محرم کے چاند کے ساتھ

یہ تحریر 42 مرتبہ دیکھی گئی

محرم کے چاند کی خبر ملی تو سودا کا شعر یاد آیا ۔
تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش
رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی
چاند کو ایک نظر دیکھا بھی تھا،لیکن اس کیفیت کو تلاش کرتا رہا جو کبھی وجود کے اندر تلا تم پیدا کر دیتی تھی۔کیفیت رخصت تو نہیں ہوئی مگر اسے اپنی واپسی کا بہرحال انتظار رہتا ہے۔چاند کی شباہت اپنی تاریخ اور وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے لیکن یہ ایک ہی طرح سے دکھائی دیتا ہے یہ اور بات ہے کہ ہر بار کا دیکھنا ایک مختلف تجربہ ہے۔اب چاند دیکھا بھی کہاں جاتا ہے اس کی اطلاع ملتی ہے۔نگاہ آسمان کی طرف اب صرف بادلوں کو دیکھنے کے لیے اٹھتی ہے یا موسم کا کچھ اندازہ کرنے کے لیے۔ایک موسم جو وجود کے اندر ہے اس کی خبر بھی اگر کسی اور سے ملے تو ایسی صورت میں محرم کا چاند کوئی وجودی اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔آنکھیں ویسے ہی خشک ہوتی جا رہی ہیں۔خشک موسم میں ہلکی سی پھوار بھی بڑا حوصلہ دیتی ہے۔اب پھوار پر بھی مشکل وقت آن پڑا ہے۔بارش میں بھیگنے کی تمنا لوگ کبھی کیا کرتے تھے۔خشک موسم برے موسم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ہم ایک خشک موسم سے دوچار ہیں جو برے موسم کو آئینہ دکھاتا ہے۔آنسوؤں میں بھیگ جانے کی خواہش کبھی شدت اختیار کرتی ہے تو ہوس بن جاتی ہے۔بقول شہریار
ہو مبارک آرزوئے خار و خس پوری ہوئی
آنسوؤں میں بھیگ جانے کی ہوس پوری ہوئی
اب کون بھیگتا ہے اور کتنا بھیگتا ہے،اس بارے میں کیا کہا جائے اور کیوں کہا جائے۔ایک تیز رفتاری ہے جو پلٹ کر کچھ دیکھنے اور پاؤں کے نیچے کسی شے کے آ جانے کی پرواہ نہیں کرتی۔یہ روش بالآخر لا حاصلی کے لمبے سفر پر روانہ ہو جاتی ہے۔تطہیر ذات اور عرفان ذات یہ ترکیبیں کتنی مقبول ہوئیں ۔انہیں لکھتے اور بولتے ہوئے خیال تو اپنا ہی آتا ہے۔یہ ترکیبیں اسی لیے بنائی گئیں تھی تاکہ اپنی ذات کی طرف دیکھا جائے۔لیکن ہوا یہ کہ اس کا رخ دوسروں کی طرف ہو گیا۔اب نہ کوئی خشک موسم ہے اور نہ بھیگا بھیگا سا موسم۔موسم اپنا اختصاص کھو بیٹھا ہے یا اسے سمجھنے اور دیکھنے والی نظر بہت پرانی ہو چکی ہے۔کچھ تو ہوا ہے جس نے وقت کو ہمارے لیے اجنبی بنا دیا ہے یا ہم وقت کے لیے اجنبی ہو گئے ہیں۔
وہ کیفیت جو گم ہو چکی ہے یا اس کی گمشدگی میں خود ہماری بے توجہی شامل ہے،اپنی موجودگی کا کچھ احساس دلاتی ہے۔جس طرح مقام کی تبدیلی قرآت کے تجربے کو متاثر کرتی ہے،اسی طرح وہ کیفیت بھی اپنے ہونے اور نہ ہونے کے احساس کو جگاتی رہتی ہے۔مجھے بہت دنوں کے بعد وطن میں اس کیفیت کے رخصت ہو جانے کا احساس ہوا۔یہ احساس اس بات کا اشاریہ بھی ہے کہ وہ رخصت تو نہیں ہوئی تھی مگر منتظر تھی کہ اسے ایک مرتبہ پھر باریابی کا موقع ملے۔زندگی میں کئی ایسی کیفیات ہیں جو ہمارے لیے مہربان وجود کا درجہ رکھتی ہیں،جنہیں ہماری ذات سے اتنی زیادہ ہمدردی ہوتی ہے کہ شاید ہم اپنے تیئں اتنے حساس نہیں ہوتے۔ معنی احساس کا بدل نہیں ہو سکتا۔

