غزل

یہ تحریر 92 مرتبہ دیکھی گئی

پیچھے پڑا ہے وقت کہاں خود کو چھپا لیں
بے ساختہ دوڑیں کہ زمیں کو ہی گھما لیں

وہ چاندنی ہے گاؤں میں تیرے کہ ہنر ساز
گلیوں میں بِچھی خاک سے آئینہ بنا لیں

دل بوجھ نہ سہہ پائے گا دونوں کا اکٹھا
جی بھر کے تجھے دیکھیں کہ باتوں کا مزا لیں

مل جائے تو جو صبح کے معصوم پلوں میں
پلکوں سے تجھے چھوئیں چھو کے دل سے لگا لیں

غربت ہے بڑی چیز پہ کس نے کہا ناداں
اس مشت زمیں دل میں بھی ارمان اگا لیں

مذہب کی دکانوں پہ بکیں رنگ برنگے
ہم ہیں کہ کھڑے سوچتے ہیں کیسا خدا لیں