غزل

یہ تحریر 77 مرتبہ دیکھی گئی

یہ گریباں ہے یہ داماں ہے خبردار رہو
”آخِرِ کار بِیاباں ہے خبردار رہو“

یہ جو چلتے ہو سَرِ شہر اُٹھائے ہُوئے سَر
دعوتِ دار کا ساماں ہے خبردار رہو

مَیں کوئی دم میں اُلٹنے کو ہوں دُنیا کی بِساط
سَر میں سَوداے فَراواں ہے خبردار رہو

وُہ زمانے کا ستم تھا سو اُٹھایا، مگر اَب
چشمِ بیمار گُریزاں ہے خبردار رہو

اَپنے اَطراف یہ رونے کی صَدا کیسی ہے
راستے میں کوئی طُوفاں ہے خبردار رہو

تُم کہو گے تو ہم اِس بزم سے اٹھ جائیں گے، پر
یہ سُخنَ غَیر کے شایاں ہے خبردار رہو

مُنعمو روک رکھو ہاتھ کوئی دم، کہ ِادھر
شکوہء تنگیِ داماں ہے خبردار رہو