غزل

یہ تحریر 91 مرتبہ دیکھی گئی

O

بھیگی بھیگی ابرِ غم کی اک ردا سی دل میں ہے
آنکھ تک آتی نہیں کیوں جو گھٹا سی دل میں ہے

سونے سونے راستے ہیں بھولے بسرے خواب ہیں
جو کبھی پہلے پہل تھی وہ حیا سی دل میں ہے

دل سے نکلا ہی نہیں اُس لمحہء رخصت کا سِحر
آج تک اک جنبشِ دستِ حنا سی دل میں ہے

سوچتا ہوں ظاہر و باطن میں ہے کتنا تضاد
کیا حسیں منظر ہے اور کیسی اداسی دل میں ہے


ایک حیرت سی نگہ میں، اک نمی سی آنکھ میں
مُہر سی اک لب پہ ہے اور اک دعا سی دل میں ہے