غزل

یہ تحریر 152 مرتبہ دیکھی گئی

O

بس اب یہی ہے کہ سب کچھ جلا کے رکھ دیا جائے
پھر اِس کے بعد یہ دفتر اُٹھا کے رکھ دیا جائے

تو کیا وہ گھر جسے ہم عُمر بھر بناتے رہے
گرا کے رکھ دیا جائے، مٹاکے رکھ دیا جائے

وہی بہت ہے قیامت جو آ چکی ہے یہاں
بس اب یہ صُور لبوں سے لگا کے رکھ دیا جائے

اگرچہ خانہئ دِل میں نہیں ہے گُنجائش
یہ غم بھی، اور کوئی غم ہٹا کے، رکھ دیا جائے

وہ آفتاب سرِ بزم آ گیا خورشید
چراغ ایک طرف کو بڑھا کے رکھ دیا جائے