قرأت، تعبیر، تنقید

یہ تحریر 66 مرتبہ دیکھی گئی

(۳)

            علمیاتی تعبیر(۱)

            اب اسی شعر کو ترقی پسند نظریے کی روشنی میں پڑھیں، یا اسے عوامی انقلاب کے تصورات کا حامل قرار دینا چاہیں تو نتائج حسب ذیل ہوں گے:

            (۱)شعر میں متکلم کوئی نہیں، شاعر خود متکلم ہے۔ میرمحمد تقی میر شاعر کا ذہن انقلاب پسند اور انسان دوست تھا۔میر ہمیں اس شعرکے ذریعہ انقلابی جد و جہدمیں سر گرم رہنے اور نا مساعد حالات کے باوجود انقلابی آدرش سے وفا داری قائم رکھنے اور نا مساعد حالات کو بدلنے کی سعی کرتے رہنے کی تلقین کررہے ہیں۔

(۲)”چمن“ سے مراد ہے میدان عمل، مثلاً وطن عزیز جہاں انقلاب برپا کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔

(۳)”گل“سے مراد ہے انقلابی آدرش، یاانقلاب کا لمحہ۔

(۴) ”بلبل“ سے مراد ہے انقلابی، یا انقلاب پسند عوام کا نمائندہ جو جد و جہد انقلاب میں مصروف ہے۔

(۵)”چمن میں نہ رہیئے“ سے مراد ہے انقلابی جد و جہد میں تھک ہار کر بیٹھ جانا۔

(۶)”ناچار ہو کر“ رہنے سے مراد ہے سامراجی یا بیرونی یا غیر منصف اقتدار کے ہاتھوں مجبور و محکوم رہنا۔

(۷) ”کہوں ہوں جب“ کا فاعل انقلابی ہیرو (”بلبل“) کا ساتھی ہے جو ہمت چھوڑنے پرمائل ہے۔

علمیاتی تعبیر(۲)

            میر کے شعر کی ایک تعبیر حسب ذیل انداز میں بھی ہو سکتی ہے۔ اگر علمیاتی تجزیہئ اول کوکسی سیاسی او رسماجی نقطہئ نظر کا اظہار کہا جائے تو علمیاتی تجزیہئ دوم کو سماجی، سیاسی،نفسیاتی، اور انسانیاتی (Anthropological) تصورات کا حامل کہا جاسکتا ہے:

            (۱)سترہویں صدی تک کے کچھ شعرا کی کچھ غزلوں کو چھوڑ کراردو غزل میں معشوق کی جنس عام طور پر واضح نہیں کی جاتی۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ معشوق طبقہئ اناث ہی سے ہوگا بشرطیکہ کھلے ہوئے شواہد اس کے خلاف نہ ہوں۔ عاشق کو تقریباً ہمیشہ مرد قرار دیتے ہیں۔ مگر بلبل اور گل پر مبنی شعروں میں صورت حال بر عکس ہے۔ ”بلبل“ عاشق ہے اور وہ مونث ہے، ”گل“ معشوق ہے اور وہ مذکر ہے۔مرد عاشق اور غیر متعین معشوق پر مبنی غزل میں معشوق کو تقریباً  ہمیشہ سنگ دل،یانا ممکن الحصول،یابے وفا،عاشق کے حال سے بے پرواد کھایا جاتا ہے۔توقع کی جا سکتی تھی کہ معشوق کی جنس بدل جانے کی صورت میں اس کا کردار بھی بدل جانا چاہیئے تھا۔ لیکن شعر زیر بحث میں معشوق کو حسب معمول سنگ دل نہیں توبے پروا ضروردکھایا گیا ہے۔ یعنی بلبل کی تقدیر میں دکھ بھوگنا ہی لکھا ہے۔پدری اور مرد محکوم معاشروں سے ہم اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔ عاشق اگر مرد ہے تو اس کامعشوق(جو عموماً عورت ہوگا) اپنے عاشق کے ساتھ ہر طرح کا برا سلوک کرتا ہے، یا پھر وہ عاشق سے اتنے فاصلے پر ہوتا ہے کہ اس کی ایک جھلک بھی محال ہوجاتی ہے۔ یعنی ایسے اشعار میں عورت کو نا منصف اور منفی کردار کا حامل دکھایاجاتا ہے۔ اب جب معشوق بے شک مرد ہے اور عاشق بے شک عورت، توبھی عورت ہی مورد جور ٹھہرتی ہے۔لہٰذا اردو غزل کا مزاج عورت دشمنی کا نہیں تو عورت مخالفت کا ضرور ہے۔