اگر معنی کو احساس کہ دیا جائے۔
کیفیت کو کسی ٹھوس سچائی کا نام دیا جا سکتا ہے
ٹھوس سچائی کسی کیفیت میں تبدیل ہو سکتی ہے
ایک عمر گزر جاتی ہے اور کیفیت گریزاں رہتی ہے
معنی سے گھبرانے اور ڈرنے والے کیفیت کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے معنی کا وہ ادراک ضروری ہے جو احساس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
محرم کا چاند
پہلی تاریخ کے چاندکی طرح باریک اور نیا دکھائی دیتا ہے
چاند کو دیکھنا احساس کا مجسم ہو جانا ہے
دور سے دیکھتے ہوئے اور یہ محسوس کرتے ہوئے کہ وہ مجھ سے کس قدر قریب ہے
فاصلہ آنکھوں میں اتر آتا ہے۔
سال بھر یہ شبیہ آنکھوں میں پھرتی رہتی ہے۔
سال کی مدت بڑھتے بڑھتے عمر کو محیط ہو جاتی ہے
صبح کا یہ وقت آج کتنا روشن ہے
یہ وقت کبھی روشن ہوا تھا،
روشن ہے،لیکن اتنی روشنی کہاں سے آئی
رات کی سیاہی شاید کم تھی یا اسے آج کچھ پہلے قطع ہونا تھا
کچھ تو ہے جس نے کیفیت کو الگ الگ صورتوں میں دیکھنے اور دکھانے کا آغاز کیا ہے۔
صبح ہوئی تو ایک مرتبہ پھر “کھول پوٹری” کی آواز سنائی دی۔
امی کہتی تھیں کوئی مہمان آنے والا ہے،اور مہمان آ جاتا تھا۔
امی کو رخصت ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا
دیکھتا ہوں کہ آج کوئی مہمان آتا ہے یا نہیں۔
ایک مہمان تو کب سے یہاں موجود ہے
ہر دن انتظار ہے اسے اپنی مہمان نوازی کا
کیا بتائیں کیا گزرتی ہے اور کس کیفیت کے ساتھ شب و روز بسر ہوتے ہیں۔
احساس شدید ہوتا جاتا ہے
کیفیت ہے کہ معنی کا بدل بن گئی ہے
میں نے ہمیشہ کیفیت کو احساس سمجھا ۔
کھول پوٹری کے ساتھ ایک دو اور آوازیں ہیں۔
انہیں سمجھنے کی کوشش میں کئی کتابوں کا مطالعہ کیا
پرندے کیا کہتے ہیں،ایسی بھی آوازیں ہو سکتی ہیں جو آفاقی ہوں۔اور انہیں مشرق اور مغرب میں تقسیم نہ کیا جا سکے۔
لیکن یہ آوازیں میری سمجھ اور قیاس دونوں سے فی الحال ماورا ہیں ۔کچھ پرندے یہاں باہر سے آتے ہیں،کہیں ایسا تو نہیں یہ موسم انہی پرندوں کا ہو۔
کیا ضروری ہے کہ انہیں کوئی نام دیا جائے یا ان میں کسی معنی کا سراغ لگایا جائے۔
معنی کی جستجو نے کتنا حیران اور پریشان کیا ہے۔
معنی ہے جو گرفت میں آتا نہیں۔
ہوس کا یہ عالم ہے کہ ایک معنی پر گزارا نہیں ہوتا۔
کیسا مشکل وقت آیا ہے معنی پر یا معنی کی جستجو پر،یا اس شخص پر جو معنی کا جویا ہے۔
محرم کے چاند نے ایک مدت کے بعد وجود کے اندر ایسی ہلچل پیدا کی ہے۔
ذہن تضاد کا شکار نہیں ہے بلکہ وہ اس گزرے ہوئے وقت کو لانا چاہتا ہے جس میں اس کیفیت نے خشک موسم اور برے موسم کا مفہوم سمجھایا تھا۔
