غزل

یہ تحریر 124 مرتبہ دیکھی گئی

O
نہیں ہے جب سے ترا التفات میرے لیے
شکن شکن ہے جبینِ حیات میرے لیے

ادائے شام ہو یا غمزہئ طلوعِ سحر
کہیں نہیں ہے کوئی واردات میرے لیے

کبھی کبھی تو جنوں میں ہوا ہے یوں محسوس
کہ تنگ ہے قفسِ شش جہات میرے لیے

شبِ فراق بھی تھی، تازگیئ عِشق کے ساتھ

برس ہوے کہ نہیں ہے وہ رات میرے لیے


وہ سیل ہوں کہ زمانے کو لے بہوں خورشید
ہے سدّراہ مری اپنی ذات میرے لیے