غزل

یہ تحریر 104 مرتبہ دیکھی گئی

O

سبزہ، کنارِ آبِ رواں، تازگی، درخت
ہر گام، بانٹتے ہوے خوشبو نئی، درخت

وہ سِحر تھا کہ آنکھ جھپکنا محال تھا
حیراں، زمیں میں گڑ کے ہوے، آدمی، درخت

دل میں اُتر گئی سرِراہے کوئی شبیہہ
اک بیج ہے ابھی، کہ بنے گا کبھی درخت

اب آنکھ بند کرکے اُسے دیکھتا ہوں میں
کس کو خبر کہ یاں بھی کبھی تھا کوئی درخت
پھیلی ہے دل پہ اُس کی گھنی چھاؤں دور دور
اک یاد ہے کہ تھی ابھی کونپل، ابھی درخت

ہم کیا کریں کہ دوست ہمارے نہیں رہے
دنیا کی تیز دھوپ میں ہے دوستی درخت

یہ کٹ گئے تو کوئی نہیں لے سکے گا سانس
روئے زمین پہ ہیں علم زِندگی درخت