غزل

یہ تحریر 70 مرتبہ دیکھی گئی

اب عرش سے یہ خاک نشیں دور تو نہیں
اے آسمان تجھ سے زمیں دور تو نہیں

بے کار فاصلوں کو کوئی ماپتا رہا
امریکہ ہاتھ میں ہے کہیں دور تو نہیں

میں سجدہ ریز ہوں تو اسے بھی پتا چلے
اس آستاں سے میری جبیں دور تو نہیں

تشکیک کی فضا ہے مرے دل کے آس پاس
اور جانتا ہوں راہ_یقیں دور تو نہیں

کیوں دل سے دور جا کے اسے ڈھونڈھتا پھروں
رہتا ہے آج کل وہ یہیں دور تو نہیں