غزل

یہ تحریر 378 مرتبہ دیکھی گئی

بھولی بسری ایک کہانی سن رکھی ہے
دل نے اک دیوار گریہ چن رکھی ہے
عمر کے چرخے پر خواہش کے دھاگے سے
میں نے سمجھوتے کی چادر بن رکھی ہے
جس کی لے پر بے خود ہو کر جھوم اٹھے من
عشق کے سر منڈل میں ایسی دھن رکھی ہے
دیکھ سکو تو کلیوں کے چہرے دیکھو
بھنورے کی بانی میں کیا گن گن رکھی ہے
دل کا تو کیا یہ جیون بھی رقصاں لرزاں
تیرے پگ کی پایل میں وہ چھن رکھی ہے