فیصلہ

یہ تحریر 891 مرتبہ دیکھی گئی

”سب سے پہلے منھ لال کرنے والی سپاری کھاوں گی۔“

”پھر؟“

”پھر،کھٹے میٹھے آلو چنے۔“

”اس کے بعد؟“

”اس کے بعد، اس کے بعد۔۔ ہاں۔ برف والا گولا۔“

”رمضان بابا کے ٹھیلے سے نا؟“

”نہیں۔ کہیں اور سے۔“

”لیکن ننھی تمہیں تو بس رمضان بابا کے ٹھیلے ہی کا گولا پسند آتا ہے۔“

”پسندآتا ہے، مگر۔۔ مجھے اس طرف نہیں جانا۔مجھے رام گڑھ اچھا نہیں لگتا۔“

”رام گڑھ اچھا نہیں لگتا؟ ادھر تو نانی ماں رہتی ہے۔ اوراب میں بھی تو وہیں رہتا ہوں۔پھر تمہیں کیوں اچھا نہیں لگتا؟“

”کیوں کہ وہاں مما رہتی ہے۔“

”تو؟“

”مجھے مما اچھی نہیں لگتی۔“

”مما اچھی نہیں لگ۔۔اچھا۔۔چھوڑو۔ یہ بتاو اور کیا کیا کھاو گی؟“

”کچھ نہیں۔“

”لگتا ہے میری ننھی کا موڈ خراب ہوگیا۔“

”ہاں۔“

”تو یہ بات! ابھی موڈ ٹھیک کرتا ہوں: نون سے نلکا، نون سے ننھی، نون سے چڑیا۔“

”رونگ! نون سے نہیں، چ سے چڑیا بنتی ہے۔ آپ بدھو ہو۔“

”ننھی ہنس پڑی!بھئی بدھو ہوں تو ہوں۔ ننھی کو ناراض ہوکر چپ نہیں ہونا چاہیے۔ اوکے؟“

”اوکے۔“ 

                وہ دونوں سائیکل پر سوار تھے۔ لڑکا،جو سائیکل چلا رہا تھا قد کاٹھ سے تیرہ، چودہ برس کا، جب کہ لڑکی عمر میں اس سے آدھی معلوم دیتی تھی۔دونوں سکول کی وردیوں میں تھے اور بہت خوش تھے۔اس وقت وہ ریلوے کیرج شاپ والی اندرونی سڑک پر تھے اوران کا رخ مغل پورہ چوک کی جانب تھا۔جہاں سے دائیں ہاتھ دو کلومیٹرکی دوری پر صدر بازار میں ان کے باپ کا، جب کہ بائیں ہاتھ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رام گڑھ کے امرتسری محلے میں ان کی ماں کا گھر تھا۔ دوپہر کے ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔ اپریل کی دھوپ میں چبھن آچکی تھی۔ سائیکل چلاتے چلاتے لڑکے کا ترو تازہ سفید چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ اس کے ماتھے پر اور آنکھوں تلے جمی پسینے کی چھوٹی چھوٹی بوندیں دھوپ میں چمک رہی تھیں۔ سائیکل کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر پیڈل مارنے میں قوت لگانے کی وجہ سے لڑکے کی سانسیں پھولی جاتی تھیں۔ایک اورالجھن بھی تھی؛سائیکل کے اگلے ڈنڈے پر لگی چھوٹی سی تکونی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کی کھجورکے پیڑ سی چٹیا!وقفے وقفے سے تیل اور دھوپ سے چمکتی کالے بالوں والی چٹیا لڑکے کی تھوڑی سے مس ہوتی اور ہلکی گدگدی کے ساتھ کھجلی کا احساس پیدا کرتی۔ وہ ایک لمحے کے لیے جھنجھلاجاتا مگر ساتھ ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی۔میٹھی اور دھیمی مسکراہٹ۔ وہ بہن سے بہت پیار کرتا تھا۔

