غزل

یہ تحریر 135 مرتبہ دیکھی گئی

پہلے ہوتا تھا ایک گھر اپنا
نام ہے اب تو دربدر اپنا

دل کی ہر بات کیجئے جس سے
کون ہے یار اس قدر اپنا

بات جیسی بھی ہے اب آئے گا
شاخ ہر لفظ پر ثمر اپنا

راہ سنسان ہو کہ ہو آباد
ساتھ رہتا ہے ایک ڈر اپنا

زندگی کوہ سخت ہے جس پر
کام آتا نہیں ہنر اپنا

چاہتا ہوں اب اس کے کوچے میں
ذکر ہو شام اور سحر اپنا

دل کے دریا میں ڈوب جانے کو
لہر اپنی ہے اور بھنور اپنا

پہلے سمجھا تھا جس کو درد دل
بن گیا اب وہ درد سر اپنا

اب وہ آنکھیں کہاں جو دیکھ سکیں
خواب تھا جن سےمعتبر اپنا