غزل

یہ تحریر 145 مرتبہ دیکھی گئی

O

حرف میں مہک نہیں آنکھ میں سخن نہیں
انجمن میں اب کہیں کیفِ انجمن نہیں

پھول صرف رنگ ہے، شاخ صرف برگ و بار
ہم چمن میں ہیں مگر دور تک چمن نہیں

ایک یاد کے سبب دل سبک سبک رہا
منزلیں گزر گئیں اور ذرا تھکن نہیں

زیست سے بھی نا مراد مرگ سے بھی نا امید
ہے عجب یہ گو مگو، دار ہے رسن نہیں