                 پیار! ورنہ اسکول سے چھٹی کے بعد سیدھے ماں کے گھر جاکر آزادی سے کچھ بھی کرنے کے بجاے وہ بہن کو اس کے سکول سے باپ کے یہاں چھوڑنے کی تکلیف کیوں گوارا کرتا۔ننھی کو اسکول چھوڑنا اور اسکول سے لانا اس کے ذمے تھا بھی نہیں۔ باپ نے ننھی کے لیے رکشے کا انتظام کررکھا تھا۔رکشے والا آج بھی آیا تھا مگر لڑکے نے اسے پچاس روپے رشوت دے کر چلتا کیا۔اس نے سوچا تھا کہ بہن کو باپ کے گھر چھوڑنے کے بہانے اس سے وہ ضرور ی بات کر لے گا جو کئی دن سے رہے جاتی تھی۔

”بھائی، روکو یہاں روکو، روکو!“

لڑکے نے دونوں ہاتھوں سے بریک لگائے اور ایک پیر زمین پر ٹکا کر، سائیکل کو مضبوطی سے تھامے کھڑا ہوگیا۔

”وہ دیکھو، بھائی۔“

                دائیں جانب، گریفن گراونڈ کو مڑتی سڑک کے کنارے دس بارہ بچوں اور بڑوں کے ہجوم میں رنگ برنگی جھالروں، گھنگھرووں اور اُونی پھولوں سے سجا اونٹ زمین پر بیٹھا تھا۔ ایک ادھیڑ شخص، جو یقیناََ اونٹ کا مالک تھا،بچوں کو ایک ایک کرکے اونٹ کے کوہان کے آگے پیچھے بٹھا تا جاتا۔سوار ہوتے بچے جوش اور خوف سے بھری چیخیں بلند کرتے۔پاس کھڑے والدین احتیاط اورخوشی میں ملے جلے جذبات کے ساتھ بچوں کو سوار ہوتا دیکھتے جاتے اور تسلی بھری نصیحتیں دہراتے جاتے۔کچھ ہی دیر میں پورے چار سوار اپنی اپنی جگہ درست طریقے پر جم چکے تو اونٹ والے نے جانور کی نکیل تھام کر منھ سے کچھ مخصوص آوازیں نکالیں جنھیں جانور نے فوری سمجھ کرپہلے اگلی، پھر پچھلی ٹانگیں زمین سے اوپر اٹھائیں اور سواروں کو بھاری ہچکولا دے کر کھڑا ہوگیا۔ پاس کھڑے بچوں نے  ”اِی اُوو آآ“  کاشوربلند کیا۔ اونٹ مٹک مٹک کر چلنے لگا۔اب اونٹ آگے آگے تھا اور بچوں، بڑوں کا پرجوش ہجوم پیچھے پیچھے۔

                سائیکل پر بیٹھی ننھی بھی تصور میں خود کو اونٹ پر سوار کیے ہوے تھی۔ جبھی وہ ہنستی ہنستی جھوم رہی تھی۔اس نے دونوں ہاتھوں کوسائیکل کے ہینڈل پر سے ہٹا لیا تھا اور دائیں ہاتھ کو بھائی کے کندھے پر رکھ کر بائیں ہاتھ کوزور زور سے ہوا میں لہرارہی تھی۔

                اونٹ چھوٹے چھو ٹے تین پھیرے پورے کرکے واپس اپنی جگہ پر آن بیٹھا تو والدین اپنے اپنے بچے اٹھانے کو جانور کی اورلپکے۔ایک بچی نے دوسری باری لینے پر ضد کی تو ماں نے اسے ڈپٹتے ہوے اتار لیا۔ بچی رونے لگی۔ بچی کو روتا دیکھ کر ننھی کو اپنی مما کی سختی یاد آگئی۔پار سال ان کے اسکول میں لگے سالانہ میلے میں والدین اور بچے سکول کے میدان میں جمع تھے۔ مختلف کھانوں، کھیلوں اور جھولوں کے ساتھ ساتھ اسکول انتظامیہ نے باہر سے ایک اونٹ والے کو بھی بلوارکھا تھا۔سیکڑوں بچوں کے لیے صرف ایک اونٹ دستیاب ہونے کے سبب سب کو لمبے انتظار کے بعد اونٹ کا جھولا نصیب ہورہا تھا۔ ننھی کی خواہش پر مما کو گھنٹہ بھر انتظارکرنا پڑا۔ مگر جب باری آئی تو مما کو ہسپتال سے فون آگیا۔پاپا نے لاکھ کہا کہ مما رکشہ لے کر اپنے کام پر چلی جائیں اور وہ ننھی کو جھولا دلواکر مما کی گاڑی پرواپس گھر لیتے آئیں گے۔مگر مما نہ مانیں۔ عین اس وقت جب اونٹ والا ننھی کو اونٹ پر سوار کررہا تھا، مما نے ننھی کو کھینچ کھانچ کر اتارلیا اور میلے سے نکل آئیں۔

