غزل

یہ تحریر 50 مرتبہ دیکھی گئی

ویرانے میں آبادی کے نقش بناۓ یادوں نے
دشت دل میں کیسے کیسے پھول کھلاۓ یادوں نے

مستقبل کی فکر میں ہم تو بھول چکے تھے خود کو بھی
بھولے ہوؤں کو خواب پرانے یاد دلاۓ یادوں نے

وہ منظر جو آنکھ سے اوجھل کسی جہان میں زندہ تھے
اندر کی رت بدلی تو پھر سامنے لاۓ یادوں نے

گرتے پتے دیکھ کے رونا ہجر زدوں کا یاد آیا
کلیاں چٹکیں تو ہونٹوں پر گیت سجاۓ یادوں نے

ہم سے لغزش ہو گئی عامر اس کی بات سمجھنے میں
اس کی بات کے کیآ کیا مطلب ہمیں سجھاۓ یادوں نے