دکھ اس بات کا ہے کہ اب کوئی موسم ہی نہیں جسے واقعی موسم کہا جا سکے،اسے اس کی خصوصیات کے ساتھ پہچانا جا سکے۔
موسم نے کتنے رنگ تبدیل کیے۔،بس ایک آسمان ہے جس نے اپنی قبا تبدیل نہیں کی۔امداد امام اثر کی تخلیقی نظر نے اسے دیکھ لیا تھا۔

پہنی ہزار رنگ کی پوشاک نے دہرنے
بدلا نہ آسمان نے اپنی قبا کا رنگ
امداد امام اثر
یہی وہ مقام ہے یا اس سے متصل کوئی جگہ ہے جہاں پہلی مرتبہ چاند کے نکلنے کی اطلاع ملی تھی۔
ایک احساس تھا،اور ایک کیفیت تھی
اسی دن یا اسی شام معنی کی حصولیابی کا تجربہ ہوا تھا۔
معنی احساس کے ساتھ تھا۔
ایک کیفیت تھی جس نے معنی کو زیادہ فعال بنا دیا تھا۔
یہیں کہیں ایک رنگ تھا جو وقت کے ساتھ کچھ ہلکا ہوا
مگر کبھی کبھی غیر شعوری طور پر اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہا۔
اس موسم میں کیا لکھیں اور کیا سوچیں
خیال آیا کہ وہاں چلتے ہیں جہاں پہلی بار ایک درخت کے نیچے بیٹھنے کا تجربہ ہوا تھا۔
وہاں بھی ایک رنگ تھا جو ندی کے کنارے پانی کی روانی کے ساتھ رواں دواں تھا۔
ایک کشتی اس پار سے اس بار مسافروں کو لے جاتی تھی۔
کل کا موسم بھی ہے آج کی طرح سخت تھا،لیکن آج کا موسم اور کتنا سخت ہوگا نہیں معلوم۔
پکٹھول خضر چکھ
نانہیال میں ٹھہرے ہوئے ایک مدت ہو گئی
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مدت سے وہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں ملا
ہر بار کچھ پرانی دیواروں،دروازوں،کھڑکیوں،اور پانیوں کو دیکھ کر لوٹ آتا
ممانی اور ان کے بچے،خالہ اور دوسرے رشتہ دار روکتے رہتے
اور میں نکل آتا
مگر کل ایسا نہیں ہوا
بستی گزرتے وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہے اور نئی عمارتیں اس کی رونق کو بڑھانے میں مصروف رہتی ہیں
بس ایک گھر کی تعمیر کا سلسلہ ہے جو ہر طرف جاری ہے
تعمیر کتنا تعمیری عمل ہے۔
لیکن اب بھی وہاں کچھ خالی زمینیں اور درخت موجود ہیں
کچی سڑک یا کچے راستے پر چلنے کا تجربہ بھی ہم بھولتے جاتے ہیں
بنگلہ جو دائرہ نما ہے اس کی خوبصورتی اب بھی باقی ہے۔
کبھی یہاں محفلیں ہوا کرتی تھیں۔
سر شام سنجھلے نانا بنگلے پر بیٹھ جاتے اور دنیا جہان کے موضوع پر گفتگو شروع ہو جاتی۔
کل یہ بنگلہ کتنا خاموش اور اداس تھا۔
کوئی کرسی نہیں تھی بس فرش تھی جو اب ہر ایک کے لیے ہے،اور جو جمہوریت کا مفہوم سمجھا رہی ہے
ایک شخص نے پوچھا آپ کہاں آئے ہیں۔
کہاں جانا ہے
مسکراتے ہوئے میں نے جواب دیا
میں کہیں نہیں آیا ہوں۔
مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ یہیں کہیں میرا بچپن گزرا ہے اور یہ میری والدہ کا وطن ہے۔
میری پیدائش بھی یہیں ہوئی تھی
وہ سنتا رہا،اور سمجھ گیا
دروازہ بند تھا،ابھی ابھی کوئی یہاں سے گیا ہے۔
بلقیس خالہ سے ملاقات ہو گئی۔