                اس دن، سارا دن ننھی روتی رہی۔ رات دیر تک مما،پاپاایک دوسرے پر چنگھاڑتے رہے، لڑتے رہے۔تب ننھی نے پہلی بار مما کے منھ پر کہا کہ مما تم بہت بری ہو۔

”ننھی، اے ننھی۔ کہاں کھوگئی چڑیا۔ بیٹھو گی اونٹ پر؟“

                بھائی کی پیش کش پر ننھی کھلکھلا اٹھی۔اس نے دو بار اونٹ پر سواری کی۔ دونوں بار ہاتھ ہلا ہلا کر، شور مچامچا کرجوشیلی خوشی اور آزادی کا اظہار کیا۔بھائی بہن کو اچھلتے کودتے دیکھتا رہا، خوش ہوتا رہا۔

                پھر وہ سائیکل پر سوار ہوکر چلنے لگے۔ لڑکا بہت  ہولے ہولے، وقفے وقفے سے پیدل ماررہا تھا۔جیسے اسے کوئی جلدی نہ ہو۔ یا تواس نے بھانپ لیا تھا کہ بہن کو ابھی کچھ اور تفریح کی ضرورت ہے یا پھر اس کی پیروں کی غیر شعور ی حرکت تھی جو سائیکل کے پہیوں کو کسی غیر متعین سمت کی جانب رواں رکھ رہی تھی۔سائیکل چل رہا تھا اور دونوں کی آنکھیں سامنے حرکت کرتی زندگی کے منظر پر تھیں۔

                ریلوے پارک کے قریب سے گزرتے ہوے ننھی کی نظر گیٹ کے اندر ایک جانب کھڑی آلو چنے والی ریڑھی پر پڑی۔ننھی کو بھوک محسوس ہوئی۔ سائیکل کو پارک کے جنگلے کے ساتھ ٹکا کردونوں پیڑ کی چھاوں میں بچھی پتھر کی بینچ پر بیٹھ گئے۔ننھی پلیٹ پکڑتے ہی آلو چنوں پر پل پڑی۔ وہ تندی سے پرشوق ہوکر کھاتی رہی اور بھائی، جسے املی اور ٹاٹری ملے پانی میں ڈوبے ہوے کالے چنے اور آلو کبھی پسند نہ آے تھے، بہن کا دل رکھنے کے لیے پلاسٹک کے چمچے سے دانہ دانہ چگتا رہا۔

کھانے سے فارغ ہوکر اٹھتے ہی ننھی پارک کے فوارے کے گرد جمع ہوے کوّوں کو گننے لگی۔

”ایک، دو، تین۔۔۔انیس، بیس، اکیس۔۔اکتیس۔ پورے اکتیس۔ نہیں بتیس۔ ایک اور آگیا۔ تینتیس۔ بھائی؟“

”ہاں، ننھی۔“

”کیا تم نے پہلے کبھی اتنے سارے کوّوں ایک جگہ اکٹھے ہوتے دیکھا ہے؟“

”آآ۔۔یاد نہیں۔ شاید دیکھا ہو۔“

”نہیں دیکھا ہوگا۔“

”اتنے کوے نہ ہمارے سکول کے گراونڈمیں آتے ہیں او ر نہ ہمارے گھر کی چھت پر۔او ر مما والا گھر تو بہت بند بند سا ہے۔بند گھروں میں کوّے نہیں آتے۔“

