غزل

یہ تحریر 111 مرتبہ دیکھی گئی

جوں شمع آج اس کی محفل ہے اور میں ہوں
یعنی مقابلے میں قاتل ہے اور میں ہوں
غم خوار کون اس کا دُور از دیار جو ہو
صحرائے بے کسی کی منزل ہے اور میں ہوں
تجھ کو تو کیا کہوں اب، اے چشم، دیکھ لینا
جو کچھ کیا سو اس نے، یہ دل ہے اور میں ہوں
لہریں گنوں ہوں بیٹھا، بہلاؤں کس سے جی کو
دریا ہے اور طوفاں، ساحل ہے اور میں ہوں
پاس اپنے کون، فدوی، دل ہے سو زخم خوردہ
پہلو میں میرے یہ ہی گھائل ہے اور میں ہوں