غزل

یہ تحریر 220 مرتبہ دیکھی گئی

بھُول جاتا ہُوں کہِ پہلے بھی مِلا ہوں تجھُ سے
تُو نے رکھّا ہے یہ اَسرار ملاقات میں کیا

یاد کرتے ہیں تِرے چاہنے والے پَسِ شب
یاد ہے رنگ مَلامت تھا شُروُعات میں کیا

اَے خُدا یوُرش آلام سے مطلب کیا ہے
تو رہے ہم نہ رَہیں شہرِ خرابات میں کیا

راستہ بھُولتے پِھرتے ہیں مُسافر سرِ شام
ہَم نے رکھّا ہے قدم قریہئ آفات میں کیا

خوں کی بُو آتی ہے رُخصت کے اشارے سے مجھے
دوست! آگے کوئی دُشمن ہے مِری گھات میں کیا

حد سے حد یہ ہے کہ مِٹّی میں مِلا دے گا مجھے
اَور رکھا ہے زمانے کی کرامات میں کیا