”ایسا نہیں ہے، ننھی۔مما کے گھر کی چھت پر بہت سارے کوے آتے ہیں۔ اور ایک دن تو تین طوطے بھی آگئے تھے۔“

”گانی والے؟“

”ہاں۔“

”باتیں کرنے والے نہیں ہوں گے!“

” دِکھتے تو وہ باتیں کرنے والے ہی تھے۔“ لڑکے نے بات کرتے ہوے آنکھیں لڑکی کی آنکھوں سے ہٹا لیں۔ مبادا اس کا جھوٹ پکڑ اجاے۔

”توبھائی تم نے  انھیں پکڑ کر پنجرے میں کیوں نہ ڈالا؟ پتا تھا نا کہ مجھے گانی والے طوطے بہت پسند ہیں۔“

”طوطا پکڑنا ایک جنے کا کام تھوڑی ہے بھلا۔تم ساتھ ہوتیں تو پکڑ ہی لیتا۔“

”میں ہوتی تو یوں بھاگ کر اسے زور سے پکڑ کے پنجرے میں قید کرلیتی!“

ننھی نے ہاتھوں کے پنجوں کو کس کر بھائی پر جھپٹتے ہوے بتایا۔ بھائی کو ننھی کی معصومیت پر بہت پیار آیا۔ اس نے سوچاکہ بہن سے ضروری بات کرنے کا یہی وقت ہے۔بولا: ”ننھی۔ تمہیں واقعی گانی والا طوطا پکڑنا ہے؟ “

”ہاں۔ باتیں کرنے والا بھی۔“

”فاختہ بھی؟“

”ہاں۔ سفید رنگ کی۔“

          ”ایسا ہے تو پھر میری بات غور سے سنو۔۔“، اس نے پارک کی سبز گھا س پر گھٹنے ٹیک کردونوں ہاتھوں سے بہن کے بازووں کو تھام لیا۔”اس جمعے کو مما پاپا اور نانی  لوگ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ ہم دونوں نے مما،پاپا میں سے کس کے پاس رہنا ہے۔ یعنی ہمیں دونوں میں سے کسی ایک کو چننا ہے۔کسی ایک کو۔ مما کو یا پاپا کو۔اور تمہیں معلوم ہے نا کہ پاپا نوکری کی وجہ سے دوسرے شہر جارہے ہیں؟اگر میں نے تمہاری خاطر پاپا کو چنا تو ہمیں بہت دور جاکر رہنا ہوگا۔ وہاں ہمارا دل نہیں لگے گا، ننھی۔پھر پاپا کے پاس گاڑی چھوڑموٹرسائیکل بھی نہیں۔جبھی تو تمہیں رکشے پہ اسکول آنا جانا پڑتا ہے۔اورچھوٹی پھوپھو بھی تو اچھی نہیں ہیں۔وہ تو بات بھی نہیں کرتیں تم سے۔ تمہی نے بتایا تھا۔تو یہ سب ہے۔ اب تم بتاو، ہم دونوں کو کس کے ساتھ رہنا چاہیے؟مما کے ساتھ ہی نا؟“

”مجھے پیاس لگی ہے۔“

          لڑکے کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی ساری تفصیل، ساری وضاحت سرے سے بے کار گئی ہو۔ وہ اداس اداس نظروں سے بہن کو دیکھتا ہوا گھاس پر سے اٹھا اور اس کا ہاتھ تھامے گیٹ کی جانب چلنے لگا۔اس نے آلو چنے والے سے پانی مانگا مگر جب اس نے گندے مندے کولر سے پلاسٹک کے میلے چکٹ گلاس میں پانی ڈال کر آگے بڑھایا تو لڑکے نے ایک نظر بہن کودیکھا اور ”چلیں رہنے دیں، شکریہ“ بول کر سائیکل کی اور بڑھ گیا۔

