غزل

یہ تحریر 213 مرتبہ دیکھی گئی

مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے
لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا کر گئے تھے
اُس نے جو بام پہ آ جانے کی زحمت کی تھی
ہم اناگیر بھی دیوار گرا کر گئے تھے
زیرِلب جلتے ہوئے شکوے تھے کتنے لیکن
روبرو یار کے آواز بجھا کر گئے تھے
ہم کو معلوم تھا کہ جنگ یہی آخری ہے
وحشتِ رخت سے دامن کو چھڑا کر گئے تھے
ہم پہ تھی سہل ہوئی دار و رسن کی مشکل
اسمِ منصور کا تعویذ کرا کر گئے تھے