لاہور شہر پر کمال

یہ تحریر 196 مرتبہ دیکھی گئی

تحریر کردہ: محمود الحسن

تعارف : قاضی ظفراقبال

“لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم”

لاہور ملکہ ہند نور جہاں کو کو ہی جان سے پیارا نہ تھا بلکہ یہ خنک شہر ہر اس شخص کو بھایا جو کسی بھی طور یہاں آیا یا قیام پزیر ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم ہند کے وقت تبادلہ ء آبادی سے پنجاب اور بنگال کے لوگوں نے بہت کچھ نقصان اٹھایا قاید اعظم محمد علی جناح نے بر صغیر کی تقسیم کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی مخالفت کی تھی مگر سیرل ریڈ کلف کی “مہربانی”اور نا عاقبت اندیشی سے (بانی پاکستان کے وژن کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے) پنجاب اور بنگال کے دھڑ کو ایسے کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا کہ اس سے بہنے والے خون نا حق کے سیلاب میں بہت کچھ بہہ گیا۔۔۔۔عزتیں ، ،مروتیں ، محبتیں اور باہمی برداشت کی قوتیں۔۔۔بہت کچھ۔

محمود الحسن ایک وسیع المطالعہ شخص کا نام ہے ۔میری اس سے شناسائی چند سال پہلے ہوئی اور پھر یہ شناسائی محبت اور دوستی کے رشتے میں ڈھل گئی ۔ اس کا پروفیشن صحافت اور پیشن ادب ہے ۔۔دوست کے بارے میں بات کرتے ہوئے زبان لکنت کرنے لگتی ہے اور خیالات کا بہاو اپنے راستے کی خود دیوار بننے لگتا ہے ۔۔ توازن طبع بگڑنے اور افراط تفریط کا اندیشہ سر پر سوار رہتا ہے۔۔۔۔

محمود الحسن علم سے اور کتاب سے محبت کرنے والا مگر ایک کم گو انسان ہے ۔۔۔میں جب سے لاہور میں آ بسا اس سے ملاقاتوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۔۔۔۔برا ہو کرونا کی وبا کا کہ سماجی دوری کے نام پر بہت سے دوستوں سے عملی دوری واقع ہو گئی۔۔۔۔تاہم ایک دن وہ اپنی تازہ کتاب “لاہور شہر پر کمال” بالواسطہ مجھ تک پہنچا گئا۔۔۔۔اس کا شکریہ۔

اس سے پہلے میں محمود الحسن کی ایک اور کتاب “شرف ہم کلامی” پڑھ چکا تھا جو رواں صدی کےعظیم افسانہ نگار ، ناول نگار اور کالم نویس انتطار حسین سے اس کی ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔جس سے انتظار حسین کی زندگی کے بہت سے ایسے گوشے روشن ہوتے ہیں جو ان کے چاہنے والوں کی نظر سے اوجھل تھے۔

یہ دوسری کتاب” لاہور شہر پر کمال “بڑی مزے کی کتاب ہے ۔

محمود الحسن نے اچھے لوگوں کی صحبت ہی نہیں اختیار کی بلکہ ان سے ذاتی تعلقات بھی استوار کئے۔۔اور ان بڑے لوگوں میں ایسے نابغہ ادیب شامل ہیں جو اپنے اپنے شعبے میں نہائت احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔۔۔۔محمد سلیم الرحمن ، احمد مشتاق ، خورشید رضوی ، معین نطامی ،شمس الرحمن فاروقی ،آصف فرخی انتطار حسین اور شمیم حنفی کے ناموں اور ادبی قد و قامت سے کون واقف نہیں۔

یہ سب لوگ شاعری ،تنقید ،فکشن ،ناول نگاری اور ترجمہ کاری میں بڑی قدر و قیمت اور شہرت کے حامل اشخاص ہیں۔

زیر نظر کتاب” شہر پر کمال “میں تین ادبی جنوں کو قید کیا گیا ہے ۔۔۔۔میری مراد کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی اور کنھیا لال کپور سے ہے۔ پہلے دونوں صاحب مہان فکشن رائٹر اور کنھیا لال کپور عطیم مزاح اور طنز نگار ہیں ۔۔۔یہ تینوں سرگ باشی ہوچکے ہیں اور اب ہم میں موجود نہیں مگر ان کی تحریریں اور ان کا فن زوال پزیر نہیں وہ اپنے فن کے حوالے سے آج بھی زندہ ہیں ۔۔۔ یہ تینوں ادبی جن لاہور سے ہر گز ہرگز جانا نہیں چاہتے تھے مگر اندیشہ ہائے دور دراز ، خوف فساد خلق اور بھڑکتی آگ نے ان کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے پیارے شہر لاہور سے ہجرت پر مجبور کر دیا ۔یہ تینوں ہندوستان میں بس جانے کے باوجود کبھی لاہور کو بھلا نہ سکے۔ بقول غالب

نسیاں نہ طرز ماست ولے بہر احتیاط

بر لوح سینہ نام تو صد جا نوشتہ ایم

محمود الحسن نے انہی کے بارے میں تاثرات کو کتابی صورت میں متشکل کر دیا ہے ۔

کوئی زمانہ تھا جب دلی اور لکھنئو تہزیبی گہوارے کے طور پر مشہور تھے مگر اب وہ ایک گزری اور فراموش شدہ تہزیب کی علامت بن کر رہ گئے ہیں۔مگر لاہور ہمیشہ سے زندہ تھا اور آج بھی ایک ادبی اور تہزیبی دبستان کی حیثیت سے رس بس رہا ہے ۔

اس کتاب کی تقریظ معروف سکالر ، ادیب ، محقق ، ناول نگار اور ادبی نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی نے تحریر کی ہے۔

مجھے کہنے دیجیے کہ محمود الحسن نے اس کتاب کو ایک ادبی و تاریخی دستاویز بنا دیا ہے اور یہ کرشمہ ان کی خیال آرائی کا نہیں بلکہ ہر تاثر اور واقع سند کے ساتھ موجود ہے ۔۔۔کتاب کے اختتام پر دی گئی کتابیات کی فہرست اس کی شاہد ہے۔

جہاں تک صاحب کتاب کی تحریر کا تعلق ہے تو میں اسے ایک ادبی نثر پارہ کہہ سکتا ہوں ۔۔۔دل اور دامان نگاہ کو کھینچنے والی شاندار تحریر۔۔۔پڑھیئے اور بس پڑھتے جایے۔

کاغذ ، لکھائی چھپائی ، گیٹ اپ پروف ریڈنگ سب شاندار۔

ناشر : قوسین پبلشرز لاہور

صفحات : 144

قیمت : 500 روپئے