غمِ جاناں غمِ دوراں

یہ تحریر 110 مرتبہ دیکھی گئی

یہ فیصلہ کرنے میں تھوڑا سا تذبذب ہوا ہے کہ حمرا خلیق کو بہتر افسانہ نگار سمجھا جائے یا بہتر خاکہ نگار۔ دونوں اصناف میں ان کا قلم یکساں طور پر رواں ہے۔ شاید بطور افسانہ نگار ان کی شہرت کو دوام حاصل ہو جائے۔ خاکہ نگاری میں بالخصوص اگر اس کا سروکار اپنے قریب ترین لوگوں سے ہو، بعض تحدیدات سے مفکر ممکن نہیں۔ بہت سی باتیں اتنی نجی ہوتی ہیں کہ ان میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے بے رحمی درکار ہوتی ہے یا بے تعلقی۔ افسانہ نگاری میں کہیں زیادہ آزادی میسر آ جاتی ہے اور ہر بات کو “حدیث دیگراں” قرار دے کر بے کم و کاست یا بے تکلفی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

حمرا خلیق کی زندگی عجیب طرح سے گزری۔ جب پیدا ہوئیں تو والدہ سخت بیمار تھیں۔ سوال پیدا ہوا کہ نوزائیدہ بچی کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ آخر ان کی خالہ نے، جن کی اولاد نہ تھی، انھیں گود لے لیا۔ ایک مدت تک حمرا کو پتا ہی نہ چلا کہ ان کے والدین اصل میں کون ہیں۔ حمرا کا بچپن ناز و نعم میں گزرا۔ خالو مسلم لیگ کے سرگرم کا رکن تھے۔ تقسیم کے بعد انھیں مجبوراً ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ یہاں سے حمرا کی دربدری اور تنگ دستی کا آغاز ہوا۔ لیاقت علی خاں سے خالو کے اچھے مراسم تھے لیکن پاکستان آئے تو لیاقت علی خاں نے ان سے اعتنا نہ کیا۔ نظر انداز کیے جانے پر ان کا دل غصے سے بھر گیا۔ اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ خالو لائلپور میں نیشنل بینک میں ملازم تھے۔ 16 اکتوبر 1951ء کی شام کو گھر آئے تو بیزار اور دل برداشتہ تھے طیش میں آ کر بولے “میرا دل چارہ رہا ہے کہ لیاقت علی خان کو گولی مار دوں۔”  ادھر انھوں نے یہ کہا اور ادھر زرا دیر بعد ریڈیو پر خبر نشر ہوئی کہ لیاقت علی خان کو گولی مار کر شہید کردیا گیا ہے. یہ خبر سن کر وہ دیر تک روتے رہے. بقول حمرا “لیاقت علی خان نے گو نہ جانے کس کے ہاتھوں جام شہادت پیا لیکن ابی تا حیات خود کو گناہ گار سمجھتے رہے اور شاید کبھی انہوں نے  خود کو معاف نہیں کیا۔” زندگیوں میں ایسے عجیب واقعات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ انسان کا کہا جب غیر متوقع طور پر پورا ہو جاتا ہے تو وہ دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ قبولیت کی اس گھڑی میں کاش اس نے کچھ اور کہا ہوتا۔

“گوشہء دل” میں ایک مختصر خاکہ اپنے شوہر خلیق ابراہیم خلیق پر ہے اور دو خاکوں میں اپنے بیٹوں حارث اور طارق کا ذکر ہے۔  حسینہ معین اور مبین مرزا پر بھی لکھا ہے۔ ڈاکٹر اقتدار توفیق اور اسلم خواجہ کا تذکرہ بھی ہے۔ اسلم خواجہ کو ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ کا نام دیا ہے کہ اس کی ذات میں بے  باکی اور برہنہ گوئی اور محبت اور دل نوازی یکجا ہو گئی ہے۔ سب سے اچھا خاکہ حاجرہ خاتون کا ہے۔ یہ غریب لوگ ہی ہوتے  ہیں جن سے اگر محبت اور برابری کا سلوک کیا جائے تو بالعموم احسان فراموشی کا ثبوت نہیں دیتے۔ حاجرہ خاتون شاہجہاں پور کی رہنے والی تھیں۔ وہاں ان کے خاندان کے مرد زیادہ تر خانساماں تھے اور خواتین دائیوں کا کام کرتی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اور ان کے عزیز و اقارب خوش حال نہ تھے۔ شاید یہی سوچ کر پاکستان چلے آئے کہ وہاں ان کی قسمت سدھر جائے گی۔ حاجرہ خاتون نے ایک دن غصے میں آ کر کہا: “ہم سب مسلمانوں کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ یہ ملک ہمیں پناہ، آزادی اور آرام دینے کے بجائے جہنم بن گیا ہے۔۔۔۔ سب کہتے ہیں کہ وہاں ہم پر ہندو ظلم کر رہے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو الگ وطن ملنا چاہیے لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ ہم ہندوؤں کے ملک میں زیادہ سکون سے رہ رہے تھے۔ مسلمانوں کے اس ملک میں آ کر ہم نے کیا پایا۔ نہ عزت نہ ملازمت نہ سر چھپانے کے لیے ڈھنگ کی چھت۔ در در کی ٹھوکریں کھانے کے سوا کیا ملا۔” یہی پاکستان کا المیہ ہے۔ یہاں غریبوں کو نہ عزت ملتی ہے نہ انصاف۔ جو ہندوستان چھوڑ کر آئے یا یہیں کے مقامی تھے غریب کے غریب ہی رہے۔ ستر سال سے زیادہ گزر گئے لیکن پاکستان میں جو پچھڑے ہوئے لوگ ہیں وہ اسی طرح عزت، انصاف، صحت اور تعلیم سے محروم ہیں جیسے 1947ء سے پہلے تھے۔ عین ممکن ہے  کہ محرومی کا یہ احساس اب زیادہ قوی ہو گیا ہو۔

حمرا خلیق کی نثر صاف ستھری ہے۔ اگر وہ ناول اور افسانے لکھیں تو قارئین کو خوشی کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ یہ مشورہ دینا آسان ہے۔ فکشن لکھنے کے لیے جس طرح جان کھپانی پڑتی ہے وہ بڑی آزمائش ہے۔ اپنے آپ سے، دوسروں سے اور گرد و پیش سے ایک گہری سطح پر تعلق قائم کرنے میں چوری چھپے بڑا ہنگامہ اور خون خرابا ہوتا ہے۔ ذات آشوب کے یہ مرحلے بڑے جاں گسل ہیں۔

گوشہء دل از حمرا خلیق

ناشر: اکادمی بازیافت، کراچی

صفحات: 109؛ تین سو روپیے