میں نے کہا کہ ندی کنارے سے آتا ہوں۔آپ کی شکل تو امی سے بہت ملتی ہے۔
ہاں کیوں نہیں میری بہن ہی تو ہے
میں یہاں اب اس لیے بھی آتا ہوں کہ میری امی کی شکل آپ سے ملتی ہے۔
ان کی آنکھیں نم ہو گئیں ۔
ایک ندی ہے جس میں پہلے کی طرح پانی نہیں۔
باندھ پر بیٹھ کر لوگ باتوں میں مصروف تھے،کچھ بزرگ اور کچھ نوجوان
نوجوان مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے
وہی سوال آپ کہاں سے آئے ہیں۔
نوجوانوں سے باتیں کرتا رہا۔انہیں اپنے بچپن کا قصہ سناتا رہا جس کا تعلق اس بستی اور ندی سے ہے۔یہاں ماموں کے ساتھ نہانے آ جاتا تھا۔پانی میں تیرنے اور وقتی طور پر پانی میں گم ہو جانے کا تجربہ بھی یہی ہوا تھا۔
پانی اوپر تک آ جاتا اور بچے درخت کی جٹاؤں کو پکڑ کر ندی میں کود جاتے۔
بس ایک پانکڑ کا درخت ہے جو موجود ہے اور جس میں نہ جانے کتنے زمانوں کی تاریخ پوشیدہ ہے۔اس نے کیا کچھ نہیں دیکھا ہوگا۔اور پھر خاموش ہے ۔یہی وہ درخت تھے جس کے نیچے پہلی مرتبہ بیٹھنے کا تجربہ ہوا تھا۔ان دنوں اس کی جٹائیں زیادہ بڑی تھیں ،اور وہ زمین کو چھوتی تھیں۔اب یہ پہلے کی طرح لمبی اور گھنی نہیں ہیں ۔ وقت نے انہیں چھوٹا کر دیا ۔یا وہ بچے نہیں رہے جو انہیں جھولا بنا کر جھولتے تھے اور پھر جھولتے جھولتے پانی میں چھلانگ لگا دیتے۔دیر ہو جاتی تو نانی اماں کہتیں کہ ذرا دیکھو نہانے کے لیے گیا ہے یا ندی کی طرف تو نہیں گیا۔نانی اماں کی باتیں یاد آنے لگیں ۔وہ مجھے بھری بھری آنکھوں سے دیکھتیں اور خاموش دعائیں دینے لگتیں ۔وہ یوں بھی کم بولتیں تھیں ۔اتنی دیواریں ہر طرف اٹھ گئی ہیں کہ اب خالی زمینیں دکھائی نہیں دیتیں ۔لیکن یہ پرانا گھر ابھی تک پرانی روش پر قائم ہے۔تعمیر کا عمل شروع نہیں ہوا لیکن تعمیر جو میری نانی اماں کے ہاتھوں ہوئی تھی وہ تو زیادہ بڑی تعمیر تھی۔یہی وجہ ہے کہ پرانے مکان کی دیواریں اور اس کی چھتیں یہ بتاتی ہیں کہ نئی تعمیر تو ہو سکتی ہے مگر وہ تعمیر جو زندگیوں کو بڑا بنا دیتی ہے اسے نہیں بھولنا چاہیے۔فراوانی اور اشیاء کی فراوانی۔کتنی رسوائی کا سامان بن جاتی ہیں۔
یہاں آ کر مجھے وسائل کی فراوانی کا نہیں بلکہ وسائل کی امانت اور ان کے درمیان خود کو منظم رکھنے کی طاقت کا احساس ہوتا ہے۔جو نگاہیں تبدیل ہو گئیں انہوں نے اشیاء کو سب کچھ جانا اور پھر انہی اشیاء نے کیسا شور مچایا ہے یہ آوازیں کتنی کھوکھلی ہیں یہ سچ کا مقابلہ کرنے سے اتنا گھبراتی ہیں اشیاء کی فراوانی کو علم تو نہیں کہتے تہذیب بھی نہیں کہتے۔رسوائی کا ایک لمحہ پوری زندگی کو رسوا کر دیتا ہے۔نانی اماں کی زندگی اور ان کی تعلیمات کے خیال نے میرے ذہن کو کن سمتوں کی جانب منتقل کر دیا۔کبھی موقع ملے گا تو کچھ اور لکھوں گا۔
یہ تو محرم کے چاند کے ساتھ ایک ذہنی سفر تھا بلکہ ایک ذہنی سفر ہے جو ابھی شروع ہوا ہے۔