غزل

یہ تحریر 74 مرتبہ دیکھی گئی

O

جم کر شفق پہ ابرِ بے تاب سو گیا ہے
یا رنگ میں ٹھہر کر سیماب سو گیا ہے

میں آنکھ بند کر کے اُس کو جگا رہا ہوں
میرے کنارِ دل میں جو خواب سو گیا ہے

اک سمت عیشِ ساحل، اک سمت قعرِ دریا
حیرت میں ہے سفینہ، گرداب سو گیا ہے

دُنیا ہے اِس سے آگے، بے صوت نغمگی کی
مدّھم سُروں پہ آ کر، مضراب سو گیا ہے


آ اِس گھڑی جہاں سے باہر نکل چلیں ہم
گردش تھمی ہوئی ہے، دُولاب سو گیا ہے