق سے میرا ہی ہے، 1988 سے ہے اور آخری خط 2014 کا ہے۔ یقین نہ آیا کہ تقریباً پچیس سال میں انھیں صرف اڑسٹھ خط موصول ہوئے ہوں گے۔ اگر فی سال پندرہ خط وصول ہونے کا حساب مدنظر رکھا جائے تو تقریباً ڈھائی سو تین سو خط ان کے پاس ہونے چاہییں تھے۔
ساجد صاحب کا تعلق بیوروکریسی سے ہے اور افسروں کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ آج یہاں تو کل وہاں۔ پیش لفظ سے پتا چلا کہ ملازمت کے دوران اور بعد میں بھی متواتر نقل مکانی کے باعث خطوں کی معتدبہ تعداد اِدھر اُدھر ہو گئی۔ ملحوظ رہے کہ انھوں نے یہ نہیں لکھا کہ خط ضائع ہو چکے ہیں، جگہ سے بے جگہ ہونے کا ذکر ہے۔ اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ جلد یا بدیر یہ متاعِ گم شدہ بھی دستیاب ہو جائے گی اور باقی ماندہ خطوط بھی شائع ہو کر سامنے آ جائیں گے۔
سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ اتنے تھوڑے سے خط چھپوانے کی عجلت کیا تھی؟ اس راز سے پردہ کتاب میں شامل آخری خط سے اٹھتا ہے جو غلام رسول تنویر کے قلم سے ہے۔ مجموعے میں سب سے طویل خط بھی یہی ہے، تنویر صاحب نے ایک طرح سے خبردار کیا یا ڈرایا ہے کہ اگر آپ نے اپنی تحریروں اور خطوں کو یکجا نہ کیا یا یادداشتوں کو قلم بند کرنے میں تاخیر سے کام لیا تو پھر لکھا لکھایا سب ضائع ہو جائے گا “اور آپ میری طرح گم نامی میں چلے جائیں گے۔” خط میں تنویر صاحب نے یہ ذکر بھی کیا کہ انھوں نے اشفاق بخاری، نجم الحسن بخاری اور بشیر موجد کو لکھنے پر اکسایا اور تینوں کئی کتابوں کے مصنف ہو گئے۔ یہ خیال درست ہے کہ اگر نثر لکھنے کی صلاحیت موجود ہو اور ادبی دنیا میں تھوڑی بہت شناخت حاصل ہو تو اپنے خیالات اور تجربات کو قلم بند کرنا افادیت سے خالی نہیں۔
تنویر صاحب نے اس پر بھی زور دیا کہ افسر ساجد کو بیوروکریسی کے بارے میں تفصیل سے لکھنا چاہیے کہ وہ نظام کے بھیدی ہیں۔ تنویر صاحب کا یہ خیال بھی درست ہے کہ ابتدا میں جن پرانے اور تجربہ کار آئی سی ایس افسروں نے ملک کا نظم و نسق سنبھالا وہ داد کے مستحق ہیں۔ پنڈت نہرو اور دوسرے ہندو زعما کا خیال تھا کہ پاکستان چھ ماہ سے زاید قائم نہ رہے گا۔ ہمارے افسروں نے اس اندازے کو غلط ثابت کر دیا۔ افسوس کہ بعد میں بعض سراپا حماقت آمیز طالع آزماؤں نے ذاتی پسند اور ناپسند کی بنا پر بہت سے افسروں کو بلاجواز برطرف کر دیا۔ اس طرح بیوروکریسی بے یقینی اور بے اعتمادی کا شکار ہو گئی اور اس کی اہلیت اور ہمت میں فرق آ گیا۔
خطوں کا یہ مجموعہ چوں کہ اتفاقی ہے اور انتخابی یا کلی نہیں اس لیے متعدد خطوں کے مندرجات سرسری ہیں۔ ان میں ساجد صاحب کی انتظامی قابلیت کو سراہا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشاعرے کام یابی سے منعقد کرانے میں انھیں اختصاص حاصل تھا۔ مجموعے میں وزیر آغا اور سلیم اختر کے چار چار خط ہیں۔ وزیر آغا کے خطوط بہتر ہیں۔ سب سے اچھا اور قدرے طویل خط شاہین مفتی کا ہے جس میں انھوں نے شاعری اور بالخصوص اپنی شاعری پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ اس نوعیت کے خط زیادہ ہوتے تو مجموعے کی شان بڑھ جاتی۔
کچھ خطوط میرے نام از سید افسر ساجد
ناشر: بکس اینڈ ریڈرز، ملتان
صفحات: 112؛ تین سو روپیے