محراب گل بنام جارج بش

یہ تحریر 132 مرتبہ دیکھی گئی

جارج بش !
پخیر راغلے !!
میں وہی گھنی داڑھی
اور کالی پگڑی والا
محراب گل ہوں
جسے تم خواب میں دیکھ کر
ڈر گئے تھے ،
اب میرا خط پڑھ کر
دہشت زدہ نہ ہو جانا !
خوچہ !
تمہاری سائنس نے
اتنی ترقی کر لی ہے
کہ جب کابل میں
شربت گلہ برقع پہنتی ہے
تو واشنگٹن میں
ہیلری کا دم گھٹنے لگتا ہے ،
یار !
تمہاری سائنس کے کچھ معجزے
ہمارے پاس پڑے ہیں ،
کابل ائیرپورٹ پر کھڑے ہیں،
جو ” اڑتے بھی نہیں اور پر پھیلائے رکھتے ہیں “
اب ان کے پروں سے
ہمارے بچے
جھولا جھولتے ہیں ،
اچھا ، یار !
نماز کا وقت ہو رہا ہے ،
اجازت دو ،
اب خواب میں ملوں گا !