غزل

یہ تحریر 76 مرتبہ دیکھی گئی

رہوں خموش تو جاں لب پہ آئی جاتی ہے
جو کچھ کہوں تو قیامت اُٹھائی جاتی ہے

یہی رہا ہے ہمیشہ سے زندگی کا مزاج
ہجومِ جلوہ ہے اور نیند آئی جاتی ہے

نکالتی نہیں کیوں خال و خد کہ جب شب و روز
حرم کے چاک پہ اُمّت چڑھائی جاتی ہے

دبائے بیٹھی ہے جس کو ابھی سیاہیِ شب
مجھے وہ صبحِ درخشاں دکھائی جاتی ہے