غزل

یہ تحریر 241 مرتبہ دیکھی گئی

O

خاک اُڑتی ہے تو پھر لوٹ کے آتی ہے کہاں
دیکھیے اب مجھے تقدیر پھراتی ہے کہاں

سیر کی مجھ کو ہوس ہے نہ سفر کا کوئی شوق
زندگی تو مجھے کھینچے لیے جاتی ہے کہاں

محوِ حیرت ہوں پلک سے نہیں لگتی ہے پلک
اب مری آنکھ مجھے خواب دکھاتی ہے کہاں

کیوں چُراتی ہے مرے نالہ سوزاں سے شرار
جاکے اے بادِ صبا آگ لگاتی ہے کہاں