            (۲) اگر ”براے گل‘ کا فقرہ قسمیہ ہے، جیسا کہ نحو اور محاورہ کی رو سے بالکل ممکن ہے، تو ”گل“ کی قسم دینا یا کھانا، گویا ”گل“  معشوق ہی نہیں خدا بھی ہو، ہندوستانی سماج کی رسم کے عین مطابق ہے جہاں عورت کو تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنا ”مجازی خدا“ یا ”پران ناتھ“ یا ”سرتاج“ یا ”پتی“ یا ”وارث“کہے۔ اس تعبیر کی رو سے اردو غزل کا مزاج اور بھی پدری اور مرد مرکوز ٹھہرتا ہے۔

            یہاں اولین اہم بات یہ ہے کہ شعر کی مندرجہ بالا دونوں تعبیرات اپنی اصل کے لحاظ سے افلاطونی ہیں لیکن دونوں ہی کو شعر کے محاسن سے کوئی علاقہ نہیں۔ ان تعبیر وں کے بنانے والے کو شاید اس بات کا احساس بھی نہیں کہ شعر میں کئی اور معنی ہو سکتے ہیں، یا شعر کی ڈرامائیت، شور انگیزی، نغمگی، روانی،مکالمے کی بر جستگی، وغیرہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن پر توجہ صرف ہو سکتی ہے۔ تعبیر اول کے بنانے والے کی نظر میں شعرکا یہی حسن کافی ہے کہ اس میں عوامی انقلاب کے بارے میں بہت ہمت انگیز اور ولولہ خیز باتیں کہی گئی ہیں۔علیٰ ہٰذالقیاس، اس تعبیر کے مرتب کرنے والے کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں کہ اس تعبیر کی روشنی میں میر اٹھارویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب کے اردو شاعر کی جگہ بیسویں صدی کے انقلاب پسند یا بنیادی تبدیلی پسند (Radical) شاعر معلوم ہوتے ہیں۔

            یہ بھی ملحوظ رہے کہ مندرجہ بالا تعبیریں ان تمام تعبیر کنندگان کے لئے کافی اور مناسب ہیں جو فن پارے کی تعبیر و تنقیدکو فن پارے کا علمیاتی مسئلہ قرار دیتے ہیں، یعنی جن کی نظر میں نقاد کا فرض یہ ہے کہ وہ اس فلسفیانہ، سماجی، یا سیاسی پیغام کو تلاش اور آشکار کرے جوفن پارے میں ظاہر یا مخفی طور پر موجود ہے۔ یہ بات غیر اہم ہے کہ جو نقاد کسی فن پارے میں فلسفیانہ، سماجی، یا سیاسی، یعنی علمیاتی مافیہ تلاش کر رہا ہے، خود اس کے معتقدات کیا ہیں۔ مثال کے طور پر، بلبل اور چمن کی جو تعبیر اوپر تعبیر اول کے طور پر بیان ہوئی اس کی رو سے شعر کا اصل ما فیہ انقلاب کے لئے جد و جہد ہے۔ اور ضروری نہیں کہ یہ جد و جہد صرف مارکسی یا اشتراکی انقلاب (سردار جعفری کی اصطلاح میں عوامی انقلاب) کے لئے ہو۔ وہ اسلامی انقلاب، چینی انقلاب، فلسطینی انقلاب، کوئی بھی انقلاب ہو سکتا ہے جس کی تمثیل (Allegory)اس شعر میں ہے۔ سردار جعفری نے فیض کی نظم ”صبح آزادی“ کے بارے میں غلط نہیں کہا تھا کہ ایسی نظم تو مسلم لیگی، مہا سبھائی، کوئی بھی کہہ سکتا ہے۔سردار جعفری کے اس قول میں بہت بڑا تنقیدی نکتہ پنہاں ہے کہ فن پارے کا سیاسی مافیہ کسی بھی شخص کے لئے کار آمد ہو سکتا ہے اگر وہ اسے اپنے کام میں لانا چاہے۔

            یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ شعر زیربحث کی تعبیر دوم تانیثی نقطہئ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔ تانیثی نظریات کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں، لیکن تانیثی فکر کاپہلا مقدمہ یہ ہے کہ کسی متن یا فن پارے کو عورتیں جس طر ح پڑھتی ہیں، مرد اس طرح نہیں پڑھ سکتے۔ کسی متن یا فن پارے میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کے وجود کا  احساس بھی مرد کو نہیں ہوتا اور عورتوں کے لئے وہ آئینہ ہوتی ہیں کیونکہ مردوں کے خیال میں صنفی آویزش (Gender Conflict) کوئی شے نہیں۔اسی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عورت کے بنائے ہوئے فن پاروں کے بھی تمام مضمرات کو مرد نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ عورت جس طرح سے دنیاکو دیکھتی ہے اس طرح کا احساس اور تجربہ مرد کو نہیں ہو سکتا۔ہم لوگ تعلیمی نصابات میں مدتوں سے غزل پڑھا رہے ہیں اور پڑھنے والوں میں لڑکیاں لڑکے دونوں ہوتے ہیں لیکن یہ خیال کسی کو نہیں آتا کہ غزل میں تذکیر و تانیث کی آویزشوں (Gender Conflicts) کے بھی پہلو ہو سکتے ہیں۔مگر یہ بات بھی ہم پر واضح رہنی چاہیئے کہ تانیثی مطالعات بھی علمیاتی نوعیت کے ہیں اورفنی محاسن سے لطف اندوزی، یا ان کا تجزیہ، نہ تو تانیثی نقاد کا کوئی اہم سروکار ہے اور نہ کسی بھی ایسے نقاد کا جس کی اولین دلچسپی فن پارے میں ظاہر یا مخفی پیغام سے ہو۔لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں تعبیر (اول) کی روسے میر کی تاریخی اور تہذیبی شخصیت کو بیسویں صدی میں منتقل کر دیا گیا ہے، وہاں تعبیر(دوم) کی رو سے میر اپنے ملک، اپنی صدی، اوراپنی تہذیب میں قائم رہتے ہیں۔ یعنی تانیثی تصورات جادو کی چھڑی نہیں ہیں کہ فن پارے پر تانیثی تصورات کا اطلاق کرکے ہم اس کے داخلی خدو خال ہی بدل ڈالیں۔ 

(۳)

علمیاتی قرأت کی مجبوریاں

            ادبی تخلیقات کے مطالعے میں وجودیاتی مباحث کو مقدم رکھنے والوں کے سامنے حیص بیص یا مخمصے یعنی Dilemma کے کئی مواقع بھی آتے ہیں۔میں نے اوپر شروع میں لکھا ہے کہ علمیاتی نتائج کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ انھیں فن پارے کی فنی حیثیت سے سروکار بہت کم ہوتا ہے۔لیکن علمیاتی بیانات میں کچھ ایسا  چٹخارا بھی ہوتا ہے کہ کم ہی نقاداس کی چیٹک سے بچ سکے ہیں۔ عمومی علمیاتی نتائج نکالنے کی گنجائش ان فن پاروں میں زیادہ ہوتی ہے جن میں بیانیہ کا عنصر معتد بہ ہو، یا غالب ہو۔اور چونکہ تخلیقی ادب میں بیانیہ اکثر موجود ہوتا ہے لہٰذا  علمیاتی مو شگافیاں نکالنے کے مواقع بھی قدم قدم پر مہیا رہتے ہیں۔ اور جب ہم افسانے یعنی فکشن کی تعبیر یا تنقید کرنے بیٹھتے ہیں تو ہمارا مخمصہ ہماری مجبوری بن جاتا ہے۔

            تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بیانیہ چاہے جتنا بھی خیالی اور غیر واقعی ہو، اس کی تعبیر ہمیں دنیا کے حقیقی اور واقعی قضایا کی طرف کھینچتی ہوئی لے جاتی ہے۔بیانیہ کو انسانی دنیا میں کچھ ایسا مرتبہ حاصل ہے کہ ا سے پڑھتے وقت ہمیں بار بار پوچھنا پڑتا ہے کہ اس واقعے کی، اس منظر کی، اس کردار کی معنویت انسانی دنیا کے لحاظ سے کیا ہے؟ فلاں بات اس طرح کیوں انجام پذیر ہوئی، اس طرح کیوں نہ ہوئی؟ فلاں کردار نے فلاں قدم کیوں اٹھایا اور اس کے بر خلاف کیوں نہ کیا؟ یہ کردار اس قدر دلکش ہوتے ہوئے بھی ہمیں وثوق انگیز کیوں نہیں لگتا؟ یہ کردار اتنا برا ہوتے ہوئے بھی اتنا دلکش کیوں ہے؟وغیرہ۔ لہٰذا فکشن کے معبر اور نقاد کی مجبوری ہے کہ وہ جس بھی فکشن پر اظہار خیال کرے اس کے سماجی یا سیاسی معنی کو بھی معرض بحث میں لائے۔ فکشن کی ایک بڑی قوت یہ ہے کہ وہ قاری کو انسانی اور دنیاوی سطح پر گرفت میں لے لیتا ہے۔لہٰذافکشن کی تعبیرکو علمیاتی ہونا ہی پڑتا ہے۔

             اسی معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فکشن کی رسائی شاعری اور ڈرامے سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔اس کی ایک مثال چارلس ڈکنس کے ناول ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مصنف کی موت کے بعد اس کی مقبولیت میں کمی آجاتی ہے۔ڈکنس کا انتقال ۱۸۷۰ میں ہوا۔اس کے بعد صرف بارہ سال میں، یعنی ۱۸۸۲ تک ڈکنس کے ناولوں کے بیالیس لاکھ چالیس ہزار نسخے فروخت ہوئے۔اس زمانے میں ٹینی سن (Tennyson) زندہ تھا اوراپنی شہرت کی معراج کمال پر تھا، لیکن کتابوں کی فروخت اور کتابوں کی آمدنی کے باب میں ڈکنس نے پس مرگ بھی ٹینی سن کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔اور ابھی تو بہترین فروش(best seller)کا دور آنا باقی تھا۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ ۱۹۲۸ آتے آتے جاسوسی اور سنسنی خیز ناول و افسانہ نگار ایڈگر والیس (Edgar Wallace) کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ انگریزی میں شائع ہونے اور فروخت ہونے والی کتابوں سے انجیل کو منہا کر دیا جائے تو بقیہ کتابوں میں ہر چوتھی کتاب ایڈگر والیس کی تھی۔ اور یہ بات اب صرف سنسنی خیز فکشن تک محدود نہیں۔اب تو انعامات کا زمانہ ہے۔ کسی ناول کو کوئی بڑا انعام مثلاً مین بوکر انعام Man Booker Prize) (یا بین الاقوامی مین بوکر انعام(International Man Booker Prize)یا پیولٹزر انعام (Pulitzer Prize)مل جائے تو اس کی فروخت لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔نوبل انعام کی تو بات ہی کیا ہے۔ہم ہندوستانی، اور خاص کر اردو والے ایسی مقبولیت کا تصور نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ تو ہم بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اردو معاشرے میں عمومی طور پر قرۃ العین حیدر، انتظار حسین، اور عبد اللہ حسین کا نفوذ ان کے معاصر شعرا سے بڑھ کر ہے۔اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ منٹو کا کلیات آج سرحد کے دونوں طرف سرحد کے دونوں طرف کے شعرا کے کلیات سے زیادہ فروخت ہوتا ہے۔علاوہ ازیں، شاعری کے مقابلے میں جلد ترجمہ ہو سکنے کے باعث فکشن کی رسائی جلد از جلد اپنی اصل زبان  کے حلقوں سے آگے تک بھی ہوجاتی ہے۔