          مغل پورہ چوک پر پہنچ کر اس نے سائیکل روکا اور پوچھا:”مرنڈا پییں؟“

”ہاں۔ جلدی۔ بہت پیاس لگی ہے۔“

          وہ سڑک پار کرکے نہر سے بائیں ہاتھ مڑے اور سوئیکارنو بازار میں داخل ہوگئے۔ یہ لاہور کاپرانا بازار تھا جو صبح سے رات گئے تک کھچا کھچ بھرا رہتا۔ آس پاس بڑے بڑے شاپنگ پلازے بن جانے کے باعث یہاں دن کے کسی بھی پہر رش کم  نہ ہوتا۔اسی بازار کے آخری سرے پر موجود چھوٹے سے سرکاری ہسپتال میں ان کی ماں بطور ہیڈ نرس کام کرتی تھی۔ وہ دونوں مما کے ساتھ کئی بار اس بازا ر میں آچکے تھے۔البتہ جب سے ان کے والدین میں علاحدگی ہوئی،ننھی کا بازار کا پھیرا نہیں لگا تھا۔ آج کئی مہینوں بعد بازار کی رونق کا حصہ بننے پر وہ خوشی سے سرشار ہوگئی۔ اس بات سے قطعی بے خبر ہوکر کہ وہ مما نہیں بھائی کے ہمراہ ہے،وہ سائیکل کے آگے آگے چلتی سپر مارٹ میں داخل ہوگئی۔

          جس وقت وہ بازار کے چوڑے فٹ پاتھ پر کھڑے ہوکر مرنڈا پی رہے تھے ان کے دماغ پوری طرح ہلکے اور تازہ تھے۔ننھی نے آدھی بوتل پی کر دو ڈکاریں لیں اور آنکھیں اپنے سامنے دریا کی طرح پھیلے مجمعے پر گاڑ دیں۔پاس کھڑ ا بھائی ننھی کے دیکھنے کو دیکھنے لگ گیا:

          مرد اور عورت اپنے دو بچوں کے ہمراہ ٹہل رہے تھے۔ بچے ان کے آگے آگے جمپیں لگاتے، چہلیں کرتے بھاگتے جاتے۔ بھاگتے بھاگتے وہ ماں باپ سے دس دس بارہ قدم آگے نکل جاتے،پھرمڑ کر پیچھے دیکھتے، لوٹ آتے۔ جہاں جی کرتا کھڑے ہوکر دکانوں کے اندر جھانکنے لگتے۔ کھڑکیوں کو چھوتے، کھڑکیوں کے اندر پڑی چیزوں کی جانب اشارے کرتے۔ کھلکھلا کر ہنس دیتے۔ماں باپ، روکے ٹوکے بنا بس انھیں دیکھتے جاتے۔ 

”مما مجھے یوں مرضی کرنے نہیں دیتی۔کبھی نہیں۔“

ننھی اپنی ٹکٹکی توڑے بنا بولی تو اس کے یوں اچانک بولنے پر لڑکاچونک گیا۔وہ چپ رہا۔ پھر کچھ دیر ننھی کے دیکھے ہوے منظر کا جائزہ لے کر بولا:

”پاپا مرضی کرنے دیتے ہیں؟“

وہ  پل بھرکو سوچتی رہی پھر بولی،”نہیں۔مرضی تو وہ بھی نہیں کرنے دیتے۔“

”تو؟“

”کچھ نہیں۔“ ننھی اداس ہوکر بوتل پینے لگی۔اب وہ کوئی اور منظر دیکھ رہی تھی۔

”مما بہت بدل گئی ہیں، ننھی۔وہ پہلے کی طرح سخت اور غصے والی نہیں رہیں۔ اب وہ بس دن کی شفٹ میں کام کرنے جاتی ہیں۔“

وہ نہ بولی۔

”اب تو وہ ہر بات چپ چاپ مان لیتی ہیں۔میں نے کہا کہ اس بار نویں کلا س میں جاتے ہی سائیکل لوں گا۔ادھر آٹھویں کا رزلٹ آیا، ادھر سائیکل میرے ہاتھ میں۔“

