غزل

یہ تحریر 302 مرتبہ دیکھی گئی

سر فروشوں نے بھی کب سر دیے اس معرکے میں
ہم نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے اس معرکے میں
ہول ایسا تھا ہوئے جاتے تھے پِتّے پانی
شیرِ نر سوتے میں نر ڈر ڈر دیے اس معرکے میں
خون بہا کن کے عوض مانگتے پھرتے ہو یہاں
تم نے تو ریت میں سر کر دیے اس معرکے میں
اکثریت نے معاً پھینک دیے تھے ہتھیار
چند ہی سر پھر مر کر دیے اس معرکے میں