            پڑھنے والوں کے مختلف حلقوں میں بہت زیادہ اور بہت دور تک پھیلنے کی صلاحیت رکھنے کے باعث  فکشن میں بیان کردہ واقعات، صورت حالات، اور کردار فوری سطح پر متوجہ اور بر انگیخت کرتے ہیں اور پڑھنے والے ان کے بارے میں گفتگوبھی فوری سطح پر کرتے ہیں۔اب فکشن صرف چند ”پڑھے لکھوں“ کی ملکیت نہیں رہ گیا ہے۔ یہ ہمارامسئلہ ہے کہ علمیاتی سطح پر کلام کرتے وقت بیانیہ فن پارے کے فنی، وجودیاتی نکات سے اپنی وفاداری بھی قائم رکھیں تا کہ فن پارے کا پورا حق ادا ہو سکے۔میں یہاں دو بہت مشہور افسانوں پر مختصر تبصرہ کر کے بات ختم کردوں گا۔

بڑے گھر کی بیٹی، چھوٹا کردار

            ”چھوٹا کردار“ کہنے سے میرا مطلب یہ نہیں کہ پریم چند نے اسے چھوٹی طبیعت یا قابل اعتراض طینت کا حامل دکھا یا ہے۔”چھوٹا کردار“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ افسانہ نگار کی نظر میں گھر کے اندر عموماً، اور سسرال میں یقیناً،

عورت کامرتبہ یہی ہے کہ وہ چھوٹی بن کے رہے۔بڑے گھر کی بیٹی کی بڑائی اسی میں ہے کہ وہ سب سے دب کر رہے، مار کھائے لیکن پھر بھی دب کر رہے۔آنندی کو اس کا دیور ذرا سی بات پر جھلا کر کھڑاؤں کھینچ مارتا ہے۔پہلے تو جب آنندی نے اس کے طعنے کا جواب ترکی بہ ترکی دیا تو دیور نے ”تھالی اٹھا کر پٹک دی اور بولا، جی چاہتا ہے تالو سے زبان کھینچ لوں۔“ جب آنندی نے کچھ اور جواب دیا تو:

اب نوجوان اجڈ ٹھاکر سے ضبط نہ ہو سکا۔ اس کی بیوی ایک معمولی زمیندار کی بیٹی تھی۔ جب جی چاہتا تھا اس پر ہاتھ صاف کر لیا کرتا تھا۔کھڑاؤں اٹھا آنندی کی طرف زور سے پھینکا۔ اور بولا، ”جس کے گمان پر پھولی ہوئی ہو اسے بھی دیکھوں گا اور تمھیں بھی۔“

آنندی نے ہاتھ سے کھڑاؤں روکا۔ سر بچ گیا مگر انگلی میں سخت چوٹ آئی…آنندی خون کا گھونٹ پی کر رہ گئی۔

            اس مخمصے کاانفصال یو ں ہوتا ہے کہ آنندی اپنے شوہر سے دیور کی شکایت کرتی ہے تو شوہر اپنا گھر الگ کرنے کا تہیہ کرلیتا ہے۔ ادھر دیور بھی بڑے بھائی کی خفگی سے متاثر ہو کر گھر چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔آنند ی منت سماجت کر کے دونوں کا میل کرا دیتی ہے۔ افسانہ نگار ہمیں بتاتا ہے:

             بینی مادھو سنگھ باہر سے آرہے تھے۔ دونوں بھائیوں کو گلے ملتے دیکھ کر خوش ہو گئے اور بول اٹھے: ”بڑے گھر کی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ بگڑتا ہوا کام بنا لیتی ہیں۔“ گاؤں میں جس نے یہ واقعہ سنا، ان الفاظ میں آنندی کی فیاضی کی داد دی، ”بڑے گھر کی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔“

            لہٰذا ”نئی تاریخیت“ کی بھی رو سے ہمارے نتائج فنی معیار سے افسانے کی بھلائی برائی کے بارے میں نہیں، بلکہ افسانے میں مضمر یا ظاہر سماجی سیاسی تصورات سے متعلق ہیں۔اور افسانے کے بارے میں ہمارامنفی فیصلہ انھیں علمیاتی  بنیادوں پر قائم ہوا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ترقی پسند نقاد ہو یا تانیثی نقاد، یا ثقافتی مادہ پرستی  اور/یا  ”نئی تاریخیت“ کا حامی نقاد ہو،  ان سب کی نظر وہی تحریر فنی طور پر کامیاب ٹھہرے گی جس میں انھیں تصورات کا واضح یا مضمر اظہار ہو جنھیں نقاد درست اور لائق اظہار سمجھتا ہو۔اس بات کی مزید وضاحت کے لئے ”بڑے گھر کی بیٹی“ کے بارے میں مندرجہ ذیل نکات پر غور کیجئے:

            (۱) اس افسانے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ پیداواری رشتوں اور دولت کی بنیادوں پرقائم سماج میں سب سے زیادہ کمزور وہ ہوتا ہے جو دولت اور اشیا کی پیداوار میں کوئی دخل نہیں رکھتا۔عورتیں چونکہ نہ تو دولت مند ہیں اور نہ ہی وہ کسی شے کی پیداوار میں عمل دخل رکھتی ہیں لہٰذا وہی سب سے کمزور ٹھہرتی ہیں۔

            (۲)جس نظام کی بنیاد ذاتی ملکیت  (Private Property)، وراثت میں ملی ہوئی جائداد،  اور دولت کی نا منصفانہ تقسیم پر قائم ہو، وہاں عمومی بے انصافی بھی عام ہوتی ہے۔ آنندی کے ساتھ جو بے انصافی ہوئی وہ اسی کی ایک مثال ہے۔

            ظاہر ہے کہ افسانہ ”بڑے گھر کی بیٹی“  کے بارے میں مندجہ بالا اقوال کو ترقی پسندنقطہئ نظرکا اظہار کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اب مندرجہئ ذیل بیان پر غور کیجئے:

            (۳) صاحب اقتدار طبقے کا سب سے بڑا ہتھیارخود وہ طبقہ ہے جس پر وہ اپنا اقتدار مسلط کرتا ہے۔ وہ محکوم طبقے کو طاقت کے کھیل میں اپنا سہیم  بنا لیتا ہے۔ یعنی وہ محکوم طبقے کویقین دلا دیتا ہے کہ تمھاری بھلائی محکومی ہی میں ہے اور تم در اصل محکومی کی زندگی ہی میں پھلتے پھولتے ہو۔زیر بحث افسانے کی آنندی کا کردار اسی طریق کار کی مثال ہے۔ وہ سسرال میں دکھ اٹھاتی اور ذلیل ہوتی ہے لیکن بالآخر محکومی ہی کو اختیار، بلکہ پسند کرتی ہے۔

            مندرجہ بالا تجزیہ تھوڑا بہت ترقی پسندانہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ در اصل ترقی پسند نظریے سے ایک بالکل مختلف، بلکہ متصاد نظریے کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے جسے ہم پس نو آبادیاتی (Post-colonial)نظریہ کہہ سکتے ہیں۔ اس تجزیے کی عملی تصدیق کے لئے آپ ہندوستان میں انگریزی راج کے زمانے کی مثالیں بآسانی پیش کر سکتے ہیں۔

            اوپر ہم نے پریم چند کے افسانے”بڑے گھر کی بیٹی“ کے جتنے تجزیے پیش کئے ہیں انھیں تھوڑی بہت ترمیم کے بعد راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ”گرہن“ پر بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔

”گرہن“،اردو کا”مظلوم“ افسانہ

            ”گرہن“ کو ”مظلوم“ افسانے کا خطاب وارث علوی نے عطا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاروقی نے بیدی کے بارے میں ”گرہن“کے حوالے سے کہا ہے کہ بیدی اپنے عورت کرداروں کو پست اور پس ماندہ اور دکھ  اٹھاتا ہو اہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ وارث علوی کا خیال ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ آیا واقعی بیدی اپنے عورت کرداروں کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، فاروقی نے اس ضمن میں ”گرہن“کا  ذکر کر کے خود ”گرہن“ کے ساتھ ظلم کیا ہے۔

            فی الحال میں اس بات سے بحث نہ کروں گا کہ بیدی کا رویہ عورت کرداروں کے بارے میں کیا واقعی ایسا ہے جیسا میں سمجھا ہوں،  اور نہ اس بات کو اٹھاؤں گا کہ ”گرہن“ عورتوں کے بارے میں در حقیقت کیا کہتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ یہ رائے جو ہم دونوں نے ”گرہن“ کے بارے میں قائم کی ہے، افسانے کی فنی خرابیوں کے بارے میں قاری کو کچھ نہیں بتاتی۔میں نے اتنا ضرور کہا ہے کہ ”زبان و اسلوب کی غیر معمولی خوبصورتی کے باعث ”گرہن“  نہایت اثر انگیز افسانہ ہے۔ ورنہ میں اسے بیدی کے ناکام افسانوں میں رکھتا۔“ اس میں کوئی شک نہیں کہ ”گرہن“  کا بیانیہ اس قدرپرقوت ہے کہ اس کی خرابیاں جلد نظر نہیں آتیں۔ ایک حد تک یہی بات ”بڑے گھر کی بیٹی“ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ ”گرہن“ کا فنی مرتبہ ”بڑے گھر کی بیٹی“ سے بلندتر ہے۔ لیکن اس وقت معاملہ زیر بحث یہ ہے کہ افسانے کی تعبیر ہمیں بار بارعلمیاتی بیانات کی طرف لے جاتی ہے۔”گرہن“  کے مافیہ کے بارے میں ہمیں آل احمد سرور سے بہتر بیان نہیں مل سکتا۔ سرور صاحب کہتے ہیں:

            حمل کے دوران ساس کی بندشیں اور میاں کی ہوس ناکی، ”گرہن“ کی ہیروئن کو میکے اوراس کی آسائش کے لئے اس طرح بے قرار کرتے ہیں کہ وہ گھر سے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ مگر اس کی بستی کا ہی ایک آدمی اس کو اکیلا پا کر اس کی عصمت پر حملہ کرتا ہے اور وہ عین اس وقت جب چاند گرہن ہورہا ہے،سمندر کی طرف ڈوبنے کے لئے بھاگتی ہے۔

            بیدی کا یہ افسانہ اس بات کی اچھی مثال ہے کہ فن پارے  کے بارے میں ہم دو ہی طرح کی باتیں کہہ سکتے ہیں۔ یا تو ہم اس کی فنی خصوصیتوں کی بات کریں، یا پھر اس میں بیان کردہ یا اس میں مضمرتصورات حیات و کائنات کے بارے میں بات کریں۔پہلی طرح کی باتیں کچھ اس طرح کے اقوال پر مشتمل ہوں گی کہ افسانہ نگار نے اپنے مرکزی کردار ہولی کے دکھ، اس کے شوہر اور ساس کے ظلم اورہولی کے مائکے کی خوشگواری کا بیان نہایت پر قوت انداز میں کیا ہے۔ کم سے کم الفاظ میں ہولی کے دکھ درد کی تصویر ہمارے سامنے کھینچ دی گئی ہے۔افسانے کی زبان استعارے کی قوت سے مملو ہے اور ہولی کی صورت حال کو دیومالائی تمثیل کے ذریعہ اور بھی زیادہ موثر بنادیا گیا ہے۔افسانہ جب ختم ہوتا ہے تو ہمارا دل کچھ عجب طرح کے مانوس لیکن کچھ افسانوی سے درد اورخوف سے بھر جاتا ہے جس کی مثال اردو فکشن میں نہیں ملتی۔ساتھ ساتھ ہم یہ بھی کہیں گے کہ افسانے کے ڈھانچے میں ایک بنیادی سقم یہ ہے کہ ہولی کو بالکل انفعالی (Passive)اور بے اثر  (Ineffectual)، بلکہ ایک حد تک بے عقل دکھایا گیا ہے لیکن اس کی کچھ وجہ نہیں بیان کی گئی نہ اس کے لئے کوئی بنیاد قائم کی گئی۔ہولی کے کئے کچھ بھی نہیں ہوتا، وہ ہر مرد کے ہاتھ میں موم کی ناک جیسی ہے۔افسانہ نگار نے اس بات کی کوئی وثوق انگیزوجہ نہیں بتائی کہ ہولی کیوں اپنے گاؤں والے کی بات مان کر اسٹیمر  چھوڑ دیتی ہے اور کیوں اس کے ساتھ جا کر سرائے میں رات کی رات آرام کرنے چلی جاتی ہے۔ اس کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ رات بھر سرائے میں، یا کہیں بھی ٹھہرجانے سے اس بات کا امکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اس کے سسرال والے اسے ڈھونڈ نکالیں اور پکڑ کر سسرال واپس لے جائیں۔

