غزل

یہ تحریر 669 مرتبہ دیکھی گئی

برف کے پگھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
دھوپ کے نکلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
فاصلہ ہی کتنا ہے تیرے اور میرے بیچ
دل سے دل کے ملنے میں کتنی دیر لگتی ہے
ہجرتوں کے موسم میں درد کے شگوفوں کو
پھول بن کے کھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
زلزلے کی شدت سے دھرتی کانپ جاۓ تو
پربتوں کے ہلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
زندگی ہماری بھی باٹ برف کے جیسے
اور یہ پگھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے