غزل

یہ تحریر 274 مرتبہ دیکھی گئی

اپنی وحشت سے جو ڈرتا ہی چلا جاتا ہے
دل کے صحرا میں بکھرتا ہی چلا جاتا ہے

اس کی باتوں کا دیا جلتا ہے جب آنکھوں میں
شہر شب نور سے بھرتا ہی چلا جاتا ہے

کم نہیں مے سے محبت میں خیالوں کا نشہ
آدمی حد سے گزرتا ہی چلا جاتا ہے

تیری آواز کے شاداب جہانوں سے پرے
کوئ ویرانی سے بھرتا ہی چلا جاتا ہے

دھوپ اس شہر کی گلیوں میں کہاں ٹھہرے گی
ساۓ پر سایہ اترتا ہی چلا جاتا ہے

وقت کا یہ ہے کہ ہر تلخی و شیرینی سمیت
سلسلہ وار گزرتا ہی چلا جاتا ہے

وصل کا ایک اشارا بھی بہت ہے ہم کو
ہجر کا زخم تو بھرتا ہی چلا جاتا ہے