غزل

یہ تحریر 128 مرتبہ دیکھی گئی

o

یادِ نشاطِ وصل یا ہجراں کے آس پاس
ہم نے گزار دی انھی گزراں کے آس پاس

رکھ دی تھیں میں نے اپنی نگاہیں وہیں کہیں
اس شہر میں کہیں درِ جاناں کے آس پاس

ہم ڈھونڈتے ہی رہ گئے لیکن نہ جا ملی
اس کنجِ لب نہ سایہ مژگاں کے آس پاس

دیوار و در پہ نقش تھی زنجیر کی صدا
اک چیخ تھی رکی کہیں زنداں کے آس پاس

میں دیکھتا اسے یہ کہاں مجھ میں تاب تھی
ٹھیری نگاہ سایہ داماں کے آس پاس