غزل

یہ تحریر 155 مرتبہ دیکھی گئی

مہ و ستارہ و گل بن کے آرہے ہو تم
ہمارا آئنہ دل سجا رہے ہو تم
زوالِ شام کوئی نوحہ پڑھ رہا ہوں میں
حضورِ صبح کوئی گیت گا رہے ہو تم
میں چن رہا ہوں چمن میں خزاں رسیدہ پھول
صبا کے طشت سرِ گل سجا رہے ہو تم
نہیں ہو تم تو نہ ہوگا کسی سے اس کا علاج
مرے مرض کی ہمیشہ دوا رہے ہو تم
اب اُس دریچہء دل میں بہت اندھیرا ہے
بہت دنوں جہاں جلوہ نما رہے ہو تم
میں دل گرفتہ اِدھر خاروخس کی بھیڑ میں ہوں
ہجومِ گل میں اْدھر مسکرا رہے ہو تم
اِدھر میں سارے چراغوں کو کر رہا ہوں خموش
اُدھر بجھی ہوئی شمعیں جلا رہے ہو تم
اِدھر تو ڈوب رہے ہیں مرے جہاز، اُدھر
سفینے اپنے کنارے لگا رہے ہو تم
پرندگانِ شجر سب ہیں گوش بر آواز
دمِ صباح کہیں گنگنا رہے ہو تم
یہ آئنہ تو سجایا ہوا ہے میرا جسے
دلِ ستارہ نشیں کو دکھا رہے ہو تم
کبھی بھی کوئی بھی پوشاک تم نے پہنی ہو
مگر مرے لیے گل کی قبا رہے ہو تم
جدا بدن سے ہوئی ہے نہ روح ہوگی کبھی
غلط یہ بات کہ مجھ سے جدا رہے ہو تم
تمہیں ہو کیسے بلا خیزیوں کا اندازہ
مری طرح کسی طوفاں میں کیا رہے ہو تم
کسی کو کیا ہے دکھانا کمالِ چارہ گری
جو میرے زخم پہ مرہم لگا رہے ہو تم
ہوا ہے بارہا ایسا انیس کو محسوس
کہ جیسے دل میں دبے پاؤں آ رہے ہو تم