ننھی بولے بنا سامنے دیکھتی رہی۔

”اور پتا ہے مما نے گھر میں باغچہ بھی بنوایا ہے۔ اس میں تمہارے قد کے برابر نیبووں کے پودے ہیں جن پر کتنے سارے نیبو لگے ہیں۔“، اب کے اس نے بہن کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔جانتا تھا کہ ننھی کو پھلوں سے لدے پیڑ پودے بہت بھاتے ہیں۔ حتی کہ تصویروں میں بھی۔

”مجھے نہیں آنا وہاں“، وہ دوٹوک بولی۔

”تم نہ آومگر مما کا گھر  ہے بہت خاص۔ پاپا کا گھر مما کے گھر جیسا ہوہی نہیں سکتا۔وہاں تم زیادہ مزہ کرہی نہیں سکتیں۔“

 لڑکے کے لہجے میں اب گہری اداسی آگئی۔

”کیوں نہیں کرسکتی؟“

”کیوں کہ وہاں میں جونہیں ہوں۔“

          یہ کہتے لڑکے کی آنکھیں آنسوووں سے بھر گئیں۔اس نے دکھ بھر ا تھوک نگلا اور سائیکل پکڑ کر بازار کے باہر کے رخ چلنے لگا۔ لڑکی پیچھے پییچھے تھی۔چوک پر پہنچ کردونوں نے سوڈا ایک ساتھ ختم کیا،خالی بوتلیں کوڑے دان میں گرائیں اور سائیکل پر سوار ہوگئے۔ لڑکا دکھی دل کے ساتھ زور زور سے پیڈل مارنے لگا۔اس نے بائیں ہینڈل سے ہاتھ اوپر اٹھاکر کلائی گھڑی سے وقت دیکھا۔سکول سے چھٹی کو پچیس منٹ گزرچکے تھے۔ ننھی کو گھر چھوڑنے میں اتنا ہی وقت رکشے کو لگتا۔ اس نے  سائیکل کو صدر کینٹ کے رخ موڑ دیا۔

          ٹھیک سات منٹوں میں وہ پاپا کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔ خاموش او راداس۔لڑکے نے ہینڈ ل سے بستہ اتارا، بستے کی باہری جیب میں اُڑسا پانی کا خالی فلاس درست کیا اور بستہ ننھی کے بازووں پر جیکٹ کی طرح چڑھا دیا۔ننھی ”خدا حافظ“ کہہ کر آگے بڑھنے کے بجاے چپ چاپ کھڑی بھائی کو دیکھا کی۔پھر بولی:

”ایک چیز توہم بھول ہی گئے۔“

”وہ کیا؟“

”برف کا گولا۔“

”اوہ،گولا!   چلو، کسی اوردن سہی۔اب تم جاو۔“

          ننھی ہاتھ کے اشارے سے ’بائے‘بول کر گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔بھائی بہن کو جاتے دیکھتا رہا۔ وہ دروازے کے پاس پہنچی، مڑ کر دیکھا اورواپس لوٹ آئی۔

”بھائی، میں نے فیصلہ کرلیا!“

بھائی کی آنکھوں میں خوشی کی چمک آگئی۔اس نے سائیکل پر بیٹھے بیٹھے جسم کو ننھی کی جانب حرکت دی۔

”کیا فیصلہ،ننھی؟“

”بمجھے مما کے ساتھ رہنا ہے نا پاپا کے ساتھ۔مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ او رمجھے آج ہی کھانا ہے برف کا گولا۔ رمضان بابا کے ٹھیلے سے۔“یہ کہہ کر ننھی بھائی کی جانب پشت کر کے کھڑی ہوگئی اور اپنے بازووں کو پیچھے کی طرف موڑ دیا۔

بھائی نے کچھ دیر توقف کیا، مسکرایا اور بستہ اتارکر ہینڈ ل میں پرودیا۔

پھراس نے بہن کو اٹھاکر سیٹ پر بٹھا یا اور سائیکل چلادیا۔