محمد سلیم الرحمان-خواب میں دیکھا ہوا آدمی

یہ تحریر 188 مرتبہ دیکھی گئی

محمدسلیم الرحمان صاحب اپنی طرز کے واحد آدمی ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی مثال ڈھونڈ کر لانا بڑا مشکل کام ہے۔ وہ کسی بھی بنے بنائے فارمولے یا گھڑی گھڑائی تعریف پر پورےنہیں اترتے ۔ قباےلفظ ہمیشہ ان کی قامتِ زیبا سے چھوٹی رہ جاتی ہے ۔ فکر و خیال تو ایک طرف،  ان کے وجود میں بھی ایسی لطافت ہے کہ انھیں دیکھ کر بھی نہیں لگتا کہ انھیں دیکھا ہے۔ نہ انھیں سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم کچھ سن رہے ہیں۔ میں تو جب بھی ان سے ملتی ہوں، ایسے لگتا ہے کہ کوئی پورا یا دنہ رہنے والا خواب دیکھا ہے جس میں کلام ہے مگر آواز نہیں؛جیسے صرف معنی القا ہوتے جا رہے ہوں۔

علمی و ادبی حوالے سے دیکھیں تو انھوں نے اتنا کچھ اور ایسا عمدہ کر رکھا ہے کہ صرف فہرست بنانے لگیں  تو بھی ایک    مدت درکار ہے۔لیکن یہاں ان کی جس ادا کا بطور خاص ذکر کرنا مقصود ہے  وہ ان کے سبھی کاموں کے باطن میں جھلکنے والے وہ روشنی ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ  ’’اے روشنیٔ طبع تو بر من بلا شدی‘‘ مگر سلیم الرحمان صاحب کی طبیعت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اس روشنیٔ طبع کو  بھی بلا نہیں گردانتے۔ شاید کوئی یہ کہے کہ بلا نہیں تو جزا سمجھتے ہوں گے مگر مجھے لگتا ہے کہ وہ ایسا بھی نہیں سمجھتے۔ یہ روشنی ان کے فکر و خیال اور وجود کا ناگزیر حصہ ہے جو بالکل فطری انداز میں ان کا ہالہ کیے رہتی ہے اور شاید انھیں اس کا احساس بھی نہ ہوتا ہو۔

خیر شخصیت کے بارے میں کوئی دعویٰ کرنا تو دشوار ہوتا ہے بلکہ اندازہ لگانا بھی  محض ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہوتا ہے مگریہ بھی سچ ہے  کہ جس ادب میں لکھنے والے کی  شخصیت کی بو باس، اس کے باطن کی بے ارادہ جھلک اور سوزِ دروں کی دھیمی دھیمی آنچ نہ ہو،  وہ  الفاظ کی اچھل کود اور فکر و خیال کی قلابازیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ محمد سلیم الرحمان صاحب  نے علمی و ادبی حوالے سے جو کام بھی کیا ہے اس کی اہمیت و افادیت اور  مقام و مرتبے کا تعین ایک علیحدہ موضوع ہے۔ یہاں صرف اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ان کا نام ہی معیار کی ضمانت ہے۔ معیار بھی کوئی عام معیار نہیں بلکہ معیار کا معیار مقرر کرنے والا معیار۔

ان کے کیے ہوئے ہر کام میں  ’’آوازِ دوست‘‘  کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہی گونج ہے جو پڑھنے والے کی طرف لپکتی ہے  اور اسے ایک ان دیکھے رشتے میں پرو لیتی ہے۔ شاید کوئی اسے ریاضت کہتا ہو، کوئی ذہانت سمجھتا ہو، کوئی تخلیقی قوت کا نام دیتا ہو، کوئی مطالعے کی وسعت اور عمق کو دیکھتا ہو۔ یہ سب پہلو اپنی اپنی جگہ درست اور قابلِ اعتبار ہیں ۔ ان سے انکار کیا جا سکتا ہے نہ انھیں جھٹلایا جا سکتا ہے مگر ان سب کی حیثیت اجزا کی سی ہے۔ اجزا کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے مگر اس  تار، اس ڈوری، اس رشتے کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے جو  ان اجزا کو ایک کل میں بدل دیتی ہے۔ کل ہمیشہ اپنے اجزا کی مجموعی  حیثیت سے بڑھ کر ہوتا ہے۔سب اجزا الگ الگ وہ معنی نہیں دے سکتے جو کل کا حصہ بن کر ادا کرتے ہیں۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ محمد سلیم الرحمان صاحب کی شخصیت کے یہ سب اجزا جس ڈوری میں پروئے گئے ہیں، سارا کمال اس کا ہے۔ وہی ڈوری جو  ’’آوازِ دوست‘‘  کی صورت ان کے باطن اور ظاہر میں گونجتی ہے اور ان کے ہر لفظ، ہر خیال، لفظ و خیال کی ہر ترتیب کو ایک پر اسرار روشنی میں نہلائے جاتی ہے۔ یہ روشنی درد کی ہے، اور درماں بھی یہی بن سکتی ہے۔یہازل کے منبعے سے پھوٹی  ہوئی ہے اور اسے اسے ابد تک چلتے رہنا ہے۔ وجود کا کیا ہے، ایک نہیں تو دوسرا سہی۔  لیکن وجود کی محبت تو وجود سے ہی ہوتی ہے۔وجود کا تصور بھی ایک وجود ہے؛سو وجود کی تمنا تو یہی ہے کہ روشنی تو سلامت ہے ہی، روشنی کا وجود بھی سلامت رہے۔