غزل

یہ تحریر 141 مرتبہ دیکھی گئی

کہاں اپنا نشاں پاۓ گی دنیا
نئی دلچسپیاں پاۓ گی دنیا

یہ جس میں ہم کسی کو ڈھونڈتے ہیں
یہی وقت رواں پاۓ گی دنیا

بس اک گل کے نہ ہونے سے چمن میں
فقط رنگ خزاں پاۓ گی دنیا

نہ کوئی بات ہوگی کرنے والی
نہ کچھ لطف بیاں پاۓ گی دنیا

نہ اس کو جو روانہ ہو چکا ہے
نہ گرد کارواں پاۓ گی دنیا

نہ کوئی خواب دیکھیں گی اب آنکھیں
نہ کوئی ترجماں پاۓ گی دنیا

بہت پرشور ہوگا دل کا دریا
خموشی کی زباں پاۓ گی دنیا

پرانی مشعلیں تو بجھ چکی ہیں
کسے شعلہ بجاں پاۓ گی دنیا