محمد سلیم الرحمٰن کی مشاہیر ادب یونانی شائع ہو گئی

یہ تحریر 233 مرتبہ دیکھی گئی

مشاہیر ادب یونانی (قدیم دور)
میں نے اس کتاب کو ایسے پڑھا ہے جیسے پڑھنے والا ایک اچھا ناول ڈوب کر پڑھتا ہے۔تو زبان و بیان میں کوئی تو ایسا وصف ہو گا یا شاید یونان کا جادو کہ مصری کی ڈلیاں دانتوں تلے آ کر کڑ کڑ بولتی رہیں اور میں اسے دودھ کا پیالہ جان کر غٹا غٹ پیتا چلا گیا۔قصہ مختصر کتاب یہ کام کی ہے۔میرے حساب سے یہ خوب اور مرغوب اس اعتبار سے ہے کہ یہ پڑھنے والے کو پکڑتی ہے جیسے مجھے اس نے پکڑا اور قدیم یونان میں کسی نہ کسی طرح پہنچا دیا۔اب میرا وہاں سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا۔
انتظار حسین
“مشاہیر ادب ” ایک گراں قدر تصنیف ہے۔محمد سلیم الرحمٰن نے اردو کے تنقیدی ادب میں بہت اہم اضافہ کیا ہے۔
محمد صفدر میر
حیرت یہ دیکھ کر ہوئی کہ آپ نے ایک اجنبی زبان کی ادبی تاریخ اس سہولت کے ساتھ بیان کر دی ہے کہ یونانی ادیب اور یونانی ادب قریب قریب اپنی زبان کا مال معلوم ہونے لگا ہے۔
نیر مسعود
ہماری زبان ہی نہیں بلکہ اس برصغیر کی تمام زبانوں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کام ہے۔میں یہ بھی کہنے کو تیار ہوں کہ محمد سلیم الرحمٰن کے علاوہ کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔یوں لگتا ہے جیسے “طلسم ہوشربا”،”رانی کیتکی “اور “باغ و بہار ” کے لحن اور بدن کو جدید اردو کے قالب میں ڈھال دیا گیا ہو۔اس طرح اس کتاب کی وساطت ہماری زبان کے ایک بالکل نئے انداز بیان نے جنم لیا ہے۔
صلاح الدین محمود

“مشاہیر ادب” کے مشمولات اپنی جگہ مستند معلومات، مستحکم آرا اور مضبوط نثر کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔قدیم یونانی ادب کے مشاہیر کے بارے میں ایک ایسی اردو کتاب وجود میں لائی گئی ہے جس کے ذریعے اس کلاسیکی سرمائے کی اہمیت کو محسوس کیا جا سکتا ہے اور ان کی تفاصيل آسانی سے معلوم ہو سکتی ہیں۔یہ کام جتنا بڑا تھا اتنی ہی خوش اسلوبی سے ادا ہو گیا ہے اور اس کے لیے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اردو زبان دیر تک موءلف کی ممنون رہے گی۔
مظفر علی سید