غزل

یہ تحریر 129 مرتبہ دیکھی گئی

“ناحق کو خوں لیا میں سر پر کبوتروں کا”*
کابک سے آلگا ہے پتھر کبوتروں کا

تنظیم جاں میں کوئی تحریف ہورہی ہے
تبدیل ہورہا ہے پیکر کبوتروں کا 

کنگنی’ منڈیر’ زینے سارے کبوتروں کے
مسجد کبوتروں کی منبر کبوتروں کا

متروک ہے تکلم’ ممنوع ہے اشارت
ہے داخلہ معطل اندر کبوتروں کا

بھٹکے نہیں کبھی گر یہ نقرئی ستارے
ہوگا فلک پہ کوئی رہبر کبوتروں کا

کچھ حوصلہ فزائی اس بے دیار کی بھی
کوئی تو خیر مقدم  بے در کبوتروں کا

ہے کائنات بے شک ان کی مطیع’ جن کی
املاک میں ہے حصہ بے زر کبوتروں کا

اس خواب کی حقیقت کھل کر  نہ دے تو اچھا
خاشاک پر بچھا ہے بستر کبوتروں کا

پاس ادب نے رکھا تشبیہ سے گریزاں
آیا خیال لیکن اکثر کبوتروں کا

اس بے طریق رہ میں کم تو نہیں یہ نسبت
قبلہ جدھر ہمارا اودھر کبوتروں کا