            افسانے کے پلاٹ میں یہ خرابی دو حال سے خالی نہیں ہو سکتی۔ یا تو بیدی کی فنی گرفت ناکام ہے، یا پھر بیدی شاید یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کی مظلومیت ثابت کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انھیں سادہ لوح، ارادہ اور قوت عمل و فیصلہ سے بالکل عاری ظاہرکیا جائے۔ دوسرے حال میں ناکامی افسانے کی نہیں بلکہ افسانہ نگار کی ثابت ہوتی ہے کہ صنفی آویزش (Gender Conflict) کے بارے میں اس کے خیالات غیر ترقی یافتہ اور رجعت پسند ہیں۔

            یہاں پہنچ کر ہماری تعبیر آپ سے آپ علمیاتی تنقید کی دنیا میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہاں وہ سب باتیں تھوڑے بہت رد و بدل کے بعد ”گرہن“ کے بارے میں کہی جا سکتی ہیں جو ہم نے گذشتہ صفحات میں ”بڑے گھر کی بیٹی“ کے بارے میں کہی تھیں، بشرطیکہ ہم ان تصورات اور نظریات کے حامل ہوں جن کی بنا پر ہم نے ”بڑے گھر کی بیٹی“ کے بارے میں مذکورہ بالا اظہار خیال کیا تھا۔

            ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ادبی/وجودیاتی اور فلسفیانہ/علمیاتی بیانات میں سے کسی کو کسی پر بدیہی فوقیت حاصل نہیں، الا یہ کہ ہم یہ کہیں کہ ہم تو ادب کی صرف ادبی، فنی، وجودیاتی تعبیر ہی کو درست مانتے ہیں، باقی سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔یا پھر ہم یہ کہیں کہ فلسفیانہ /علمیاتی تعبیریں ہمیں فن پارے کے بارے میں کچھ بتاتی تو ہیں، لیکن فن پارے کی تعئین قدر کے باب میں وہ بالکل خاموش یا ناکام رہتی ہیں، لہٰذا ہم ایسی تمام تعبیروں سے قطع نظر کریں گے۔ مشکل یہ ہے کہ ایسا کیا جائے تو بیانیہ کے تحریری فن پاروں کے بارے گفتگو نہایت غیر دلچسپ ہو جائے گی۔ ہم پہلے دیکھ ہی چکے ہیں کہ بیانیہ کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ ہمیں کسی ایک فریق کو اپنا سمجھنے اورخود کو اس کے جنبہ دار کی حیثیت میں قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔بیانیہ کا قاری غیر جانب دار نہیں ہو سکتا۔ہم یا تو ہولی کے جانبدار ہوں گے یا اس کے شوہر اور ساس کے، یا اس نظام کے جس میں عورت پر ظلم ہوتا ہے۔ مشکل صرف وہاں پیش آتی ہے جہاں ہم فلسفیانہ علمیاتی بیان کو ادبی بیان کا بدل سمجھ لیتے ہیں۔

            ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی قرأت ایسی ممکن ہے جو قاری کے تعصبات سے بالکل آزاد ہو۔ ہم اپنی قرأت کے نتائج بیان کرنے کے لئے کون سا طریق کار استعمال کریں، یا ہمارا عمل قرأت کس نظریے کی روشنی میں عمل میں لایا جائے، یہ خود ہی تعصباتی کارروائی ہے، کیونکہ ایک طریق کار یا ایک نظریے کو قبول کرنا دوسرے طریقوں یانظریوں کو  رد کرنے کا حکم رکھتا ہے۔ بنیادی بات صرف یہ ہے کہ جو بھی طریق کار اپنایاجائے ہمیں اس کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کے حدود کا بھی پورا پورا علم ہو اور ادب کوفلسفہ کا بدل نہ سمجھ لیا جائے۔

الٰہ آباد، اکتوبر-نومبر ۲۰۰۶