غزل

یہ تحریر 112 مرتبہ دیکھی گئی

O

آج پھر ذہن میں یکجا ہیں زمانے تینوں
اے زباں بول کہ لب سے کوئی نشتر نکلے

کب سے اِس خول میں پلتا ہے مرا خوفِ شکست
تو مجھے توڑ کسی دن کہ مرا ڈر نکلے

اُڑ کے جاؤں تو کہاں، لوٹ کے آؤں تو کہاں
جل گیا صحنِ گلستاں تو مرے پر نکلے

میرا باطن ہے کہ ہے آئنہئ فصلِ بہار
وہ جو باہر تھے وہی گُل مرے اندر نکلے

وہ ستارہ ہو کہ بجلی ہو کہ الہامِ سخن
اے فصیلِ شب تاریک کوئی در نکلے

روز و شب مجھ کو بلوتا ہے زمانہ خورشید
دیکھیے کب مرے اعماق کا جوہر نکلے